Daily Mashriq


آپریشن'' ضرب ِقلم'' مگر کیسے؟

آپریشن'' ضرب ِقلم'' مگر کیسے؟

وزیر اعظم میاں محمدنوازشریف نے اسلام آباد میں اکادمی ادبیات کے زیراہتمام چوتھی بین الاقوامی ادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ملک کوآپریشن ضرب قلم کی ضرورت ہے ۔انتہا پسندی معاشرے میں عدم برداشت اور دہشت گردی کا باعث بنتی ہے ۔نئی نسل کے دلوں میں امید کی شمعیں روشن کرنا ہوں گی۔گویاکہ وزیر اعظم یہ کہہ رہے تھے کہ ملک میں آپریشن ضرب عضب اپنا کام اور ٹاسک پورا کرگیا ہے اور اب قوم کو آپریشن ضرب قلم کی ضرورت ہے ۔جس میں قلم کاروں کا کردار بڑھ گیا ہے ۔بلاشبہ کسی قوم کو امید اور رجائیت کے راستوں اور منزلوں سے آشنا کرنے میں اہل قلم کا کردار اہم ہوتا ہے ۔ادیب ،دانشور ،شاعر ،صحافی ،ڈرامہ نگار محققین اور مورخین کسی قوم کی ذہن سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔ان کی تحریریں دلوں کے تار چھیڑتی اور ان کے دماغوں کو تسخیر کرتی ہیں ۔وہ سوچ کا جو زاویہ دکھاتے ہیں معاشرہ اسی کو اپنا شعار بنا لیتا ہے ۔نئی نسل کے لئے قلم کار کی تحریر راہنمائی کا کام دیتی ہے ۔آج تخلیق ہونے والا ادب اور آج رقم ہونے والی تحریر آنے والے کل اور آنے والی نسل کے لئے تاریخ اور معتبر حوالہ قرار پائے گی ۔تاریخ کے طالب علم ،تحقیق کے متلاشی اور علم کی پیاس میں مبتلا نسلیں ان لفظوں سے روشنی حاصل کرتی ہیں ۔اس لئے ایک قلم کار کو خود اپنا ناقد او ر محتسب ہونا چاہئے ۔وہ کسی وقتی مصلحت اور منفعت،فرمائش اور فہمائش کی خاطر سچ کو توڑ مروڑ کر پیش کرے گا تو وہ بدترین خیانت کا مرتکب قرار پائے گا ۔وہ وقتی مصلحت اور ضرورت کے تحت آنے والی نسلوں کو گمراہی میں مبتلا کرنے کے جرم کا قصور وار قرار پائے گا ۔وہ خود تو حروف کو سپرد قلم کرکے شاید بھول جائے گا مگر اس کے حرف تاریخ کا ریکارڈ بن چکے ہوتے ہیں ۔بدقسمتی سے آج پاکستانی معاشرہ دیانت اور اخلاقی اعتبار سے کسی اعلیٰ مسند پر فائز نہیں ۔حکومتوں ،اداروں ،سیاسی تقاضوں اور مصلحتوں نے ایک قلم کار سے شان ِقلندری اور سچ لکھنے کی طاقت چھین لی ہے ۔قلم کار اپنا مقام بھول اور اپنے ہتھیار کی قدر واہمیت فراموش کر چکا ہے ۔یہ ہتھیار جب قلندرانہ ادائوں کے حامل لوگوں کے ہاتھ رہا تو اس دور کا معاشرہ حریت فکر کی تصویر بنا رہا ۔معاشرہ اہل جاہ وحشم کے ناروا اقدامات کے آگے سینہ سپر رہا ۔وہ معاشرے کی اعلیٰ اقدارکو بلڈوز کرنے کی کوششوں کے آگے چٹان بن کر کھڑا رہا ۔یہی ہتھیار جب پیٹ کے پجاریوں اور مصلحت کے اسیروں کے ہاتھ لگا تو معاشرہ مصلحت کوشی کے روبوٹس کی شکل اختیار کرگیا۔جس میں حساسیت کی جگہ بے حسی نے گھر کر لیا ،حق گوئی اور بے باکی کی جگہ مصلحت اور رُوباہی لیتی چلی گئی اور یوں معاشرہ زوال کی راہوں پر پَر لگا کر اُڑتا چلا گیا۔پاکستان میں عالمی اور علاقائی ضرورتوں نے اہل قلم سے حق گوئی کے تمام اوصاف چھین کر اس کے قلم کو گنگ اورزبان کو بانجھ بنا ڈالا۔