Daily Mashriq


دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی

حضرت یوسف کے ایک سے زیادہ بھائی تھے۔ جنہوں نے ان کو سیر کرنے کے بہانے اپنے ساتھ لیا اور نکل گئے ایک بیاباں کی طرف جہاں پہنچ کر انہوں نے حضرت یوسف کو ایک اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ ان کی اس حرکت کی وجہ سے لوگوں نے بھائیوں کے رشتہ پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا اور اس قسم کے بھائیوں کو 'برادران یوسف' کہنا شروع کردیا جو اپنے بھائیوں کیساتھ دشمنوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی محض اسلئے ان کی جان کے دشمن بنے کہ آپ بے حد حسین ہونے کے علاوہ اپنے والد حضرت یعقوب کے بے حد لاڈلے تھے۔ باپ اور بیٹے کے درمیان لاڈ اور پیار کا یہ رویہ برادران یوسف کو ایک آنکھ نہ بھاتا اور وہ اس تاک میں رہتے کہ موقع پاکر یوسف کو کسی ایسی جگہ چھوڑ آئیں جہاں سے وہ کبھی بھی واپس نہ آسکے اور یوں باپ اور بیٹے کے درمیان پنپنے والا پیار اور محبت کا رویہ ختم ہوجائے۔ حسد اور بغض نے ان کو پاگل بنا دیا تھا اور یوں انہوں نے ایسی حرکت کر ڈالی جو بھائی بندی کے رشتہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کر رہتی دنیا تک نظر آنے لگا۔ دانا لوگ برادران یوسف کی اس ظالمانہ یا حاسدانہ حرکت کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برادران یوسف حضرت یوسف کو کنویں میں پھینکنے کی کبھی بھی حرکت نہ کرتے اگر وہ ان کے دوست ہوتے یا ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت یوسف علیہ السلام کا دوست ہوتا۔ دانا لوگوں کی یہ بات سن یا پڑھکر ہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ دوستی کا رشتہ بھائی کے رشتہ سے بھی عظیم تر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر کہتے رہتے ہیں کہ اللہ کرے ہمارا ہر بھائی ہمارا اچھا دوست بھی ثابت ہوجائے، مگر اس کا کیا جائے دوست بنتے تو بہت ہیں لیکن دوست ہوتا کوئی کوئی ہے

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

وہ جو کہتے ہیں کہ دوست اور دشمن کی پہچان مشکل وقت میں ہوجاتی ہے یا دوست اسے کہتے ہیں جو آڑے وقت میں کام آئے

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

گرتوں کو تھامنے والے یا برے وقت میں ساتھ دینے والے ہی سچے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستان جس نازک صورتحال سے دوچار ہے اس کو یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہماری آزادی کے دشمن ہمارے ہمسائیگی میں رہ کر ہمسایہ مائی باپ جایا کے روپ میں برادر یوسف کا کردار ادا کررہا ہے اور دوسری طرف ہم چین وعرب جیسے ممالک کے اپنی جانب بڑھتے دوستی کے ہاتھ دیکھ کر بے اختیار ہوکر اقبال کے اس خواب کی تعبیر حاصل کر رہے ہیں کہ

چین وعرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

آج ہم اپنے ہر آڑے وقت کے آزمودہ ہمسایہ ملک چین کی جانب سے 2ارب ڈالر کی امداد کے اعلان کے بارے میں جان کر گلاب کی طرح کھل اُٹھے ہیں۔ تو ہمیں اپنی عقیدتوں کے مرکز ریگزار عرب سے داعیان اسلام کی جانب سے ملنے والی معاشی ڈھارس بھی اس بات کا یقین دلارہی ہے کہ ہمارے اچھے اور سچے دوست ابتلاء کے کسی بھی دور میں ہمیں اکیلا اور تن تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ پاکستان شاعر مشرق کا خواب ہے۔ اگر شاعر مشرق نے چین وعرب اور ہندوستان کے علاوہ سارے جہاں کو ہمارا کہا ہے تو یہ دانائے راز کی سچ ثابت ہونے والی پیشن گوئی ہے۔ چین علم وعرفان کا گہوارہ ہے۔ علم حاصل کرو اگر تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ آقائے نامدارۖ کے اس ارشاد گرامی میں چین جیسے سخت جان اور ذہین وفطین ملک سے بہت کچھ سیکھنے کا درس ملتا ہے۔ چینی اپنے ماضی بعید میں منشیات کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے لیکن ان کی مخلص قیادت نے ان کی قسمت کا دھارا بدل کر رکھ دیا

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے

ہمالہ سے چشمے ابلنے لگے

کے مصداق ہم نے ان کو تعمیر وترقی کی شاہراہوں پر یوں گامزن دیکھا کہ منزلیں بڑھ بڑھ کر ان کی قدم بوسی کرنے لگیں۔ ہم نے سعودی عرب میں نافذالعمل قانون کی تقلید میں چوروں کے ہاتھ اور منشیات فروشوں کے سر ان کے تن سے جدا کرنے کا عزم کرنا ہے، اگر گراں خواب چینی منشیات اور چوری چکاری کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے قوم کے ناسوروں کو غرق آب کرسکتے ہیںتو ایسا قدم اٹھانے میں ہم کیوں ہچکچاتے ہیں۔ پاکستان شب نزول قرآن کو معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الااللہ۔ ہم نے اس سرزمین کو پتھر کے بتوں کے علاوہ خودساختہ خداؤں کو 'لا' کہہ کر ضرب الا اللہ سے ختم کرنا ہے۔ ہمیں چین وعرب ہمارا کی شاہراہ پر چل کر ہندوستان ہمارا اور سارا جہان ہمارا کے سچ کو سچ کر دکھانا ہے۔ اس کیلئے ہمیں برادران یوسف کی نہیں سچے دوستوں کی ضرورت ہے جو ترکی، ایران، چین اور امارات کی طرف سے جوق درجوق دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ہمارا دکھ بانٹنے کیلئے چل نکلے ہیں۔ آج ہم پورے تیقن کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ماں کا لال یوسف وطن کو اندھے کنویں میں دھکا دینے اور بازار مصر میں کوڑویوں کے دام نہ بیچ سکے گا کہ ہمیں مان ہے اپنے سچے دوستوں کی دوستی پر

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے

رشتہ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے

متعلقہ خبریں