یہ قانون آخر بنے گا کب؟

یہ قانون آخر بنے گا کب؟

فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کیلئے نیا قانون متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے تحت ججوں اور گواہوں کی شناخت مخفی رکھی جائے گی۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ نے بی بی سی کیساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ نئی قانون سازی کے لیے مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں جرائم کے مقابلے میں قانون میں اسقام اور قوانین کی موجودگی میں اس پر عمل در آمد میں تجاوز اور اس کا غلط استعمال دو ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق ایوان اور مقننہ سے ہے ۔ قوانین کو بہتر بنانے اور جاری حالات اور صورتحال سے ہم آہنگ بنانے میں کیا امر مانع ہے اسکا جواب حکومت اور اراکین اسمبلی ہی دے سکتے ہیں۔ پشاور میں سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد دو سال کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد دہشت گردوں کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچا نا تھا ۔اگر چہ فوجی عدالتوں پر مختلف نوعیت کے اعتراضات اٹھائے جاتے رہے جو اپنی جگہ لیکن اس سے قطع نظر فوجی عدالتوں نے بعض رکاوٹوں کے باوجود احسن طریقے سے مقدمات نمٹانے کی ضرورت پوری کی۔ تمام تر تنقید سے قطع نظر اس امر کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ خصوصی حالات میں خصوصی نوعیت کا یہ اقدام با مر مجبوری غلط نہ تھا ۔ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں میں بلا امتیاز ایسے عناصر شامل تھے جو سنگین نوعیت کے واقعات میں ملوث پائے گئے ۔فوجی عدالتوں کی جانب سے ٹرائل کے دوران جن افراد کو سزائے موت اور عمر قید دی گئی ان کا تعلق القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، جماعت الحرار، توحید جہاد گروپ، جیش محمد،حرکت الجہاد اسلامی، لشکر جھنگوی، لشکر جھنگوی العالمی، لشکراسلام اور سپاہ صحابہ سے تھا۔فوجی عدالتوں نے جن اہم اور معروف مقدمات کا ٹرائل کیا ان میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول حملہ، صفورہ بس حملہ، سماجی کارکن سبین محمود کا قتل، معروف صحافی رضا خان رومی پر حملہ، بنوں کی جیل پر ہونے والا حملہ، راولپنڈی کی پریڈ لین مسجد میں بم دھماکا، ناگا پربت بیس کیمپ پر غیر ملکیوں کا قتل، مستونگ میں اہل تشیع کمیونٹی پر ہونے والا حملہ، اورکرزئی ایجنسی میں فوجی ہیلی کاپٹر پر حملہ، پشاور میں پی آئی اے کے طیارے پرحملہ، میریٹ ہوٹل دھماکا، کراچی ایئر پورٹ حملہ، فرقہ وارانہ دہشت گردی، قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پولیو کی ٹیموں اور تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملے شامل ہیں۔اب جبکہ فوجی عدالتیں اپنی مدت میں توسیع نہ ملنے پر نہیں رہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جن مقاصد کے حصول کے لئے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں وہ پوری ہوئیں۔ کیا پولیس اور نظام عدل میں جو اصلاحات لائی جانی تھیں ان دوسالوں کے دوران حکومت اور اراکین پارلیمنٹ اور نقا دوں و نکتہ چینو ں نے کوئی ایسی متبا دل راہ تلاش کی کہ فوجی عدالتوں کے خاتمے کے بعد دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا نے میں کوئی خلا نہ آئے ۔ ان سوالات کا جواب ہر گز نہیں کی صورت میں ایک بڑے نفی میں ہے ۔ خیال رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کے حملے کے بعد 6 جنوری 2015 کو آئین میں 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ 2015 (ترمیمی) کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد فوجی عدالتوں کو خصوصی اختیارات دیے گئے تھے جس کا مقصد ان سول افراد کا ٹرائل کرنا تھا جن پر دہشت گردی کے الزامات تھے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے متفقہ طور پر ووٹ دیے تھے، اس کے باوجود کہ انہیں اس بات خطرہ لاحق تھا کہ یہ عدالتیں مشتبہ افراد کے خلاف ٹرائل چلانے کے ساتھ جمہوریت کو کمزور بھی کرسکتی ہیں۔یاد رہے کہ نہ تو حکومت کی جانب سے اور نہ ہی فوج کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے آیا ہے جس میں سویلینز کے خلاف ٹرائل کیلئے قائم کی جانے والی خصوصی فوجی عدالتوں کے اختیارات کے اختتام کے حوالے سے کچھ کہا گیا ہو۔وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دہشت گردی کے مقدمات ٹرائل کیلئے انسداد دہشت گردی کی متعلقہ عدالتوں کو بھیجے جائیں گے جنہیں ایسے مقدمات کے ٹرائل کا مینڈیٹ حاصل ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو سالوں کے درمیان آخر وہ کیا مشکلات اور مصلحتیں تھیں جو انسداد دہشت گردی قوانین، قوانین شہادت پولیس کا نظام تفتیش بہتر بنانے اور ججوں اور وکلاء کی شناخت کو خفیہ رکھنے میں اٹھائی نہ جاسکیں جس پر اب حکومت غور کرنے جا رہی ہے اور ممکن ہے حکومت مدت اقتدار کا آخری سال ان پر غور و حوض میں گزارے اور انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین نہ بن پائیں۔ یہ بدگمانی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تنقید تو بہت کی جاتی ہے فوجی اور خصوصی عدالتوں کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر ایسے قوانین بنائے جانے کی سعی نہیں کی جاتی جو حالات کا تقاضا ہوں۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ ہی کو لے لیجئے اسے غیر موثر بننے کی ایک بڑی وجہ اس قانون کے تحت غیر حقیقی مقدمات کا اندراج بھی ہے۔ اگر اس ایکٹ کے تحت حقیقی معنوں میں ہی مقدمات کا اندراج کرکے بروقت فیصلے کئے جاتے مستزاد ان دو سالوں کے دوران پارلیمنٹ سے مناسب قانون سازی ہو جاتی اور فوجی عدالتوں کے اختتام پر ایک آئینی متبادل راستہ نکالا جاتا تو یہ سوال نہ اٹھتا۔ حکومت کو چاہئے کہ جس قانون کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے اسے جلد سے جلد مکمل کرکے ایوان سے منظوری لے کر نافذ کیا جائے جس کے تحت دہشت گردی کے واقعات کا اسقام دور ہو سکے اور ملوث عناصر کو سزا دی جاسکے۔

اداریہ