Daily Mashriq


کورکمانڈر پشاور کا واضح موقف

کورکمانڈر پشاور کا واضح موقف

کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود نے کہا ہے کہ جس دن قبائلی علاقوں میں امن قائم ہو جائے فوج اسی دن واپس اپنے بیرکوں میں چلی جائے گی لیکن جب تک گزشتہ چالیس سال کا گند صاف نہیں ہو جاتا تب تک فوج اس علاقے کو دہشتگردوں کیلئے نہیں چھوڑ سکتی۔ فاٹا انضمام کے حوالے سے کورکمانڈر کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام سے بہت سے مسائل حل ہوںگے لیکن اس میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ خاصہ دار اور لیویز فورس کو پولیس میں تبدیل کیا جائے گا اور فوج پولیس کو علاقے کا انتظام صحیح وقت آنے پر تفویض کرے گی۔ اس موقع پر کورکمانڈر نے اس امر کا عندیہ دیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے کچھ مطالبات جائز ہیں لیکن سب کچھ بٹن آن آف کرنے سے حل نہیں ہوتا اس میں کچھ وقت ضرور لگے گا لیکن ان کے تمام جائز مطالبات کو حل کیا جائے گا۔ کورکمانڈر پشار نے قبائلی اخبار نویسوں کے سترہ رکنی وفد کیساتھ جس طرح کھل کر اظہار خیال کیا اور روایتی سوالات کے علاوہ غیرروایتی سوالات کا لگی لپٹی بغیر جس طرح کھل کر جواب دیا اس کی نظیر فوجی قیادت کے طرز اظہار خیال میں کم ہی ملتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کورکمانڈر نے قبائلی علاقہ جات میں تسلی بخش امن کے قیام' استحکام امن اور سویلین انتظامیہ کی اپنے فرائض احسن اور قابل اعتماد طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہونے تک قبائلی اضلاع میں پاک فوج کی خدمات کی انجام دہی جاری رکھنے کا واضح اعلان کرکے کافی سارے شکوک وشبہات دور کر دئیے ہیں۔ اس ضمن میں یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ جہاں جہاں شکایات سامنے آئیں ان شکایات کی حقیقت جاننے اور ضرورت پڑنے پر ان کا ازالہ کرنے کے عمل کیلئے قبائلی اضلاع میں فوجی قیادت اور عوام کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس کی حد اتنی ہونی چاہئے کہ معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں کیلئے بالکل گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں حال ہی میں ایک اہم ترین قدم یہ اُٹھایاگیا ہے کہ اب پاکستان کا بوقت ضرورت قومی شناختی کارڈ دکھا کر کوئی بھی شہری قبائلی علاقوں کا دورہ کرسکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اب قبائلی اضلاع میں خصوصی حالات کے مجبوراً اختیارکردہ سخت شرائط کا خاتمہ ہوچکا ہے اور شہری اضلاع کے مماثل قانون کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ قبائلی عوام کو سب سے زیادہ شکایات چیکنگ کے مقامات پر طویل انتظار کی رہی ہے جو اب بالکل ختم نہیں تو بڑی حد تک اس میں کمی فطری امر ہوگا۔ جہاں تک قبائلی اضلاع میں پاک فوج کی تعیناتی کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی فوج پاکستان میں بوقت ضرورت جب تک اور جتنا عرصہ تعینات رہے کوئی مضائقہ نہیں جوں جوں حالات استحکام کی طرف آتے جائیں گے اور انضمام کے عمل کی تکمیل ہوتی جائے گی فوج کی وہاں زیادہ تعداد میں موجودگی کی ضرورت میں خودبخود کمی آئے گی۔ اگر دیکھا جائے تو ایک طویل اور دشوار گزار سرحدی علاقوں میں جگہ جگہ فوج کی تعیناتی اور موجودگی اب گزرے حالات کے تناظر میں خاص طور پر وقت کی ضرورت بن چکی ہے عوام کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ ان علاقوں میں پاک فوج ایک اشد ضرورت میں ان کے تحفظ کے مقصد کے تحت آئی تھی جب تک اس مقصد کا حصول مکمل طور پر نہیں ہوتا اس کی موجودگی اگر کچھ مشکلات اور شکایات ہوں تب بھی اسے خندہ پیشانی اور صبر وتحمل کیساتھ برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ قبائلی علاقوں کی ترقی اور خاص طور پر مواصلات کے نظام کو تقویت دینے اور سڑکوں کا جال بچھانے میں فوج کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جہاں تک پشتون تحفظ موومنٹ کی بعض شکایات اور تحفظات کا تعلق ہے ان کے بہت سارے مطالبات علاقے کے عوام کی مجموعی نمائندگی اور عوامی احساسات کو سامنے لانے سے متعلق ہے ان کو وسیع عوامی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ کورکمانڈر نے اس ضمن میں ازخود پیشرفت کرنے کی یقین دہانی کرا کے بہت مثبت پیغام دیا ہے جس کا قبائلی عوام کی طرف سے خیرمقدم نہ کئے جانے کی کوئی وجہ نہیں۔ پاک فوج اور عوام جب تک متحد اور پرعزم ہوں اور خاص طور پر بازوئے شمشیرزن قبائلی بھائیوں کا جذبہ حب الوطنی زندہ ہے اس وقت تک گہری سے گہری سازش کرنے والے عیار دشمنوں اور طاغوتی طاقتوں کی سازشیں کبھی کامیاب نہ ہوں گی۔ قوم کا اتحاد ہی قوم کے تحفظ کا ضامن اور استحکام امن' تعمیر وترقی اور خوشحالی کا باب وا کر سکتا ہے۔ قبائلی اضلاع کے مکمل طور پر قومی دھارے میں شمولیت کے بعد ایک تاریخی اقدام کی تکمیل ہوگی جس کے بعد قبائلی عوام ترقی کے ان ثمرات سے اپنے اپنے علاقوں بلکہ اپنے گھروں کی دہلیز پر مستفید ہو سکیں گے جو اس وقت شہری علاقوں کے عوام کو حاصل ہیں۔ ممکن ہے کچھ وقت لگے کچھ تاخیر اور باعث تاخیر بھی ہو ممکن ہے قبائلی عوام کے انتظار کی گھڑیاں کچھ طویل ہوجائیں لیکن یہ سحر مالک کائنات کی مدد سے بہت جلد طلوع ہوگی۔

متعلقہ خبریں