Daily Mashriq

امریکہ کابڑھتا ہوا دباؤ

امریکہ کابڑھتا ہوا دباؤ

سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک فعال نہیں ہے۔ یہ بات اس سے پہلے بھی مختلف سرکاری عہدیدار کہہ چکے ہیں۔ اس اعلان کی صداقت وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی اس پیش کش سے بھی عیاں ہے کہ امریکہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے تو پاکستان کی سیکورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی کریں گی۔ اس پیش کش کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں لیکن امریکہ کی طرف سے دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔ حالانکہ پاکستان میں امریکہ کے خفیہ اداروںکے نیٹ ورک کی موجودگی کوئی بعید از قیاس نہیں ہے۔ اس پیش کش اور کسی نشاندہی میں ناکامی کے باوجود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں دھمکی آمیز غیر ذمہ دارانہ ٹویٹ کیا اور ٹرمپ انتظامیہ اس کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے مزید اقدامات کر رہی ہے ۔ جمعرات کے روز اعلان کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی دو ارب ڈالر کی امداد روک رہا ہے۔ اس پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ امریکی امداد نہایت معمولی ہے ۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی کہا ہے کہ امریکی امداد کی بندش سے پاکستان کی معیشت پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہو گا۔ پاک فوج کی طرف سے بھی کہا جا چکا ہے کہ امریکہ کے پاکستان کے فوجی سازوسامان کی سپلائی روک دینے سے پاکستان کی فوج کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کی طرف سے یہ بیانات حوصلہ افزاء ہیں۔ اگر پاکستان کی امریکی امداد رکنے سے کوئی فرق پڑے گا بھی تو پاکستانی قوم اس سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے ان یقین دہانیوں کے باوجود کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں امریکہ کا رویہ کیوں روز بروز معاندانہ ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ واقعات سے یہ اندازہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ امریکہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکیوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی طرف سے جیسے کوتیسا کی طرح کا فوری ردِ عمل ظاہر ہو گا۔ امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے گزشتہ روز کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ایسے کوئی اشارات نہیں ملے کہ وہ افغانستان میں موجود 14000امریکی فوج کے لیے اپنی سرزمین اور فضائی حدود سے سپلائی روک دے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ اس کے لیے تیار ہے۔ لیکن قابلِ غور بات ہے کہ امریکی یہ توقع کر رہے ہیں کہ پاکستان ایسا کوئی اعلان کرے گا اور موجودہ کشیدگی کو بڑھائے گا جو پاکستان کی قیادت نے نہایت دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے نہیں کیا۔ نہ امداد کی بندش کے حوالے سے کسی منت زاری کا رویہ اپنایا اور نہ ہی جوابی ردِ عمل کا اظہار کیا۔ پاکستان کی طرف سے امریکہ کے اس رویے پر نہایت نپے تلے انداز میں ردِعمل کا اظہار کیا گیا ہے جس میں نہ اشتعال ہے اور نہ ہی کوئی جھکاؤ۔ خارجہ تعلقات نہایت تحمل اور دانشمندی کا تقاضا کرتے ہیں جو پاکستان نے کیا ہے۔ زمینی حقائق بالآخر رویوں کو منضبط کرتے ہیں اور امریکہ کا رویہ بھی آج نہیں تو آئندہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف اپنے ووٹ بنک پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ’’امریکی سرمایہ امریکیوں کے لیے‘‘ کے وعدے پر عمل کر رہے ہیں ، دوسری طرف وہ امریکہ کو ایک ایسی عالمی سپر پاور بنانا چاہتے ہیں جس کا ساری دنیا پر رعب و دبدبہ ہو۔ اس خواہش کی تکمیل میں وہ سفارتی آداب اور شائستگی کے تقاضوں کو پامال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے دس سربراہان کو ناراض کیا۔ اب وہ پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک پر امریکہ کی بالادستی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے انہوں نے بھارت سے تعلقات نہایت اچھے بنائے ہیں تاکہ وہ بحر ہند پر اس کی بالادستی قائم کر سکیں اور چین کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کر سکیں۔ اس لیے پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے میںکوئی حقیقت نہیں ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلا لیں گے۔ اس انتخابی وعدے سے وہ پھر چکے ہیں ۔ خود امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹ بولنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور ایک سال کے دورِ حکمرانی میں وہ ایک ہزار سے زیادہ جھوٹ بول چکے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بغیر جھکے اور بغیر اشتعال میں آئے ردِعمل کا اظہار دانشمندی پر محمول ہے ۔ تاہم اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ کی دباؤ ڈالنے کی پالیسی میں شدت آ سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک کے پاس امریکہ کی بالادستی کی کوششوں کے سدِباب کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مشترکہ اور دو طرفہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں اور باہمی تعاون و اشتراک کے نئے امکانات تلاش کریں۔ ایران ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے ، اس کے ساتھ متعدد شعبوں میں اشتراک و تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات نہایت اچھے ہیں۔ روس کے ساتھ باہمی تعلقات اور خطے کی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے امکانات ہیں جن پر کام ہونا چاہیے۔ افغانستان کو سی پیک میں شامل ہونے کی پیش کش دہرائی جانی چاہیے جو چین پہلے ہی کر چکا ہے۔ اور وسطی ایشیاء ممالک سے تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اداریہ