ڈونلڈ ٹرمپ کا دور اقتدار پاکستان کے لئے مواقع

ڈونلڈ ٹرمپ کا دور اقتدار پاکستان کے لئے مواقع

جس طرح نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے قبل اور ما بعد پاکستان میں تبصرے ہو رہے تھے کہ ان کے آنے سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے الیکشن کے دوران اس کے خیالات' تقاریر اور انٹرویوز وغیرہ کے حوالے سے عالم اسلام اور پاکستان کے حوالے سے خدشات و خطرات کا اظہار کیا جا رہا تھا لیکن پھر تان اس بات پر ٹوٹ جاتی کہ اس کے اقتدار میں آنے کے مواقع ہیلری کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ لیکن پھر وہ انہونی ہو بھی گئی اور یہ اتنی بڑی غیر متوقع بات تھی کہ امریکیوں کا ایک بڑا حصہ ٹرمپ کی کامیابی کو کھلے ذہن سے ماننے کو تیار نہ تھا۔ مظاہرے اور احتجاج ہوئے اور اگر چہ اب حالات تھم سے گئے ہیں لیکن حالیہ امریکی انتخابات نے امریکی قوم کو دو واضح حصوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ امریکی قوم کا ایک بڑا حصہ ہیلری کلنٹن کو کامیاب کرا کر اوبامہ حکومت کی گزشتہ آٹھ برسوں بلکہ بش کے دور کی جارحانہ پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے ۔

اوبامہ نے اگرچہ دوسری دفعہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ کیوبا کے ساحلی علاقوں میں گوانتا نامو جیل کو بند کرلیں گے۔ لیکن اوباما کی حالیہ چار برسوں میں جارحانہ پالیسیوں میں اس حد تک اضافہ ہوا کہ امریکہ چین اور روس کے ساتھ ایک دفعہ پھر 1970ء کی دہائی کی سیاست میں چلا گیا ہے۔ حالانکہ اوباما کے اقتدار میں آتے وقت دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کو یہ امید تھی کہ اوباما مشرق کی نفسیات جانتا ہے لہٰذا تیسری دنیا کے لئے اپنی پالیسیوں میں جوہری تبدیلی لائے گا۔ لیکن ہمارے ممدوح استاد ڈاکٹر عبدالمتین مرحوم کی بات سو فیصد سچی ہوئی جو انہوں نے اوباما کے بارے میں کہی تھی۔ آپ نے کہا تھا کہ اوباما افریقی نسلی پس منظر کے سبب گوروں سے زیادہ گوراثابت ہونے کی کوشش کرے گا جس کے اسلامی دنیا پر بہت مضر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ آج پوری اسلامی دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ جس انتشار کا شکار ہے اس کا بنیادی سبب گزشتہ آٹھ برسوں کی امریکی پالیسیاں ہیں اور اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اوباما حکومت نے جاتے جاتے بھی پاکستان کی پانچ کمپنیوں پر پابندیاں لگوا دی ہیں۔ لیکن اب جبکہ وائٹ ہائوس میں 20جنوری کو ایک نئی جماعت اور ایک اپنی نوعیت کے اپنے مزاج کے شخص (ٹرمپ) کی حکومت شروع ہوگی تو اس کے انتخابی بیانات کے پیش نظر تو اسلامی دنیا کے لئے کوئی اچھی خبر مشکل ہی سے آئے گی لیکن جہاں خطرات ہوتے ہیں وہاں مواقع بھی ہوتے ہیں۔اب اس وقت کہ ٹرمپ اور مودی (بھارت) کے درمیان ابتدائی مراحل میں بڑی گرم جوشی کی علامات سامنے آئی تھیں لیکن شاید کسی اچھے مشیر نے ٹرمپ کو اس قسم کے یکطرفہ ''اظہار محبت'' میں احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دے کر بہت اچھا کام اس لحاظ سے کیا تھا کہ اس خطے میں پاکستان بھی ہے جس کی ہر حال میں بڑی اہمیت ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران پاکستان اور اہل پاکستان کے بارے میں جن جذبات کا اظہار کیاگیا وہ اس کے انتخاب مہم کے دوران خیالات سے بالکل الگ تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کی شخصیت میں سلور لائینگ موجود ہے اور اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر پاکستان کی وزارت خارجہ اپنی پالیسیاں ایسی بنیادوں پر تشکیل دیں جس میں خودی کو ایک اہم مقام حاصل ہو اور اس اہم محکمہ میں ایسے افراد ہوں جو دلیل ومنطق اور ایمانی قوت سے مسلح ہو اور ٹرمپ کے سیکرٹری سٹیٹ وغیرہ سے خودد اری کے ساتھ بات کر سکیں ۔ ٹرمپ سے اگر پاکستان تین چار اہم باتیں بنوانے میں کامیاب ہو جائے تو جنوبی ایشیا میں بہت بڑا انقلاب آجائیگا ۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے کہ ایشیا میں مسئلہ کشمیر دنیا کے امن کے لئے فلش پوائنٹ ہے ۔ لہٰذا اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل در آمد کروایا جائے ۔ اس طرح آپ دنیا میں امن کے قیام کے حوالے سے عالمی ہیروکا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ کو بتایا جائے کہ پاکستان نے آج تک امریکہ کی دوستی میں بہت بڑا خسارہ اُٹھا یا ہے لیکن امریکہ نے کبھی بھی پاکستانی عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان کی دوستی کا حق ادا نہیں کہا ہے لہٰذا اب موقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی طرف سے کفارہ ادا کرتے ہوئے پاکستانی عوام میں امریکہ کی قبولیت اور مقبولیت کے لئے کام کرے ۔
ٹرمپ دل میں منقسم ہے ۔ اُسے احساس ہے کہ امریکہ میں بہت بڑی اکثریت اور دنیا بھی اس کے خلاف ہے لہٰذا اس کی اس کیفیت سے بھی فائدہ اُٹھا یا جا سکتا ہے ۔ مسئلہ افغانستان کی حقیقت اور اس میں پاکستان کے کردار اور نقصانات اُٹھانے کے بارے میں اگرمدلل اور شائستہ زبان میں بتا یا جائے کہ افغانستان کا مسئلہ طالبان اور پاکستان کی شمولیت کے بغیر حل نہیں ہوگا ۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی جسے امریکہ نے ختم کیا تھا اور کرزئی اور اشرف غنی کو افغانستان پر مسلط کیا جو افغانوں کے اصل نمائند ے نہیں ہیں اور دونوں کی حکومت کے عمال و وزراء سخت کرپٹ ہیں جو امریکہ اور دنیا کے دیگر ملکوں کے کروڑوں اربوں کے فنڈز کو عیاشیوں پر ضائع کر رہے ہیں ، لہٰذا ضرورت اس با ت کی ہے کہ طالبان پاکستان ، روس ، چین اور دیگر متعلقہ ملکوں اور عناصر کے ساتھ مل کر مذاکرات شروع کئے جائیں تا کہ اس مسئلہ کو حل کیا جا سکے جس سے دنیا کا امن وابستہ ہے ۔ افغانستان میں امن کے ساتھ بھارت اور پاکستان میں بھی تعلقات بہتر ہوں گے اور سی پیک سے خطے کے سارے ممالک استفادہ کر سکیں گے۔ یوں امریکہ کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن کے قیام کے حوالے سے امر ہو جائیں گے ۔

اداریہ