Daily Mashriq


بچپن اور کہانی

بچپن اور کہانی

بچپن کوکون یاد نہیں کرتا۔ بچپن ہی تو شاید اصل زندگی ہوتا ہے کہ زندگی کا حقیقی لطف تو اسی پڑاؤ میں میسر آتا ہے۔ یہی تو زمانہ ہے کہ جس میں کھیل، تماشے مزا دیتے ہیں۔بڑے ہوکر تو زندگی کے جھمیلوں میں زندگی یوں گھسیٹنا شروع ہو جاتی ہے کہ جہاں زندگی لے جائے منہ اُٹھائے اسی طرف بڑھنا پڑتا ہے۔ بچپن جو امیجی نیشن کا دور ہوتا ہے۔ دیکھی اور ان دیکھی دنیاؤں تخیل کے راستے سیر کرنے کے دن ہوتے ہیں۔ نصاب میں تو یوں بھی سمجھنے اور سمجھانے کی باتیں۔ دو ایک جو کہانیاں ہوتی تھیں وہ بھی اب نہیں۔ نصابی سطح پر پیاسا کوا، پری اور لکڑ ہارا، اتفاق میں برکت ہے، لالچی کتا، انگور کٹھے ہیں وغیرہ کی سٹیریو ٹائپ کہانیوں سے آگے جانے کی کسی نے زحمت ہی نہیں کی۔ وہ کہانیاں تو عنقا ہی ہوگئی جو کبھی بچوں کو نئی نئی دنیاؤں کی سیر کروا دیا کرتی تھیں۔ جو دنیائیں بچے کے اپنے ذہن کی اختراع سے بنتی تھیں۔ تخیل اللہ کی ایک ایسی ودیعت ہے کہ شاید ہی کسی دوسری مخلوق کو میسر ہو۔ انسان مشاہدہ اور تجربے کی بنیاد پر اپنے تخیل میں کیا کیا رنگ آمیزیاں کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔ بچپن میں آنہ لائبریریاں تو ہر محلے میں مل جایا کرتی تھیں، جن میں ایک آنہ روز کے حساب سے کتاب کا کرایہ وصول کیا جاتا تھا۔ کیا کیا کہانیاں پڑھنے کو ملتی تھیں۔ پہروں بیٹھ کر کہانی ختم کرنے کی جستجو ہوتی کہ دوسرا دن چڑھ گیا تو آنہ زیادہ دینا پڑے گا۔ عمران سیریز کی کیا بات، تجسس کی انتہاؤں کو چھوتا آتا تھا تصور۔ عمر وعیار کی کہانیاں داستانوںکے طلسماتی منظرنامے میں ٹرانسپورٹ کر آتی تھیں۔ کہانی بچپن میں کسی دوست کی طرح ساتھ رہتی تھیں۔ کتنے ہی ہیرو تھے بچپن میں ہمارے۔ ایک سرشاری سی رہتی۔ اب تو بچوں کو وہ نانیاں دادیاں بھی میسر نہیں کہ بچوں کو جنوں، پریوں، دیو اور شہزادوں کی کہانیاں سنائیں۔ آج کل کی دادیاں نانیاں تو خود ٹی وی کے سوپ ڈراموں میں منہمک ہیں۔ بچپن ہی سے کہانی کے ذریعے حرف کیساتھ ایک رشتہ استوار ہو جایا کرتا تھا۔ ایک ایسا رشتہ جو ساری زندگی ساتھ چلتا تھا۔ پڑھنے کی ایک لت سی پڑ جایا کرتی تھی۔ کتاب سے تعلق انسان کے اندر کی تطہیر کا باعث بنتا ہے۔ لفظ بھی تو شفاف پانی کی طرح ہوتے ہیں داخل کی اندھیری کوٹھری کو دھو ڈالتے ہیں۔ وہ اندھیری کوٹھری کہ جس میں انسان کی اپنی ذات کے انمول موتی چھپے ہوتے ہیں۔ حرف ایک نور ہے کہ داخل کی اس اندھیری کوٹھری میں اُجالا پھیلا دیتا ہے اور انسان اپنی من کی دنیا سے باخبر ہوکر زندگی کا سراغ پا جاتا ہے۔ انسان کا تخیل ہی تو اس میں جینے کی امنگ پیدا کرتا ہے۔ یہی کتاب اور یہی کہانی اس تخیل کی پرداخت کرتے ہیں۔ مگر ہم نے تو اپنے بچوں سے ان کا بچپنا ہی چھین لیا ہے۔ ان کی روحوں کو تو آکسفورڈ اور کیمبرج کی بھاری اور ضخیم کتابوں تلے کہیں دفن کر دیا جاچکا ہے۔ رٹا لگوا کر انہیں عالم فاضل بنانے والے کیوں نہیں سمجھتے کہ علم صرف یادداشت نہیں۔ علم کہ جس میں تخلیق نہ ہو، جس میں جستجو نہ ہو اور جس علم میں وجدان کی تربیت نہ ہو وہ کیسا علم ہوگا۔ علم صرف نصاب میں نہیں ہے بلکہ علم نصاب کے علاوہ سماج میں بھی موجود ہے اور سماج کو سیکھنے کیلئے کہانی بہت ضروری ہے۔ کہانی کہ جس کے کرداروں اور ان کرداروں کے رویوں سے زندگی کے انوکھے پن کی واقفیت ہوتے۔ خیر اور شر سے ملاقات تو انہی کہانیوں میں ہوتی ہے۔ کیا کیا جائے کہ بریکنگ نیوز کو ہی کہانی تصورکر لیا ہے مگر بریکنگ نیوز تو ہیجان خیزی پیدا کرتی ہیں اور کہانی کیتھارسس کا عمل پیدا کرتی ہیں کہ یہ کہانی تخلیق کے عمل سے ہوکر گزری ہوتی ہے۔ میرے نزدیک بچوں کو کہانی کی طرف راغب کرنا ازحد ضروری ہے۔ بچوں کا ادب تو اب بھی لکھا جا رہا ہے پڑھتا کون ہے اور کتنے شوق سے پڑھتا ہے یہ صورتحال یقینا پہلے جیسی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ادیب ہونے کا مقصد ہے بیروزگاری، کوئی ایک ہی ہوگا جو کل وقتی ادیب بن کر اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکتا ہو ورنہ ہمارے ہاں ادب لکھنا فراغت کا عمل ہے یا کسی کا شغل ہوسکتا ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ دوچار لوگ بھٹک کر اس جانب بھی آجاتے ہیں اور ادب کا کارواں چل رہا ہے۔ مجھے چند برس قبل ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کیلئے غیرنصابی کتب کی تیاری کے سلسلے میں بچوں کی کہانیاں لکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ جس میں میری تین کہانیاں اس پراجیکٹ میں شامل ہوئیں۔ میں یوں تو افسانہ اور ٹی وی اور ریڈیو ڈرامہ لکھ چکا ہوں لیکن بچوں کی کہانیاں لکھنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس کیلئے رائٹر کو بچہ بن کر کسی کہانی کو سوچنا اور لکھنا ہوتا ہے۔ اس میں بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اخلاقی حوالوں کو بھی دیکھنا ہوتا اور مقاصد کے حصول کو بھی ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ لکھنے والوں کی کمی تو کبھی نہیں رہی صرف انسپائریشن کی بات ہوتی ہے۔ صرف پشاور میں میرے حلقہ احباب میں عمران یوسف زئی، اسحاق وردگ اور رئیس مغل تین بڑے نام ہیں جو بچپن سے اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایوارڈ واسناد لے چکے، مسئلہ صرف رغبت کا ہے۔ ہمارا ادیب لالچی نہیں ہے کہ اسے پیسے دئیے جائیں تو وہ لکھے گا بلکہ وہ تو بس پذیرائی چاہتا ہے کہ قاری اس کے کام کو پڑھیں۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے میں نے حکومتی سطح پر بہت کم سنجیدگی دیکھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس بات کو مسئلہ ہی نہیں سمجھا گیا حالانکہ یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل پروفیسر وغیرہ تو عام تعلیمی سسٹم سے بنائے جاسکتے ہیں لیکن اچھے شہری پیدا کرنے کیلئے کچھ اور بھی درکار ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں