دودھ کا دودھ پانی کا پانی

دودھ کا دودھ پانی کا پانی

اب اگر بہت ضروری کام نہ ہو تو گھر سے باہر نکلنا بہت بڑی حماقت ہے۔ پشاور کا کوئی چوراہا ایسا نہیں جہاں ٹریفک جام کے دل دکھانے والے مناظر پر نگاہ نہ پڑے ۔ہر بازار میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ اب وہ سڑکیں اور بازار دیکھ کر دل میں ہوک سے اٹھتی ہے جہاںہم دوستوں کے ساتھ بڑے اطمینان کے ساتھ گھنٹوں گھوما پھرا کرتے تھے۔ آج زندگی اس ڈگر پر لے آئی ہے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن اگر نہیں ہے تو وقت نہیں ہے پہلے لوگوں کے پاس وقت ہی وقت ہوا کرتا تھااب جسے دیکھئے تیزی سے بھاگ رہا ہے شاید ہم عدیم الفرصتی کے عذاب میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب پشاور میں جعلی حکیم ایک بہت بڑا مجمع لگا کر دوائیاں بیچا کرتے تھے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حکیم کے چاروں طرف جمع ہو جاتی وہ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے چوک یادگار میں بھی اس طرح کا ایک مجمع لگتا۔ اس زمانے میں ٹریفک برائے نام ہوا کرتی تھی لوگوں کے پاس شاید وقت بھی بہت تھا پولیس کے سپاہی بھی مفت کی روٹیاں توڑا کرتے سپاہی کے پاس ایک موٹا سا ڈنڈا ہوتا لیکن اس وقت پولیس کا بڑا رعب ہوتا جب سے حالات بگڑے ہیں پولیس والوں کی جان پر بنی ہوئی ہے ۔ سپاہی بھی حکیم کی باتیں سننے کے لیے ہجوم کا حصہ بن جاتے ۔ کسی کو یہ خیال بھی نہیں تھا کہ یہ جعلی حکیم لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے اس کے پاس حکمت کی کوئی سند بھی نہیں اور پھر بھی یہ ڈنکے کی چوٹ پر مجمع لگا کر کھڑا ہے اور کسی علاقہ غیر میں بھی نہیں بلکہ صوبے کے صدر مقام پشاور میں لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ وہ کوئی عجیب و غریب سی کہانی شروع کردیتا‘ لوگ بڑی محویت سے وہ کہانی سنتے۔ اس کہانی کی ایک خاص بات یہ ہوتی کہ وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد لوگوں کو قہقہہ لگانے پر مجبور کردیتی۔ لوگ حکیم کا مزاحیہ انداز پسند کرتے ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ کبھی کبھی یہ جعلی حکیم پنجاب سے بھی تشریف لاتے ایک عدد لنڈے کی پتلون پہن کر وہ بڑی صاف ستھری اردو میں لوگوں کو مزے مزے کے قصے سناتے۔ ساتھ پشتو ترجمے کے لیے اس قسم کے غیر صوبائی حکیم کے ساتھ ایک مقامی شخص بھی ہوتا وہ دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہوتے لیکن وہ ترجمان پشتو زبان کی وجہ سے یہ تاثر دیتا کہ اس کی ہمدردیاں لوگوں کے ساتھ ہیں ۔ یہ حکیم مخلوق خدا کو سر عام دھوکہ دیتے لیکن انہیں کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ جعلی حکیموں کا لگایا ہوا مجمع ہمارے ذہن میں اس لیے آیا کہ ہم نے کل ریل کی پٹڑی کے قریب ایک حکیم کو اسی طرح کا مجمع لگاتے دیکھا ۔ سڑکوں پر ٹریفک کے ہجوم کی وجہ سے ہم نے سوچا کہ ریل کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ پیدل چلنا مناسب ہوگا اس لیے ہم شاہی باغ کے سامنے فروٹ منڈی کے قریب سے گزرتی ہوئی ریل کی پٹڑی کے قریب خراماں خراماں اپنی منزل مقصود کی طرف چل پڑے۔ لیکن وہاں یہ دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ایک جعلی حکیم اکیسویں صدی میں لوگوں کے ہجوم سے ایک پرزور خطاب کررہا ہے طریقہ واردات وہی پرانا ہے لوگ ہنس بھی رہے ہیں اور وہ لوگوں کو ان کی بیوقوفیوں پر بری طرح لتاڑ رہا ہے ۔ سادہ لوح دیہاتی اسے کوئی مستند حکیم سمجھتے ہوئے بڑے احترام سے اس کی فضولیات سن رہے تھے یقین کیجیے ہمیں اس حکیم سے زیادہ غصہ ان لوگوں پر آیا جو اس قسم کی بیہودگیوں کی اجازت دیتے ہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی جنگل میں یہ سب کچھ ہو رہا ہو ذرا فاصلے پر تھانہ بھی موجود ہے اور پولیس بھی لیکن اس جعلی حکیم سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہے کہ تم مخلوق خدا کو دھوکا دے رہے ہو کیاحکمت کی سند تمہارے پاس ہے ؟ یہ دوائیاں جو بیچ رہے ہو یہ گھر بیٹھ کر بناتے ہو یا کسی میڈیسن کمپنی کی ہیںلیکن وہاں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ ایک دو تماش بینوں سے پوچھا کہ یہ کیا ہورہا ہے اسے منع کرنے والا کوئی نہیں ہے تووہ ہنستے ہوئے کہنے لگا جناب یہ مجمع تو روزانہ لگتاہے شاید آج آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے یہ سب کچھ پولیس کی ملی بھگت سے ہورہا ہے ۔ ہم نے اس شخص کی بات پر غور کیا تو صحیح معلوم ہوئی ۔ہمارا ذہن قصہ خوانی کے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے جعلی حکیموں کی طرف چلا گیا یہ فٹ پاتھ پر بیٹھے لوگوں کو اشارے کرکے اپنے پاس بلاتے ہیں جب سادہ لوح معصوم دیہاتی ان کے پاس آتا ہے تو اس کے ساتھ ہاتھ ملا کر کہتے ہیں کہ’’ کلی والا پخیر راغلے‘‘ وہ بیچارا پشتو کی محبت میں اسے اپنا سمجھتا ہے۔ اس کے بعد اسے کہتے ہیں کہ آپ کی آنکھوں کی رنگت تھوڑی سی زردی مائل ہے چہرے کی رنگت میں بھی فرق ہے پھر اسے ایک آدھ ایسی بیماری کا بتایا جاتا ہے جو بہت عام ہوتی ہے۔ یہ باتیں کرتے کرتے یہ نوسر باز جعلی حکیم اپنے شکار کے چہرے کا مشاہدہ بھی بغور کرتے رہتے ہیں ساتھ ہی اس کی مالی حیثیت کا اندازہ بھی لگا لیتے ہیں اس کے بعد اسے کہتے ہیں گھبرا نے والی کوئی بات نہیں ایسی کوئی بیماری نہیں جس کا علاج نہ ہو ہم آپ کو دوائی دیتے ہیں انشاء اللہ افاقہ ہوگا۔ یہ سب کچھ کابلی پولیس سٹیشن کی ناک کے نیچے ہورہا ہے اگر کوئی تحقیق کا شوق رکھتا ہو تو ان جعلی حکیموں کو قصہ خوانی میں لاہوری حلوائی اور شیخ پنساری کے سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھا دیکھ سکتا ہے اور اگر مزید جاننے کی خواہش ہو تو ان کے پاس دو چار منٹ بیٹھ جائیے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

اداریہ