حالات کے بدلتے تیور

حالات کے بدلتے تیور

ویسے تو یہ محاورہ اونٹ کے بارے میں بولا لکھا جاتا ہے کہ ’’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘‘لیکن بعض مشترک صفات و عادات کی وجہ سے بعض اوقات بعض جانوروں اور درندوں کے لئے استعمال ہونے والے نام اور محاورات و ضرب الامثال وغیرہ افراد اور اقوام کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً فلاں آدمی بہت طوطا چشم ہے۔ فلاں آدمی کا کینہ اونٹ کا کینہ ہے۔ فلاں لومڑی کی طرح چالاک ہے اور فلاں شیر کی طرح بہادر ہے اور بعض اوقات بعض جانور علامات کے طور پر مستعمل ہیں۔ مثلاً کوئی آدمی یا محکمہ منفعت کے بجائے نقصان میں جا رہا ہے جیسے پاکستان میں آج کل پی آئی اے اور سٹیل مل ہیں تو بولا جاتا ہے کہ یہ ’’سفید ہاتھی ہیں‘‘ چونکہ یہ بحث بہت لمبی ہے اگرچہ دلچسپ ہے لہٰذا آمدم برسر مطلب‘ آج کل امریکہ اپنے دیرینہ عاشق و ہمدم پاکستان کے بارے میں جن ’’عالی‘‘ خیالات اور رد عمل کا اظہار کر رہا ہے اور کسی اخلاقی‘ سیاسی اور سفارتی آداب کی پروا کئے بغیر جو کچھ علی الاعلان اقوام عالم (اقوام متحدہ کے فورم پر) کے سامنے سنا رہا ہے اس کے بارے میں نرم سے نرم بات یہی کہی جاسکتی ہے کہ 

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
اور ساتھ ہی اپنا اونٹ بھائی یاد آتا ہے کہ ’’اونٹ رے اونٹ… امریکہ کو پہچاننے میں ہمیں ستر سال لگے۔ ہمارے اکابرین اور صاحبان اقتدار بالخصوص وزارت خارجہ اور داخلہ کے نگران اور بعض دیگر حضرات آج جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ اگر قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں کہنے کے ساتھ زیر عمل بھی لاتے تو آج دنیا بھر میں ہم یوں رسوا نہ ہوتے کہ امریکہ دنیا بھر کے سامنے ننگی ہمیں سنا رہا ہے کہ ہم نے ڈالرز دئیے ہیں اور اس کے باوجود پاکستان ہمارے ساتھ دورنگی کرتا رہا ہے۔ ارے اونٹ! دورنگی ہم کر رہے ہیں؟ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ ہم نے تو تیرے لئے کئی دہائیاں سوویت یونین جیسے پڑوسی کو ناراض بلکہ غضب ناک کئے رکھا اور اس کی بہت بھاری قیمت چکائی۔ روس کو افغانستان سے نکالنے میں اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر تجھے بلا شرکت غیرے دنیا کا واحد تھانیدار بنا دیا۔ تیری ایسی ایسی بے وفائی کہ 1965ء اور1971ء میں ہماری جان پر جو آفت آئی تھی اس میں بھی تجھے ’’اتحادی‘ دوست ‘ معشوق اور سنٹو و سیٹو جیسے مضبوط بندھنوں کے باوجود کہیں دور دور تک نہ پایا اور دیکھا بھی تو کمین گاہ ہی میں دیکھا۔ ہنری کسنجر کے یہ الفاظ بھولنے کے ہیں کہ ’’ ہم چاہتے تھے کہ بنگلہ دیش بن جائے‘‘۔لیکن اس کے باوجود کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کے ہاتھوں ہم ہمیشہ پرانی تنخواہ پر پھر نوکری کرنے پر تیار رہے۔ اور نوکری چلتی رہی یہاں تک کہ 9/11 کا واقعہ ہوا۔ پھر تو گویا امریکہ اسرائیل اور بھارت کو ایک ایسا موقع فراہم کیا جس کا کبھی خواب ہی دیکھا ہوگا۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی 1980ء کے عشرے میں جب پاکستان ایٹمی توانائی کے حصول کی کوششوں میں لگا تھا اور دوسری طرف افغانستان کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا۔ ہمارے اسی مہربان نے پریسلر ترمیم کے ذریعے اقتصادی اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں پابندیاں لگوائی تھیں۔ پاکستان نے جب اللہ کے فضل سے یہ اہم سنگ میل عبور کیا تو پھر وقتاً فوقتاً پاکستان کی نیو کلیئر ٹیکنالوجی کو غیر محفوظ قرار دینے کی رٹ لگی رہی جو آج تک جاری ہے۔پاکستانیوں کا دل امریکہ کے اس روئیے پر جلتا ہے ۔ کاش امریکہ پاکستان میں کوئی سروے کرائے اور د یکھے کہ ’’ کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا‘‘ سارے پاکستانی امریکی طوطا چشمی پر شاکی اور ناراض ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان نئے انداز اور از سر نو قرآن کریم اور سنت رسولؐ سے بنیادی رہنمائی حاصل کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال کے تصور اور قائد اعظم کی سیاسی بصیرت اور وطن عزیز کے لئے طے کردہ نظام جمہوریت اور آئین پر عمل کرنا شروع کرے۔ پھر دنیا کی کوئی طاقت اس عظیم مملکت اور عظیم قوم کو دھمکیاں نہیں دے سکتی۔وہ لمحہ شاید آن پہنچا ہے کہ اہل سیاست اپنی صفوں میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہو جائیں اور وطن کے ہاتھ اور کندھوں کو مضبوط کریں۔ کسی بھی دوسری قوم کی بے جا منتوں اور احسان جتائی سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انسان اپنی خودی کو پہچان لے۔ اپنی عظمت رفتہ کی بازیافت کے لئے خلعت فاخرہ و خلعت شہنشاہی سے خلعت تار تار اور روکھی سکھی ہزار درجہ بہتر ہے۔ فقیر غیور کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنا نوالہ‘ اپنی لاٹھی و بندوق خود کما کر تیار رکھے۔ قرض تب لے جب ناگزیر ہو اور قرض کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے جس کے لئے لیا گیا ہو۔ قرض کی مے پینے کی عادت ترک کرنا ہوگی۔ ساٹھ برسوں کی فاقہ مستی کو اب خیر باد کہنا ہی پڑے گا۔ پاکستان میں اللہ تعالیٰ نے بہت صلاحیت رکھی ہے۔ بس شرط اخلاص تقویٰ اور خودی سے ہمارے حکمرانوں اور سارے عالم اسلام کے کرتا دھرتائوں کو اب تو یہ بات سمجھ ہی لینا چاہئے کہ امریکہ اسرائیل اور بھارت پاکستان اور عالم اسلام کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ہمارے بزرگوں نے کب کا ہمیں انتباہ کیا ہے۔
توقع خیر کی رکھو نہ لیبر سے نہ ٹوری سے
آٹا نکل نہیں سکتا کبھی چونے کی بوری سے
آخر میں ایک دو نکتے یہ کہ ہمیں مسلمان کی حیثیت سے ہر حال میں کنفرنٹیشن اور تصادم سے گریز کرتے رہنا چاہئے لیکن اگر کوئی ہم پر جنگ ہی مسلط کرناچاہتا ہے تو اس کے لئے بھرپور تیاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد و استعانت کی دعائیں مانگنا ضروری ہے۔

اداریہ