گزشتہ دو عشروں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر یونی پولر دنیا اور کارپوریٹ کلچر نے جو طوفان بدتمیزی برپا کیا اس میں این جی اوز اور پروجیکٹس اور تفریحی اور مطالعاتی دوروں کے نام پر قلم کاروں کے قلم بانجھ اور زبانیں گنگ کردی گئیں ۔اس کلچر میں قلم کار جدیدیت ،امن ،دہشت گردی کی مخالفت کے نام پر بروئے کار آنے لگے بلکہ کرائے پر دستیاب ہونے لگے ۔جو بیانیہ مغرب کی اس جنگ میں ان کی ضرورت کے تحت جاری ہوا ہمارے ملک کے قلم کاروں نے اسی کے عین مطابق ڈرامے تخلیق کئے ،کالم لکھے ،شعراور افسانے رقم کئے ۔جس سے عام آدمی کا کنفیوژن بڑھتا چلا گیا ۔ خود ہر دور کے حکمرانوں نے اپنے سیکرٹ فنڈز کو قلم کاروں کو خریدنے کے لئے استعمال کیا۔ان فنڈز سے اپنے ہمنوائو ں اور طبلہ نوازوں کی ایک فوج کھڑی کرنے کی کوشش کی ۔جو اپنے قلم سے وہی دکھاتے رہتے ہیں جو حکمران دیکھنا اور وہی سناتے ہیں جو وہ سننا پسند فرماتے رہے ہیں ۔یہ زندہ معاشروں کی علامت نہیں ہوتی ۔ ایک قلم کار کے لئے موجودہ منظر نامہ تین انداز سے تبدیل ہو رہا ہے اول یہ کہ عالمی منظر تیزی سے بدل رہاہے بلکہ بڑی حد تک بدل چکا ہے ۔یونی پولر دنیا کی جگہ ملٹی پولر ہو گئی ہے اور یونی پولر دنیا کی ضرورت اور مصلحت کے تحت جاری بیانیہ اب دنیا کا واحد سچ نہیں رہا ۔یہ دورخی تصویر کا ایک پہلو بن کر رہ گیا ہے ۔مثلاََ آٹھ برس پہلے دنیا کے تہذیب کدوں سے مسعود اظہر کو دہشت گرد کہا جاتا تھا تو اقوام متحدہ کے ایوان سے پاکستان کی کالم نویسوں اور ٹی وی سٹوڈیوز تک سب یہی تسبیح پڑھتے تھے ۔آج چین کی صورت میں دنیا کی اُبھرتی ہوئی طاقت اور معیشت اس بیانیے کو حقارت سے مسترد کر چکی ہے اور دنیا حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہی ہے۔یہ دنیا کی بدلی بدلی فضاء ہے ۔شاید چین مسعود اظہر کے معاملے میں کچھ مشکوک ہو مگر وہ دنیا کو مناظر میں تبدیلی کا خوش گوار احساس دلانا چاہتا ہے۔ دوئم عالمی منظر کی تبدیلی کے بعد ملکی منظر میں تبدیلی روبہ عمل ہے اور اس میںآپریشن ضرب عضب کاحصہ ہے۔اس بدلے ہوئے منظر میں قلم کاروں کو دانۂ دام ڈالنے کا رواج کم ہوتا چلا جائے گا۔ اب این جی او کلچرقاعدوں اور ضابطوں میں ڈھل رہا ہے۔سوئم یہ کہ اب قلم اور اظہار پر صرف مستند قلم کار کی اجارہ داری قائم نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا کی صورت میں ہر فرد ناقد اور قلم کار بن گیا ہے ۔ہر شخص کو قوت گویائی اور قوت اظہار مل گئی ہے۔ سی پیک کو''داغ ِدل ''بنانے والوں نے بھی ہار نہیں مانی کچھ عجب نہیں کہ وہ اپنا بیانیہ ازبر کرانے کے لئے دانہ ٔ دام مختلف طریقوں اور انداز سے پھینکنے کا سلسلہ جاری رکھیں ۔مگر اب بڑی حد تک بدلی ہوئی فضا ء میں قلم کاروں کو اپنا کردار از سرنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔آپریشن ضرب قلم ایک مسلسل عمل کانام ہے ۔ بلاشبہ یہ یہ ہر دور میں جاری رہتا ہے اور رہنا چاہئے مگر حکومتوں کی طرف سے نوکِ قلم کو چمک کی زنجیر پہنانے کی روش کو ترک کئے بغیر قلم میں کاٹ اور اس کی ضرب میں کاری پن پیدا ہونا ممکن ہی نہیں۔

متعلقہ خبریں