Daily Mashriq


شکایات کے ازالے کی شرح اہم ہے

شکایات کے ازالے کی شرح اہم ہے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے اس بیان سے تو انکار ممکن نہیںکہ حکومت کی جانب سے عوامی شکایات کے ازالے کیلئے حکمرانی کے مختلف سطح پر کمپلینٹ ریڈرسل سسٹم قائم کیا گیا ہے لیکن ان کے اس دعوے کو رد کرنے کی کئی وجوہات اور شواہد ہیں کہ اداروں سے سیاسی اثر ورسوخ ختم کر کے عوامی خدمت پر لگا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمرانوں کی ذمہ داری مرکز شکایات یا عوامی شکایات کے ازالے کیلئے کوئی سیل قائم کرکے پوری نہیں ہوتی اصل بات عوامی شکایات کے ازالے کی شرح اور تعداد ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام اپنی شکایات کا ازالہ کرنے کی شرح اور رفتار سے کس حد تک مطمئن ہیں۔ ہمارے تئیں اس قسم کے مراکز کی کارکردگی اور عوامی شکایات واپڈا کمپلینٹ آفس کی کارکردگی اور طریقہ کار سے بہت زیادہ مختلف نہیں جب بجلی کی خرابی ٹرانسفارمر کی تبدیلی کیلئے لوگ فون کرتے ہیں تو مرکز شکایات کے ٹیلیفون کا ریسیور نیچے پڑا ہوتا ہے چونکہ جدید نظام مواصلات میں ریسیور نیچے رکھنے کی گنجائش نہیں اسلئے حکومتی مرکز شکایات پر شکایت پہنچتی ہے اور ریکارڈ ہو جاتی ہے۔ متعلقہ محکمے کو بھجوانے میں زیادہ تاخیر نہ ہونے بارے بھی حسن ظن کا اظہار کرتے ہیں لیکن متعلقہ محکموں میں عوامی شکایات کے ازالے کی شرح اور رفتار کو چیونٹی کی رفتار سے تشبیہہ دی جائے تو مبالغہ نہ ہوگا بلکہ چیونٹی کی رفتار تو تیز ہوتی ہے یہاں عوامی شکایات کو جس اندھے کنویں میں ڈال دیا جاتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ ہمارے تئیں حکام تک شکایات پہنچانے کے اب لاتعداد ذریعے موجود ہیں، میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا وغیرہ اور روزنامہ مشرق کے اداریہ اور دو تین ادارتی نوٹس میں روزانہ، ایک ہفتہ وار کالم اور مشرق ٹی وی تقریباً ہر آٹھ دس دن بعد یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب مسائل شکایات کا قیام اہم نہیں رہا شکایات کے ازالے کی رفتار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سالہا سال بچپن سے بڑھاپے تک لوگوں کے آبنوشی، صحت، تعلیم، نکاسی آب، صفائی، آمد ورفت، روزگار، پنشن وغیرہ وغیرہ جیسے معاملات جس طرح حل طلب رہتے ہیں جب وہ حل ہوتے نظر آئیں اور ان مسائل میں اضافہ کی بجائے کمی آنے لگے تب یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی شکایات کے ازالے کی کوششوں میں کامیاب ہو رہی ہے بصورت دیگر نہیں اور قطعی نہیں۔

متعلقہ خبریں