Daily Mashriq


آصف علی زرداری کی آواگون تھیوری

آصف علی زرداری کی آواگون تھیوری

پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے اندر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی روح داخل ہوگئی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو میرے نزدیک یہ نئے سال 2018 ء کے سیاسی اکھاڑے کی پہلی بہت بڑی خبر ہے کہ اس بات کا دعویٰ آصف علی زرداری نے میر پور خاص کے شہید بینظیر بھٹو سٹیڈیم میں منعقدہ شہیدذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ’’ وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ وہ بھٹو کے خاندان سے ہیں لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ان کے اندر پیپلز پارٹی کے مرحوم قائد کی روح داخل ہوگئی ہے‘‘۔ اگر ہم آصف علی زرداری کی یہ بات مانتے ہیں کہ ان کے اندر شہید بھٹو کی روح حلول کر گئی ہے تو پھر ہم یہ بات کسی صورت بھی ماننے کو تیار نہیں کہ ان کا تعلق شہید بھٹو کے خاندان سے نہیں کیونکہ وہ ان کی بہت ہی پیاری بیٹی شہید بینظیر بھٹو کے سرتاج کے نام سے بھی اپنی پہچان رکھتے تھے اور اب بھی دنیا ان کو اس ہی حوالے سے جانتی اور ان کے جلسوں میں شریک ہوکر’’جیوے جیوے بھٹو جیوے ‘‘کے نعرے لگاتی ہے۔ ان کی شریک حیات محترمہ بے نظیر بھٹو نے جب تک جام شہادت نوش نہیں کیا تھا تقریباہر سیاسی جلسے میں ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا۔ آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘ کے نعرے لگواتی تھیں اور ان کے لگوائے گئے اس نعرے کے جواب میں بھٹو کے چاہنے والے عالم وارفتگی میں ناچ اٹھتے تھے۔ ’کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے‘ جیسے نعرے سن کر مجھ جیسا موٹی عقل والا آدمی یہ بات سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں تو پھر وہ کون ہے جنہیں گڑھی خدا بخش میں دفن کیا گیا۔ ہمارے اس خیال خام سوچ یا وسوسے کے جواب میں ہمارے ذہن و شعور میں ہلچل سی مچ جاتی ہے اور پھر ہمارے اندر ہی سے کوئی بول اٹھتا کہ’’ اے عقل کے اندھے ، یہ سب جذب ومستی عشق اور محبت کی باتیں ہیں جو تیری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ کل تک عوام کے محبوب قائد ذوالفقار علی بھٹو اپنے چاہنے والوں کے دل اور دماغ میں زندہ تھے اور انکی زندگی کے مشن کو ان کی ہر دلعزیز صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو زندہ رکھے ہوئے تھیں۔ ان کے چلے جانے کے بعد بھٹو شہید کے روٹی کپڑا اور مکان کے وعدہ شکن محبوب جیسے قول و قرار کو لیکر آگے بڑھنے کے لئے بلاول بھٹوزرداری کی جانب دیکھا جارہا تھا لیکن ابھی وہ بچے تھے اس لئے بھٹوازم کو لیکر آگے بڑھنے کا فریضہ آصف علی زرداری کو ادا کرنا پڑا اور یوں وہ 1967 میں قائم ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بن گئے۔ آصف علی زرداری اب بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین ہیں اور خانوادہ شہید بھٹو میں ان کی شہید صاحبزادی کے سہاگ کی نشانی کی حیثیت سے ان کی بہت بڑی اہمیت ہے لیکن یہ اہمیت اس وقت تک برقرار تھی جب تک محترمہ زندہ تھیں۔ داماد اور سسر کا رشتہ باپ اور بیٹے جیسا ہوتا ہے۔

ہر بیٹی کا باپ بیٹی کو پی نگر سدھارنے کے بعد داماد کو بیٹوں سے بھی بڑھکر چاہت بھری نظر وں سے دیکھتا ہے اور اگر داماد سسر کی وفات کے بعد یہ کہنے لگے کہ میرے اندر میرے سسر کی روح سرایت کر گئی ہے ،تو لگتا ہے وہ اپنی زوجہ محترمہ پراپنی اہمیت جتا رہا ہے۔ لیکن یہاں تو زوجہ محترمہ ہی نہیں رہیں، اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے جیسے وہ اپنے جگر گوشے بلاول بھٹو زرداری کو بتا رہے ہوں کہ میں تمہارے دادا شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسا ہوں، مگر ایسا ہر گز نظر نہیں آتا۔ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی نوے سالہ تقریب سالگرہ کے حوالے سے منعقد ہونے والے جلسے میں شریک ہونے والے عوام کے جم غفیر ہی کو نہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی وساطت سے پوری دنیا کے لوگوں پر باور کرانا چاہتے ہیں کہ میں نے بھٹو کے مشن کو لیکر آگے بڑھنا ہے اور ملک سے غربت اور محرومیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی منظر نامہ پہ آتے ہی عوام کے دلوں اور ان کے دلوں کی دھڑکنوں میں بسنا شروع کردیا تھا۔ کیا آصف علی زرداری وہ مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ بہت مشکل ہے اس چوٹی کو سر کرنا جس پر فائز تھے پاکستانی عوام کے وہ محبوب قائد جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ہلچل بن کر اٹھے۔ بہت پڑھی لکھی اور ولولہ انگیز شخصیت کے مالک تھے ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان جیسے لوگ بہت کم آئے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نام کو کیش کرنے والوں کی کبھی بھی کوئی کمی نہیں رہی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں ایسے ہی نابغہ روزگار لوگوں کے نام کے لیبل اپنے نام کے ساتھ جوڑنے والے کار زار حیات میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ آصف علی زرداری نے اپنے اندر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی روح کے سرایت کرجانے کا دعویٰ کرکے کوئی غلط بات نہیں کی ، انہوں نے اپنے والد بجا سسر کو ان کی سالگرہ کی بھری محفل میں خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ ان کی روشن کی ہوئی مشعل کو ہاتھ میں اٹھا کر آگے بڑھنے کا عندیہ دیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں کہاں تک کامیاب ٹھہر تے ہیں ۔ آیا قائد عوام کے چاہنے والے ان کی اس بات پر یقین کرتے ہیں یا نہیں ۔ یہ سب کچھ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔

بیدار ہوں دل جس کی فغانِ سحری سے

اس قوم میں مدت سے وہ درویش ہے نایاب

متعلقہ خبریں