Daily Mashriq


موت ،زندگی ،محبت اور انسان

موت ،زندگی ،محبت اور انسان

انسان کو اشرف المخلوقات کا منصب عطا ہوا ہے اور جس کی تخلیق پر خو د خالق'' احسن تقویم ''کے الفاظ سے ناز کرتا ہے حالانکہ اس کی تخلیقات کا شمار ہی ممکن نہیں ہے اور کیسی کیسی عظیم الشان تخلیقات اس خلاق کی خلاقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔بے شک انسان واقعی ممتاز ہے اللہ کی تمام مخلوقات سے ۔انسان ظلم بھی کرتا ہے ، ناانصافیاں بھی کرتا ہے لیکن انسان محبت بھی تو کرتا ہے ۔محبت کے کتنے رنگ ہیں شاید انہیں شمار بھی نہ کیا جاسکے ۔ محبت ایک ایسی فورس ہے کی جس کی بنیاد پر زندگی کا پہیہ چل رہا ہے ۔ گزشتہ دنوں پرو فیسر صبیح احمد کے فون نمبر سے میسج ملا کہ عزیزی غلام دستگیر کی جوانسال بیٹی انتقال کرگئی ہیں ۔جنازہ تو ہوچکا تھا اسی سہ پہر ان کی طرف روانہ ہوگئے ۔ سواتو پھاٹک تک جانے ،وہاں دس پندرہ منٹ بیٹھنے اور واپس آنے میںدو گھنٹے لگ گئے ۔ ٹریفک اتنی زیادہ نہ تو تھی مگرشہر سے جانے اور آنے کے دوران آٹھ مقامات پر چیک پوسٹوں کی وجہ سے بلاجواز رش میں گھِرے رہے ۔ بہرحال ہم نے اب تو کڑھنا ہی چھوڑ دیا ہے جب اس شہر میں جینا ہے تو اس کی تمام تر خامیوں ، کجیوں اور کمیوں کو قبول کرنے میں کیا مضائقہ ہے ۔ کیونکہ اب تو اپنا شہر ہی اجنبی ہے ۔ غلام دستگیر حوصلے والا بندہ ہے ۔ دعاکے لیے آنے والوں کے لیے اٹھتا بھی ہے ان سے بات بھی کرتا ہے ۔اس کے چہرے پر اس کے دکھ کے اثار موجود ہیں لیکن وہ کوشش کررہا ہے کہ اپنے اعصاب کو سنبھال کررکھے ۔پچاس دن قبل بیٹی کودلہن بناکرگھر سے رخصت کیا اور آج وہ اسی جوانسال بیٹی کو جو ایم اے انگلش کرنے کے بعد لیکچرار ہوچکی تھی، اسے لحد میں اتارآیا تھا۔ہاں اس کی عمر نہ تھی کہ اسے منوں مٹی تلے اتارا جاتاکہ ابھی تواس کی سیج کے پھول بھی نہیں مرجھائیں ہوں گے ۔بے شک اللہ اپنے کاموں پر خوب سمجھتا ہے ۔اسے اپنی اس بیٹی سے بہت پیار تھا ۔وہ بلاتکان مجھ سے اپنی بیٹی کی خوبصورت باتیں شیئر کررہا تھا ۔وہ ساری زندگی اب اسے یاد کرتا رہے گا ۔ اولاد کی جدائی کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا ۔ دستگیر حلال اور حرام میں فرق رکھنے والے سرکاری ملازموں میں شمار ہوتا ہے ۔ وہ غیر محسوس انداز میں اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار خود کوسمجھ رہا ہے ۔اسے یقین ہے کہ اللہ اس کی دعاؤں کورد نہیں کرتا ۔وہ کہہ رہا تھا کہ وہ ہمیشہ یہ دعا کرتا ہے کہ اللہ میری زندگی میں میرے گھر سے کوئی جنازہ نہ نکلے ۔اس کی بیٹی پچاس دن پہلے اس کے گھر سے نکلی تواجل کا شکار ہوگئی ۔اب وہ کہتا ہے کہ اس نے اپنی دعاؤں میں یہ ترمیم کردی ہے کہ اللہ میرے کنبے کے کسی فرد کی موت میری زندگی میں نہ ہو۔موت سے بہرحال کس کو رستگاری ہے ۔ہر کسی پر موت نے آنا ہے مگر زندگی کے میلے میں موت کم ہی ہمیں یادرہتی ہے ۔ اسی ہفتے ایک قریبی عزیزہ کی فوتگی پر ایک عجیب احسا س سے آشنا ہوا ۔وہ عزیزہ تقریباًساٹھ برس تک جینے کے بعد اللہ کو پیاری ہوئیں ۔بچپن ہی سے ذہنی کمزوری کا شکار رہیں اور ساری زندگی اسی عارضے میں گزری۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ ساٹھ برس تک ایک ایسے مریض کو پہلے اس کی ماں نے پھر بھائی ،بھابھی اور بھتیجے بھتیجیوں نے سنبھالے رکھا ۔ اس کی تمام ضرورتوں ،احتیاجوں کو پورا کیا ۔ اس کے شعور کی کمی بیشی اس کے اپنوں نے پوری کردی اور اس چاردیواری کے اندر اس مریضہ کی حیا عزت والی زندگی گزر گئی او ر وہ زندگی سے موت کے سفر پر گامزن ہوگئی ۔یہ انسانی محبت اور اپنائیت کا کتنا خوبصورت حوالہ ہے کہ آج بھی اس مریضہ کے انتقال پر اس کے لواحقین آزردہ تھے جس کی خدمت ساٹھ برس تک وہ خاندان کرتا ہے ،واقعی انسان اشرف المخلوقات ہونے کا صحیح حقدار ہے ۔پروگریسیو مائکلونک ایپی لیپسی ایک جنیٹیکل بیماری ہے کہ جس میں تندرست بچہ اٹھارہ انیس سال کی عمر میں اس بیماری کاشکار ہوجاتا ہے ۔ پروفیسر اختر جان کے ایک دوست بھی اسی امتحان میں گزر رہے ہیں ۔ انتہائی غریب ہیں ۔ دوبرخوردار اس بیماری کا شکار ہوکراللہ کو پیارے ہوچکے ہیں ۔آج تیسرا بھی اللہ کو پیارا ہوگیا ہے ۔ محبت کتنا بڑا امتحان لیتی ہے ۔ اس شخص کے تین بیٹے اور بھی ہیں کہ جو ابھی اٹھارہ کو نہیں پہنچے وہ بچے ماں سے سوال کرتے ہیںکہ ماں اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچ کر ہم بھی موت کی وادی کو کوچ کرجائیں گے ۔ خدا جانے ماں اس کا کیا جواب دیتی ہوگی لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ سوال ماں کا کلیجہ ضرور چھیددیتا ہوگا۔کتنے آنسو ماں اپنی آنکھوں میں تیرنے سے قبل ہی ضبط کرلیتی ہوگی کہ ماں کب اپنے لخت جگروں کواپنی کمزوری دکھاسکتی ہے ۔ بہرحال یہ کیفیت دکھ سے لبریز تو ہے ۔ دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ اپنی مفلسی کے باوجوداور اس کے باوجودکہ ان کی اولاد اٹھارہ برس کا ہندسہ عبور نہیں کرتی مگر وہ اپنے باپ ہونے اور ماں ہونے کا اپنا فرض پوری تندہی اور محبت سے ادا کررہے ہیں ۔بلاشبہ اس کے پیچھے محبت کا لازوال جذبہ کارفرماہے ۔اللہ اس ماں اور اس باپ کے باقی کے تین بچوں کو اپنی بارگاہ میں سے زندگی عطا کردے کہ اس کی بارگاہ میں کوئی کمی نہیں ہے ۔بس امتحان ہے اللہ ایسے کٹھن امتحانون سے ہمیں بچائے رکھے ۔ زندگی اور موت کا ایک رشتہ تو بہرحال ہے کہ جس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔خو د دوجہانوں کے بادشاہ محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے برخوردار حضرت ابراہیم کی وفات پر اپنے آنسو ضبط نہیں کرپائے تھے کہ موت اور زندگی اور کائنات کے بارے میں سب سے زیادہ کلیئر تھے مگر باپ تو تھے جگر گوشہ کو مٹی کے سپر دکرتے وقت دکھی اور آزردہ ہوگئے ۔ اولاد کا دکھ تو بہرحال کسی پہاڑ کے بوجھ کب کم ہوتا ہے ۔

متعلقہ خبریں