Daily Mashriq


خراٹوں کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

خراٹوں کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

خراٹے ویسے تو کسی بھی شخص کو پسند نہیں خاص طور پر گھر میں کوئی اس عارضے کا شکار ہو تو دیگر افراد کی نیند خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تاہم یہ یاداشت متاثر کرنے کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

RMIT یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ خراٹے لینے کے عادی افراد کو ماضی کی یادیں دہرانے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق آبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا (او ایس اے) (خراٹوں کی بڑی وجہ) کی یاداشت بدترین ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد کو مخصوص تفصیلات جیسے ساتھیوں کے نام یا گھر اور گلی کا نمبر یاد کرنے میں مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ او ایس اے کے نتیجے میں جب کوئی خراٹے لیتا ہے تو تو دماغ تک آکسیجن کی فراہمی منقطع ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے نتیجے میں دماغ کے گرے میٹر متاثر ہوتے ہیں جو کہ یاداشت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 44 افراد کا جائزہ لیا گیا جو کہ او ایس اے کے شکار تھے اور دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں ان کی بچپن کی یادیں ذہن سے محو ہوچکی ہیں۔

جب ان افراد سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مخصوص تفصیلات دہرانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اسی عمر کے صحت مند افراد کو اس طرح کے مسائل کا سامنا بہت کم ہوتا ہے اور وہ عام طور پر تفصیلی یادیں دہرانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

اس سے قبل امریکا کے ہنری فورڈ ہاسپٹل کی تحقیق کے مطابق خراٹے عام طور پر رات کو نیند کے دوران جسم میں آکسیجن کی کم مقدار جذب ہونے کے نتیجے میں عادت بنتے ہیں جس کے دوران سانس چند لمحوں کے لیے رکتی ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ خراٹوں سے گلے میں شہہ رگ کو نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں فالج اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ خراٹوں کے نتیجے میں شہہ رگ کو تمباکو نوشی، ہائی کولیسٹرول یا موٹاپے سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور یہ وہ رگ ہے جو دماغ کو خون پہنچاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خراٹوں کے نتیجے میں شہہ رگ کی موٹائی میں اضافہ ہوتا ہے اور اکڑن پیدا ہوتی ہے جو مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

متعلقہ خبریں