Daily Mashriq


تیرے وعدے پر جئے ہم تو

تیرے وعدے پر جئے ہم تو

پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ اتوار کا دن ایک تاریخی تبدیلی کا دن تھا، عوام نے جانا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ تبدیلی نہیں آئی ہے وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان متحدہ امارات کے ولی عہد محمد بن زید کا خیرمقدم کرنے بنفس نفیس ایئرپورٹ تشریف لے گئے اور اپنے معزز مہمان کو بلٹ پروف گاڑی میں سوار کراکے گاڑی کو خود تام جھام سے چلاتے ہوئے پرائم منسٹر ہاؤس لیکر آئے، جی اسی وزیراعظم محل میں جس کی دیواریں عوام کیلئے گرانے کا عزم ہے، اس قصر وزیراعظم میں بلٹ پروف گاڑیوں کو انہوں نے نیلام کرایا تھا کہ ایک غریب قوم ایسی مہنگی اور پرتعیش گاڑیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی تاہم جس گاڑی میں وہ معزز مہمان کو وزیراعظم ہاؤس لے آئے شاید یہ گاڑی نیلام ہونے سے رہ گئی ہوگی چنانچہ غیرملکی مہمان کیلئے گاڑیوں کے ذخیرے سے اس گاڑی کو مہمان کی عزت وتوقیر کیلئے استعمال کر لیا گیا۔ جس پر بعض حلقے نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ سادگی کہاں گئی یا صرف مقبول دعوؤں تک تبدیلی کا چرچا تھا۔اسلام بھی مہمان کی توقیر وعزت کا درس دیتا ہے پھر پاکستانی ثقافت کا ورثہ ہے کہ گھر آئے مہمان کا استقبال بھی مثالی ہونا چاہئے پھر ایسا مہمان جو خالی ہاتھ نہ ہو اس کی آؤبھگت تو بنتی ہے۔جہاں تک وزیراعظم ہاؤس کے استعمال کا تعلق ہے تو یہ وہ شاندار ٹھکانہ ہے کہ جہاں پہنچ کر مہمان کو یقینی فرحت محسوس ہوئی ہوگی کہ پاکستان کے وزیراعظم نے ان کی قدر ومنزلت کی۔ ساتھ ہی اس امر کا امکان ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کہلانے والی عمارت کا استعمال صرف وزراء اعظم پاکستان کے قیام کی سہولیات کیلئے نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کے معزز مہمانوں کے احترام اور ان کی قدر ومنزلت کا بھی ٹھکانہ ہے چنانچہ کس جذبے یا رو میں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت اس گھر کو اب سرکاری تقریبات کیلئے استعمال نہیں کرے گی اور اس کو ایک اعلیٰ پائے کی یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا جائے گا جس کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ جس مہنگی بلٹ پروف گاڑی کا استعمال کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا اس کو وزیراعظم خود چلا کر لائے جو اس امر کی نشاندہی کر تا ہے کہ حفظ ماتقدم کیلئے اس کا استعمال ضروری ہے، علاوہ ازیں وزیراعظم ہاؤس ہی میں معزز مہمان کیساتھ مذاکرات بھی ہوئے گویا آج بھی اس عالیشان گھر کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے 12سال بعد پاکستان کا مختصر دورہ کیا، وزیراعظم عمران خان اور اماراتی ولی عہد شیخ محمد کی تنہا اور وفود کی سطح پر ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک نے پاک امارات تجارت کیلئے ٹاسک فورس بنانے، منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیخلاف تعاون پر اتفاق کیا جبکہ آئل ریفائنری سمیت اقتصادی پیکج پر معاملات حتمی ہوگئے اور طویل المیعاد سرمایہ کاری فریم ورک معاہدہ پر پیشرفت ہوئی۔ جنگی مشقوں، تربیت اور دفاعی شعبے میں تعاون کا عزم کیا گیا جبکہ اماراتی ولی عہد نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ولی عہد کا دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خصوصی تعلقات کی عکاس ہے۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مذہب، ثقاقت، تہذیب، اعتماد اور ایک دوسرے کیلئے باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ ولی عہد نے گرمجوشی سے اپنے استقبال پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کو 2019ء کو برداشت کا سال قرار دینے پر مبارکباد دی۔ اعلامیہ میں کہا گیاکہ وزیراعظم اور عرب امارات کے ولی عہد نے کہاکہ اس سال فروری میں دونوں ممالک کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس تعاون کیلئے ایک راہ نقشہ تیار کریگا۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے تیل وگیس، لاجسٹک بندرگاہوں اور تعمیراتی شعبے میں یو اے ای کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی اسٹریٹجک، اقتصادی تعلقات جس میں طویل المدتی سرمایہ کاری فریم ورک معاہدہ بھی شامل ہے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ انہوں نے تجارت بڑھانے کیلئے ایک ٹاسک فورس بنانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور کشمیریوں کی حالت زار سے آگاہ کیا۔ بعدازاں ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان پاکستان کے مختصر دورے کے بعد واپس یو اے ای روانہ ہوگئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد حسین چوہدری نے کہا کہ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کے دورۂ پاکستان سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات اور تعاون استوار ہے اور ملک میں آئل ریفائنری کے قیام کے حوالے سے بات چیت حتمی مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور کھڑا ہوا۔ ولی عہد نے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پہلے ہی معاشی پیکج دے دیا ہے،3بلین ڈالر کا پہلے ہی اعلان کر چکا، ولی عہد کے دورے کے موقع پر آئل ریفائنری کی سرمایہ کاری پر بات چیت فائنل ہوئی ہے اور باقی معاملات پر بات چیت تقریباً فائنل ہوگئی ہے۔امارات کے ولی عہد کے دورۂ پاکستان سے اچھے اثرات کی اُمید کی جا سکتی ہے کیونکہ عرب کے حالات کی وجہ سے پاکستان سے تعلقات میں کشیدگی تو نہ تھی مگر سرد مہری پیدا ہوگئی تھی عمران خان کے برسراقتدار آنے سے کم ازکم یہ تبدیلی آئی ہے کہ جن عرب ممالک سے پاکستان کے تعلقات میں سردمہری پیدا ہوئی تھی اس میں گرمجوشی کی حرارت عود کرنے لگی ہے۔

متعلقہ خبریں