Daily Mashriq


ملک کو درپیش حالات اور نواز شریف کی سیاست

ملک کو درپیش حالات اور نواز شریف کی سیاست

ایک طرف امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے نت نئے اقدامات کر رہا ہے جس کے باعث عوام میں تشویش ہے دوسری طرف حکمران مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی طرف چل رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان پر محض افسوس کا اظہار کیا ہے حالانکہ ن لیگ کی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ امریکہ کے اقدامات پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلائے اور اس میں اس کے مضمرات پر بحث کی جائے اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کر کے عوام کو اس پر متحد اور فعال کیا جائے لیکن ن لیگ کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد نہایت قلیل ہے اور اس کی بندش سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ سوال محض 2ملین ڈالر کی امداد کا نہیں بلکہ پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر اس کے اثرات کا ہے۔ یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ کا رویہ مزید سخت نہیں ہو گا۔ امریکہ کے رویہ پر حکمران لیگ کی قیادت کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے‘ قومی بیانیہ تشکیل دے جس کے تحت قومی رویہ ابھرے۔ حکمران مسلم لیگ کے سب سے زیادہ فعال اس کے صدر میاں نواز شریف ہیں لیکن وہ قومی اہمیت کے اس پہلو سے صرف نظر کر کے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے منصوبے کے تحت اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ایک طرف ان کا نعرہ ہے مجھے کیوں نکالا‘ جس کا جواب ان کی نظرثانی کی درخواست کے فیصلے میں سامنے آ چکا ہے دوسری طرف وہ عدالت عظمیٰ پر ’’لاڈلے‘‘ کی حمایت کا الزام عائد کر رہے ہیںاور اپنے ہی ملک کے اساسی ادارے پر ضرب لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوٹ مومن میں حالیہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے میاں صاحب نے کہا کہ 5ججوں کو بتانا پڑے گا کہ کہاں کرپشن ہوئی۔ پانچ ججوں کو منفرد کرنا نہایت نا مناسب رویہ ہے۔ سپریم کورٹ کا کوئی ایک جج بھی اگر کوئی فیصلہ کرے تو یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس سے پہلے وہ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ رکھنے والے کو پانچ ججوں نے چلتا کر دیا۔ اس طرح وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محض پانچ جج تھے جنہوں نے انہیں نااہل قرار دیا حالانکہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ میاں نواز شریف پانچ ججوں کا ذکر کر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مورد تنقید بنا رہے ہیں ۔ جہاں تک ان کے اس چیلنج کی بات ہے کہ بتایا جائے کہ انہوں نے کہاں کرپشن کی تو ابھی احتساب عدالت میں ان کے حوالے سے جو ریفرنس زیرِ سماعت ہے اس کا فیصلہ نہیں آیا ہے۔ یہ فیصلہ آئے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے کرپشن کی یا نہیں کی یا کہاں کی۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں بھی آ سکتا تھا اگر میاں صاحب اور ان کے اہل خانہ مہینوں تک سپریم کورٹ میں پیشیوں کے دوران یہ بتا دیتے کہ لندن فلیٹس خریدنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا اور اس پر ٹیکس ادا کیا گیا یا نہیں۔ لیکن سپریم کورٹ میں سماعت کے اس عرصے میں میاں صاحب اور ان کے اہل خانہ نے یہ نہیں بتایا۔ حالانکہ وہ تو اسمبلی میں یہ اعلان کر چکے تھے کہ ’’یہ ہیں وہ ذرائع اور وسائل جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے ‘‘۔ جن ذرائع اور وسائل کا ذکر انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران کیا تھا وہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش کر دیے جاتے تو معاملہ شاید احتساب عدالت تک نہ جاتا۔ ان کی صاحبزادی نے کہا کہ جب نیت سزا دینے کی ہو تو اقامہ نکل ہی آتا ہے۔ سپریم کورٹ کی نیت کے بارے میں یہ تبصرہ نہایت افسوس ناک ہے۔ میاں نواز شریف نے اس جلسہ میں سارا زورِ خطابت تحریک انصاف کے عمران خان کو جھوٹا اور کرپٹ کہنے پر صرف کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ انہوں نے تحریک انصاف اور عمران خان کو اپنا حریف تسلیم کر لیا ہے۔ لیکن وہ تو اپنے آپ کو قومی لیڈر سمجھتے اور کہتے ہیں کہ نواز شریف ایک نظریہ کا نام ہے۔ کیا اس نظریے میں پاکستان کے خارجہ تعلقات اور سلامتی کو درپیش اہم سوالات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ملک کی بڑی اور حکمران جماعت کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے انہیں ملک کو درپیش اہم مسائل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تھی۔ موجودہ نازک حالات میں قومی سطح کے لیڈروں کو تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ملک کے اندر محاذآرائی کی سیاست سے اور کسی کا نہیں اپنا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔ لہٰذا یہ حالات قومی سطح کے لیڈروں سے بصیرت اور تدبر کے متقاضی ہیں ۔

متعلقہ خبریں