ٹرمپ کی دیوانگی

ٹرمپ کی دیوانگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے آغاز پر پاکستان کو خبر دار کیا کہ وہ پاکستان کی امداد بند کر دے گا۔اُنہوں نے اسلام آباد پر الزام لگا یا کہ پاکستان نے امریکہ کو جھوٹ اور دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمارے امریکی لیڈروں کو بے وقوف سمجھتے ہیں ۔ پاکستان دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی سر پرستی کر رہا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو گزشتہ 15 سال میں 33 ارب ڈالر دیئے مگر اسکے بدلے پاکستان نے امریکہ کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اگر ہم امریکہ کی دوستی کا جا ئزہ لیں تو امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کواپنی ہی شرائط پر اپنے مقا صد کے لئے استعمال کیا ہے اور جبکہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیا دت دونوں آنکھیں بند کر کے اپنے ملک اور قوم کو دائو پر لگا کر امریکی مفادات کا تحفظ کر تی رہی ہیں، نتیجتاً حکمرانوں کے کوتا اندیش فیصلوں اور غلط کاموں کی وجہ سے وطن عزیز کے ۲۱کروڑ عوام اخلاقی اور اقتصادی طو ر پر انتہائی نُقصان اُٹھا رہے ہیں ۔ اب جبکہ امریکہ عراق کی طرح افغا نستان، وسطی ایشیائی ریاستوں کے وسائل پر قبضہ کر نے افغانستان میں بُری طر ح پھنس گیا ہے ،تو وہ پاکستان پر اپنی ناکامی کا ملبہ ڈال رہا ہے۔ دہشت گر دی کے واقعات میں پاکستان کے 60 ہزار تک لوگ جاں بحق ہو چکے۔ جس میں پاکستان کے ٹاپ اول کے سیاست دان، عسکری قیا دت، قانون دان ، وکلائ، علمائے کرام، آرٹسٹس، طالب علم ، بے گناہ لوگ،مرد عورتیںجوان اور شیر خوار بچے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دہشت گر دی کی اس جنگ سے پاکستان کی معیشت کو123 ارب ڈالر کا نُقصان ہوا۔ جو ایک خطیر رقم ہے۔اس جنگ سے پاکستان کی سیاحت ، زراعت ، صنعت اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ بالکل تباہ و برباد ہوگیا اور پاکستان دہشت گرد اور انتہاپسند ملک گرداننے لگا۔ پاکستان نے د ہشت گر دی کی جنگ میں اب تک جتنی جانی اورمالی قربانیاں دی ہیں وہ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں مگر ان سب قربانیوں کے با وجود اب بھی امریکہ کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ ویکی پیڈیا کے مطابق پاکستان کو سال 1948 سے 2016 تک68 سالوں میں 78ارب ڈالر فوجی اور سول امداد دی گئی ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کوچند ارب ڈالر دیئے گئے جبکہ پاکستان کا دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میںصرف16 سال میں 123 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جو پاکستان کی اقتصادیات کا 41 فیصد ہیں۔ اگر سالانہ کے حساب سے اس رقم پر نظر ڈالیں تونائن الیون کے بعد پاکستان کو سالانہ اوسطً 7.7 ارب ڈالر نُقصان ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے لیبیا پر الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکہ کا جہاز گرایا جس میں 270 مسافر اور جہاز کا عملہ ہلاک ہوا ۔ لیبیا ،امریکی جہاز گرانے کے واقعے سے لا تعلقی کا اظہار کرتا رہا مگرلیبیا نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور لیبیا نے امریکی جہاز گرانے اور بم دھماکے کے الزام کے کیس میں امریکہ کو 270 مسا فروں کے عوض 2.7 ارب ڈالر دیئے جو فی کس10ملین ڈالر یعنیپاکستانی کرنسی میں 105کروڑ روپے بنتے ہیں ۔ علاوہ ازیں جو ٹرانسپورٹ جہاز گرا تھا اُسکے بھی 4.5ارب ڈالر ادا کئے گئے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں مگر ہم اس حساب سے 60 ہزار اُن پاکستانیوں کی جانوں کے معاوضے کا امریکہ سے مطالبہ کریں تو یہ 600 ارب ڈالر کے قریب بنتے ہیں۔ اگر ہم امریکہ کے جنگی جنون کی تا ریخ دیکھیں تو یہ امریکہ پو ری دنیا میں دہشت گر دی اور انتہا پسندی میں ملوث ہے۔ ۔ اگر ہم امریکہ کی تمام جنگوں کی تا ریخ کا جائزہ لیں تو یہ تا ریخ ۳۰ اوراق پر ہے ۔ امریکہ کی چیدہ چیدہ لڑائیوں اور جنگوں میں کو ریا پر سال 1950 میں حملہ، گو ئٹے کال پر 1954، انڈو نیشیاء پر 1955، کانگو پر 1964، کیوبا پر 1960، ویت نام پر 1975، لبنان پر 1984، عراق پر 1991 اور افغانستان پر 2001 میں بلا جواز حملہ کر کے ایک غاصب ملک ہونے کا ثبوت دیا۔ امریکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھدشمنی خطرناک جبکہ دوستی مہلک ہے۔ مسلح افواج نے وطن عزیز میں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی سرکوبی کے لئے نیشنل ایکشن پلان بنایا جسکے نتیجے میں ملک میں دہشت گر دی اور انتہاپسندی میں کافی حد تک کمی ہوئی۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں امریکہ کی بجائے اپنے پڑوسیوں جن میں روس وسطی ایشائی ریاستیں اور دوسرے کئی ممالک شامل ہیں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ٹھیک اور خو شگوار بنانا چاہئے۔ہمیں ملک کے اندرونی حالات ٹھیک کرنے چاہئیں ۔ پاکستان میں بد عنوانی اور کرپشن کو روکنا اور اچھی حکمرانی کو فروغ دینا ہوگا۔ اپنے پڑو سیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے ہوںگے تو پھر امریکہ یا کسی دوسرے ملک کی امداد کی کوئی ضرورت نہیںپڑے گی۔ اگر امریکہ دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں پاکستان کی اتنی مالی اور جانی قربانیوں سے خوش نہیں تو وہ کبھی بھی پاکستان سے خوش نہیں ہوگا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دوسری بین الاقوامی تنظیمیں امریکہ کے طفیلی ادارے اور تنظیمیں ہیں جو ہمارے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان مالی، اقتصادی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ایک پسماندہ ملک ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان کے پاس امریکہ سے جان چھڑانے کے علاوہ کوئی اورراستہ نہیں۔

اداریہ