Daily Mashriq


تلخیوں اور عدم برداشت کو مت بڑھائیے

تلخیوں اور عدم برداشت کو مت بڑھائیے

میدان سیاست میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں اور سوشل میڈیا مجاہدین کی دانش اور زبان دانیوں کے مظاہرے ہی کیا کم تھے کہ جواب آں غزل کے طور پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے متوالے وجیالے بھی خم ٹھونکے میدان میں ہیں۔ تحریک انصاف مروجہ سیاسی نظام اور قیادتوں کی نفرت پر تعمیر ومنظم ہوئی جماعت ہے۔ اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کو سیاسی ادب وآداب سیکھنے اور اظہار کا سلیقہ آنے میں وقت لگے گا مگر نون لیگ کے نام سے مسلم لیگ کا گروپ تو تین دہائیوں سے سرگرم عمل ہے، حکومتی ادوار دیکھے اور اپوزیشن کے بھی۔ پیپلز پارٹی سیاسی عمل میں نصف صدی سے شریک ہے۔ اس کے کارکنوں کی پُرعزم سیاسی جدوجہد قربانیوں اور سیاسی فہم کا ایک زمانہ معترف ہے لیکن بدقسمتی سے پھکڑبازی اور زبان درازی کے جو مقابلے پچھلے کچھ عرصہ میں تینوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان جاری ہیں ان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ ابوظہبی کے ولی عہد کے دورہ پاکستان کی بعض تصاویر کو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے وقت ان پر جو کیپشن لکھے وہ ا فسوسناک ہیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کا ردعمل تنگ آمدبجنگ آمد کے مصداق ہے۔ ممکن ہے ان کا موقف درست ہو لیکن تین سے پانچ دہائیوں کے عرصہ سے سیاسی میدان میں موجود جماعتوں کے ذمہ دار نہیں سمجھتے کہ پھکڑپن اور سستی جملہ بازی کو سیاسی اظہار کا سلیقہ ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

پاکستان کے سیاسی اور سماجی رویوں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے تو اس امر کی تصدیق ہوگی کہ اس ملک میں سیاسی جماعت اور عقیدہ تبدیل کرنے والوں کا وہی جارحانہ رویہ ہوتا ہے جو متحدہ ہندوستان میں تبدیلی مذہب کے بعد عموماً دیکھنے میں آیا۔ نئے عقیدے' مذہب اور سیاسی تعلق استوار کرنے والے سابقین اور پچھلے نظریات بارے اظہار خیال کرتے ہوئے اعتدال کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی روش اب تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی پسندیدہ ہے۔بدقسمتی سے پاکستانی سیاست سے نظریاتی سیاست کب کی رخصت ہو چکی دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی تصورات کی جگہ شخصی وخاندانی وفاداریاں لے چکیں۔ ہر جماعت کے محبین صرف اپنی جماعت کے مالکان کو سچا اور اپنی فہم کو درست سمجھتے ہیں۔ دوسروں کیلئے استعمال کی جانے والی زبان پر کوئی بھی شرمندہ نہیں ہوتا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کو غلامی کے طعنے دینے والے خود بھی شخصی غلامی کی ایک نئی معراج کے سفر پر ہیں۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال افسوسناک ہے۔ پچھلی سات دہائیوں کے درمیان مذہبی وسیاسی جماعتیں اندھی تقلید' شخصی وفاداریوں اور منفی رویوں کا خمیازہ اچھی طرح بھگت چکیں۔ مناسب یہ ہوتا کہ تحریک انصاف کے حامی سنجیدہ سیاسی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے نئی مثالیں قائم کرتے لیکن جو بویا جا رہا ہے اس سے نفرتوں بھری ایک نئی تقسیم بدترین مسائل پیدا کرے گی۔ افسوس اس امر پر ہے کہ جواب آں غزل کے طور پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی صفوں سے جن الاپوں کا ورد جاری ہے وہ بھی صریحاً غلط ہے۔ سیاسی اختلاف کفر وغداری یا زندیقیت کے زمرے میں نہیں آتے۔ حکمران جماعت کے ہمدردان دوسروں کے لتے لینے کی بجائے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے' جمہوریت کے استحکام اور مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں تو یہ زیادہ فائدہ مند ہوگا۔ مکرر عرض ہے سیاسی کارکنوں (اگر ہوں تو) کا فرض قائدین کی اندھی تقلید اور دوسروں کی کردارکشی نہیں سیاسی روایات کو آگے بڑھانا اور رائے عامہ کو اپنی سیاسی فہم کی روشنی میں منظم کرنا ہے۔ یہ امر بجا ہے کہ ملک میں کرپشن ہوئی مگر کرپشن کی گنگا میں صرف سیاستدان ہی غوطہ زن نہیں رہے باقی بھی جس کو موقع ملا اس نے اشنان ضرور کیا سو ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب کا ایک ایسا نظام ہو جو ہر خاص وعام کا احتساب کرسکے، مقدس گائے کوئی نہ ہو۔ ثانیاً یہ کہ سیاسی عمل میں شریک جماعتوں کو ایک بار پھر جماعتی نظام کے اندر کارکنوں اور ہمدردوں کی سیاسی تربیت کے عمل کو سٹڈی سرکلز کے ذریعے شروع کرنا ہوگا۔ پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کا بھی فرض ہے کہ وہ الزاماتی سیاست کے نفرت بھرے کاروبار کو بڑھاوا دینے کی بجائے عامتہ الناس کی سیاسی وفکری رہنمائی میں اپنا کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتوں کے اکابرین اور ہمدردوں کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان جن مسائل سے دو چار ہے اور جس طرح کے داخلی وعلاقائی حالات سے گزر رہا ہے ایسے میں ایک مستحکم نظام' انصاف کی فراہمی اور جمہوری اقدار کی ترویج ضروری ہے ان سے صرف نظرکر کے فقط جماعتی انتہا پسندی کے فروغ سے نقصان ہوگا۔ یہ بھی عرض کردوں کہ نفرتوں اور الزامات کے اس کاروبار کے بڑھاوے میں مصروف طبقات میں سے جو طبقہ صدارتی نظام کے حق اور 18ویں ترمیم کیخلاف دلائل کے انبار لگا رہا ہے اسے دستور' فیڈریشن کی ضرورتوں' وفاق اور صوبوں کے کردار سمیت دیگر امور سے آگاہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ اس کے آدرشوں کو عملی شکل دینے میں سیاسی ودستوری رکاوٹیں ہیں تو قانون سازی کا ڈول ڈالے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ الزام تراشی اور کردارکشی کی جگالی سے غربت ختم ہوگی نہ انصاف کا بول بالا ہوگا نہ ہی وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہے اسلئے بہتر یہی ہے کہ تحمل ورواداری اور برداشت کو فروغ دیا جائے۔

متعلقہ خبریں