Daily Mashriq


’’ڈو مور‘‘ نہ ’’نومور‘‘ … تھِنک مور

’’ڈو مور‘‘ نہ ’’نومور‘‘ … تھِنک مور

اقبالؒ کے پیش نظر مسلمان کی کم ہمتی آئی تو آپ کے لبوں پر یہ شعر مچلا!!

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

بحیثیت قوم ہماری حالت یہی ہے لیکن جن بحرانوں سے ہم بچ کر نکلے ہیں اس کے بعد دعا ہے کہ ہمیں کسی نئے طوفان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستانی قوم کو ایک عرصہ امریکہ کا طفیلی بنا کر رکھا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی فوج کی جنگی صلاحیت کو بھی امریکہ کے مرہون منت رکھا ہے ۔ چنانچہ آج ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہمیں امریکہ کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر اعتبار نہیں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ کسی امریکی سپانسرڈ مہم جوئی کا بھرپور جواب دے سکے۔ سلالہ چیک پوسٹ کا واقعہ ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ ہم امریکی جارحیت کو روک سکے اور نہ جوابی وار کر سکے۔ ہم نے نیٹو سپلائی کچھ عرصہ کے لیے اگرچہ روک دی مگر جوانوں کی شہادت اور بے بسی سے موت کا یہ بدلہ ہو سکتا تھا؟ آج دفاعی ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایک بار پھر اس طرح کی کارروائی کر سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ افغان آرمی کو آگے کر کے امریکہ پاکستان پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنائے۔ اس نازک موقع پر چین ہماری مدد کو آیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ کسی کڑے وقت میں چین ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سوال لیکن یہ ہے کہ کیا اس طرح کا جنگی بحران چین کو سُوٹ کرتا ہے اور کیا ہم ا س کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ ایک ایسے وقت میں جب سی پیک منصوبے اپنے حتمی مراحل میں ہیں اور گوادر پورٹ کے راستے مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک کی منڈیوں تک آسان رسائی کا خواب حقیقت بننے جا رہا ہے ہم کیونکر افورڈ کر سکتے ہیں کہ ہماری سرحدوں پر جنگ منڈلائے یا ہم کسی نئی جنگ میں دھکیل دیئے جائیں۔ سمجھداری کا تقاضا ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے تمام صورت حال پر غور کیا جائے اور دھمکیوں اور جنگ کے پریشان کن حالات سے باہر نکلنے کی ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ امریکی تقاضے ’’ڈومور‘‘ کا جواب ’’نومور‘‘ اگرچہ بڑا خوش کن ہے لیکن یہ پاک امریکی تعلقات میں اگر سخت بگاڑ پیدا کرے اور نوبت لڑائی تک آ جائے تو یہ بالکل درست راستہ نہیں ہے۔ ایک بات مجھے سمجھ نہیں آ رہی اور وہ یہ کہ اچانک مسلم لیگ ن کی حکومت میں اتنی ’’شیری‘‘ کہاں سے آ گئی ہے کہ اس کے وزراء امریکہ کو منہ پر جواب دینے لگے ہیں۔ نواز شریف کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے تو کبھی انہوں نے اتنی سخت باتیں نہیں کی ہیں‘ یہ لب و لہجہ نواز شریف کے ہٹنے کے بعد سامنے آیا ہے جو ایک لحاظ سے بہتر لگتا ہے کہ چونکہ موجودہ حکومتی قیادت کے مغربی ممالک میں کوئی اسٹیکس نہیں ہیں اس لیے وہ بے دھڑک بول رہے ہیں لیکن نجانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ن لیگی وزراء بشمول وزیر اعظم یہ زبان اس لیے بول رہے ہیں تاکہ امریکیوں کو نواز شریف کی قدر آئے اور ان کی گنجائش پیدا ہو۔ یہ میرا احساس ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ غلط بھی ہو‘ تاہم اگر ایسا نہیں بھی ہے تب بھی یہ وقت امریکہ سے لڑنے کا نہیں ہے بلکہ اس کو انگیج کرنے کا ہے۔ ایک اچھی حکمت عملی سے ہم افغان قیادت اور امریکہ دونوں کو انگیج کر سکتے ہیں اور اپنے سر پر متوقع تھوپی جانے والی لڑائی کو ٹال سکتے ہیں۔ یہ دلیل بڑی عجیب ہے کہ امریکہ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور یہ کہ اگر امریکہ نے پاکستان کے سر پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو چین ہماری مدد کو آئے گا اور اس طرح ہم امریکہ سے نمٹ لیں گے ۔ کیا ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ امریکہ ہمیں ایک نئی جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے اور ’’ڈومور‘‘ کی باتیں محض بہانہ ہیں۔ گزشتہ پندرہ برس ہم نے امریکہ کی جنگ اس کی خواہشات کے مطابق لڑی‘ جہاں ہم نے چالاکی کرنے کی کوشش کی امریکیوں نے ہمیں آ پکڑا اور مطالبات کی نئی فہرست ہماری جھولی میں ڈال دی۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ہم نے گڈ اور بیڈ طالبان کا فرق مٹا ڈالا اور اپنی سرزمین کو تمام جنگجو عناصر سے پاک کرنے کی سنجیدہ سعی کی جب کہ آج یہ کوشش آپریشن رد الفساد کے تحت جاری ہے۔ یعنی بحیثیت قوم ہم پوری طرح یکسو ہیں کہ ہم نے دہشت گردی کو اپنی پاک سرزمین سے ہر صورت اکھاڑ پھینکنا ہے لیکن ان سب کے باوجود امریکہ ہمیں ڈو مور کہتا ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مطالبہ خواہ مخواہ کا ہے اور تعلقات خراب کرنے کا ایک بہانہ ۔ہماری سفارت کاری کیا یہ ہونی چاہیے کہ ہم امریکہ کی مرضی کے مطابق جنگ کا ماحول بننے دیں یا پھر معقول رویہ یہ ہونا چاہیے کہ سٹیٹس مین شپ کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ہم اپنی ترجیحات کے مطابق حالت کو ڈھالنے کی کوشش کریں ۔

جنرل پرویز مشرف نے جن دنوں پاکستان کو جنگ میں دھکیلا تھا تو جنرل صاحب اور ان کے وزراء کا استدلال تھا کہ ایسا کرنا ان کی مجبوری بن گیا تھا۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کا یہ فیصلہ سراسر غلط تھا۔ پاکستان کے نصیب میں کوئی اچھا سٹیٹس مین ہوتا تو وہ وقت بھی ٹل جاتا اور پاکستان ایک ایسی جنگ کا حصہ بننے سے بھی بچ جاتاجس نے پاکستان کو بدترین خانہ جنگی سے دوچار کیا اور ہم نے 70ہزار جانیں گنوا دیں۔ آج بھی ہم دہشت گردی کا شکار ہیں اور یہ بھیانک عفریت ابھی تک ہماری رگِ جان سے چمٹا ہوا ہے۔ ہمیں ہر صورت امریکہ کے چنگل سے نکلنا ہے لیکن یہ اس وقت ہو گا جب ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سکون ہو گا۔ یکجان ہو کر امریکہ پر تنقید کیجئے اور اسے باور کروائیے کہ ہماری صفوں میں یکجہتی ہے مگر جوش کی بجائے ہوش مندی کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ کیا ہمارا دفتر خارجہ بانجھ ہے جو ہم ایک اچھی ڈپلومیسی مرتب نہ کر سکیں یا ہمارے اہل سیاست اس قابل نہیں ہیں کہ صورت حال کا مکمل احاطہ کرتے ہوئے وطن عزیز کو اس مشکل صورت حال سے بغیر کسی نقصان کے نکال سکیں۔

متعلقہ خبریں