Daily Mashriq


غضب تشدد کی عجب کہانی

غضب تشدد کی عجب کہانی

جیسے کہ ہمارے دوست پروفیسر جمیل یوسفزئی نے کہا ہے معصوم طیبہ کا تشدد زدہ چہرہ ہر اس شخص کے دل دماغ پر نقش ہو چکا ہے جس کے دل میں انسانیت کی تھوڑی سی رمق بھی موجود ہے۔ یہ چہرہ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کیا ہم آج بھی پتھر اور دھات کے زمانے میں رہتے ہیں۔قرون وسطیٰ کے دور غلامی سے گزر رہے ہیں۔ بتایاگیاہے کہ جب بچی پر اس بہیمانہ تشدد کا پرچہ کٹا تو اس ظلم کی مرتکب پارٹی نے بیچ میں روپیہ ڈال کر معاملہ رفع دفع کردیا اور متاثرہ خاندان سے صلح کے کاغذات پر دستخط لے لئے۔ اگر سوشل میڈیا اور پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر غضب تشدد کی اس عجب کہانی کو بار بار نہ دہرایا جاتا تو کسی کو اس وقوعے کی کوئی خبر نہ ہوتی اور بے شمار ظلم کی داستانوں کی طرح یہ کہانی بھی لوگ بھول جاتے۔ عدالت عظمیٰ کے منصب اعلیٰ کو جب اس وقوعے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد بلاتا خیر از خود نوٹس لیتے ہوئے مظلوم بچی کو انصاف فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس بچی پر جو گزری اس کی تفصیل میں جانے کی اس لئے بھی ضرورت نہیں کہ اس کی تصویر سے ہی ساری درد ناک کہانی سامنے آجاتا ہے۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ جب بچی پر ظلم ڈھایا جا رہا تھا تو اس کی چیخیں کس نے نہیں سنی ہوں گی۔ بچی نے جان بچانے کے لئے کتنی بھاگ دوڑ کی ہوگی۔ یہ سب کچھ سوچ کر نذیر ناجی نے بجا طور پر کہا ہے اس معصوم بچی کے زخموں کا درد سارے جسم میں کانٹوں کی طرح چبھنے لگتا ہے۔اس کے جلے ہوئے ہاتھوں کا درد بھی ہمارے اپنے ہاتھوں کے اندر کراہتا محسوس ہوتا ہے۔ صدیوں سے ظلم و جبر کے سہارے کھڑا یہ معاشرہ ہمہ وقت کمزوروں کی تاک میں رہتا ہے اور اکثر اپنا شکارڈھونڈ کر انسانیت کو کچلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس بچی کا زخم آلود چہرہ اور جلے ہوئے ہاتھ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اس پر یہ ظلم ڈھانے والے کو کیا نارمل کہا جاسکتا ہے؟ کہیں معصومہ کو دماغی ہسپتال کے کسی ایسے وارڈ میں تو نہیں دھکیل دیاگیا تھا جہاں خطرناک پاگلوں کو رکھا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ دس سال کی اس بچی کو اس کے والدین نے جن لوگوں کے سپرد کیا تھا چائلڈ لیبر کے سارے قوانین جانتے ہوئے انہوں نے اس بچی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیوں روا رکھا۔ یہ عمر تو بچوں کے کھیلنے کی ہوتی ہے۔ یہ تو ان کی معصوم شرارتوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں تو بچوں کے ناز اٹھائے جاتے ہیں۔ جن ہاتھوں سے ان دنوں بچی گڑیا گڑیا کھیلتی ہے سنگدلی دیکھئے کہ اس کے نازک ہاتھ گرم توے پر رکھ کر جلا دئیے جاتے ہیں۔ جرم اس کا صرف یہ تھا کہ ایک وسیع و عریض مکان میں وہ کہیں جھاڑو رکھ کر بھول گئی تھی۔ جی ہاں' جھاڑو' بالیقین اس کا دستہ سونے کا نہ ہوگا اورنہ اس میں تنکوں کی جگہ چاندی کے تار لگے ہوں گے۔ خاتون خانہ نے طیبہ کو دس بیس روپے کی جھاڑو گم کرنے کے جرم میں صرف اس کے نرم نازک ہاتھ گرم توے سے داغنے پر صبر نہیں کیا اس جرم عظیم کی سزا میں تیز دھار آلے سے اس کے چہرے پر زخم بھی لگائے۔ ظلم و تشدد کا یہ وقوعہ دارالخلافہ میں پیش آیا۔ یہ اس شہر کو کہتے ہیں جہاں خلیفہ اقامت پذیر ہو۔ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ جب حکمرانوں کی ناک کے نیچے اس قسم کا وقوعہ پیش آسکتا ہے تو ایسے دور دراز علاقے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بمشکل رسائی ہوتی ہے۔ وہاں انصاف کا حصول کیسے ممکن ہوگا اور خلیفہ وقت تک مظلوم کی آواز کیسے پہنچے گی۔ بلا شبہ جیسے کہ نذیر ناجی نے کہا ہے وطن عزیز میں ظالم اور مظلوم کی جنگ کئی صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ انت گنت مظلوم مختلف عنوانوں سے ظلم و جبر کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ ہم نے عرض کیا انصاف فراہم کرنے والے ایک فرد کے گھر میں ظلم کی جو داستان رقم کی گئی وہ ظالم و مظلوم کے مابین صدیوں پرانی جنگ کی اسی روایت کا تسلسل ہے۔ عدالت عظمیٰ کے درد دل رکھنے والے منصف اعلیٰ اس کی مدد کو آگے نہ بڑھتے تو نہ جانے اس ظلم کی داستان کا کتنا المناک انجام ہوتا۔ مزید کتنی بچیوں پر ظلم ڈھائے جاتے اور کسی کو کچھ خبر نہ ہوتی۔ حیرت ہمیں اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ وقوعہ ایک ایسے گھر میں پیش آیا جہاں ایک منصف مکین تھا وہ رات بھر انصاف فراہم کرنے والی کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہتا اور ان میں سے ایسے قانونی نکات تلاش کرتا جن کی روشنی میں وہ صبح انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر مظلوموں کی داد رسی کرسکے۔ منصف اعلیٰ نے بچی پر تشدد کے واقعے کو انسانی حقوق کے مقدمے میں تبدیل کرکے اسے کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دیدیا ہے۔ قوم اب غضب تشدد کے اس وقوعے میں انصاف کے سارے تقاضے پورے ہوتے دیکھنے کی منتظر ہے۔ ظالم کے ہاتھ کو گرم توے پر رکھنا اگر قانونی طور پر ممکن نہ ہو تو پھر بھی اسے قرار واقعی سزا دے کر نشان عبرت ضرور بنایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں