Daily Mashriq


گیس پریشر پمپ کی فروخت پر پابندی لگائی جائے

گیس پریشر پمپ کی فروخت پر پابندی لگائی جائے

پشاور شہر کے بیشتر علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے سنگین صورت اختیار کر جانے پر متعلقہ حکام کی خاموشی افسوسناک ضرور ہے لیکن گیس کی قلت، زائد کنکشنوں، چوری اور استعمال بڑھ جانے کے مسائل کی بناء پر اس مسئلے کی توجیہہ موجود ہے لیکن غیرقانونی کمپریسر لگا کر گیس کھینچنے کے غیرقانونی فعل کی روک تھام سے گیس کمپنی کے حکام کی جانب سے جگہ جگہ چھاپے مار کر کارروائی کی بجائے تاخیر سے محض انتہائی نوٹس کا اجراء کافی نہیں یہاں معاملہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے والا معاملہ ہے اور یہی فارمولہ استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔ بہرحال نمائشی طور پر کمپریسر لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہر بھر میں اس کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے جس آلے کا استعمال ممنوع ہو اس آلے کا رکھنا اور اس کی تجارت کی بھی گنجائش نہیں ہونی چاہئے لیکن مارکیٹ جائیں تو گیس پریشر پمپ کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی ہے اور اسے نمایاں جگہ پر آویزاں کر کے اسے خریدنے اور استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ گیس کمپنی کے حکام کے پاس اس ضمن میں اگر قوانین میں گنجائش موجود ہے تو اس کی پابندی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔ اگر وہ بازاروں میں اس کی فروخت رکوانے کے مجاز نہیں تو پھر اس ضمن میں حکومت سے رجوع کرنے اور مناسب قانون سازی پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی۔ گیس کمپنی کے حکام اگر اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر پشاور سے رجوع کریں تو دفعہ144 کے تحت ڈپٹی کمشنر گیس پریشر پمپ کی فروخت پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔ جس کے تحت اس کی فروخت کی قانونی حیثیت ہی ختم نہیں ہوگی بلکہ اس کی خرید وفروخت کے مراکز پر چھاپے بھی مارے جاسکیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گیس کمپنی کے حکام اگر خواہاں ہوں اور سعی کریں تو دیگر کئی اقدامات ممکن ہیں مگر جب وہ آنکھیں بند کر کے صارفین کو مشکلات سے نمٹنے کیلئے تنہا چھوڑ دیں تو اس کا کیا کیا جاسکتا ہے۔ متعلقہ وزارت کو اس ضمن میں اقدامات یقینی بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر پشاور عوامی مفاد میں گیس پریشر پمپ کی فروخت پر فوری پابندی عائد کر کے غیرقانونی طور پر گیس حاصل کر کے دوسروں کو محروم رکھنے والوں کیخلاف کارروائی کر کے گیس صارفین کو گیس فراہمی کا عمل بہتر بنانے میں کردار ادا کریں تو مؤثر کارروائی ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں