Daily Mashriq


سراپا محبت رہنما

سراپا محبت رہنما

جناب قاضی حسین احمد کو ہم سے جدا ہوئے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے چھ برس ہو گئے۔ جن لوگوں نے ان سے ملاقات کی، ان سے گفتگو کی، ان کی تقاریر سنیں، ان کے دلوں میں محبت بھری یادیں تازہ ہیں جو آج بھی انہیں آبدیدہ کر دیتی ہیں۔ یہ جدائی محض ایک شناسا شخص کی جدائی نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی جدائی ہے جو ان کی زندگی میں للہیت، قرب الٰہی اور روحانیت کا ایک ذریعہ تھا۔ ایک ایسے شخص کی جدائی، خدا کی محبت نے جس کے دل کو خلق خدا کی محبت سے معمور کر دیا تھا۔ خلق خدا سے ایسی محبت جو انسان کو ''خیر الناس من ینفع الناس'' کی عملی تعبیر بنا دیتا ہے۔ قاضی صاحب کی شخصیت کو اگر کوئی عنوان دیا جا سکتا ہے تو وہ ''محبت'' ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک خاص پہلو مختلف النوع گروہوں کیساتھ قدر مشترک کی ایجاد تھا۔ بلاتفریق ہر انسان کیساتھ بحیثیت انسان محبت نے ہر گروہ کیلئے ان کی شخصیت میں ایک خاص کشش پیدا کر دی تھی۔ جماعت اسلامی کی دعوت کے شدید مخالفین اور ناقدین بھی ان کی ذات کے گرویدہ ہو جاتے۔ مختلف دینی، سیاسی اور سماجی فورمز پر وہ مختلف گروہوں کو مشترکہ اقدار پر یکجا کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ وہ ہمیشہ تفرقہ پیدا کرنے والے عوامل کی بجائے متحد کرنے والے عوامل پر توجہ مرکوز کرتے۔ اختلاف کو نظرانداز کرنے اور آپس میں درگزر سے کام لینے کی تلقین کرتے۔ معاملہ مختلف سیاسی جماعتوں کے اختلافات کا ہو یا مختلف دینی مکاتب فکر کو یکجا کرنے کا چیلنج درپیش ہو، قاضی صاحب قدرمشترک دریافت کرنے اور ایک خوشگوار ماحول بنانے میں کامیاب ہو جاتے۔ اسی طرح اسلام اور مغرب کی تہذیبی کشمکش میں بھی وہ مشترکہ انسانی اور دینی اقدار کی بنیاد پر حوار اور افہام وتفہیم کے قائل تھے۔ قومی منظرنامے میں وہ اتحاد ویگانگت کی علامت اور عوامی جذبات کے ترجمان تھے۔ اُمت مسلمہ کی مختلف قوموں کے امتیازی رنگ اور ان کا تنوع ان کو پسند تھا۔ اس تنوع کیلئے علامہ اقبال کا یہ شعر اکثر کہتے :

عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والی ہے

شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی

مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں کے درمیان تنسیق اور راہنمائی کا کردار ادا کرتے، ترکی کے پروفیسر نجم الدین اربکان، اخوان المسلمون کے استاد مصطفےٰ مشہور اور استاد عمر تلمسانی، ملائیشیا کے استاد فاضل نور اور فلسطین کی حماس تحریک کے قائدین کے ہمراہ بین الاقوامی امور میں عوامی سطح پر امت مسلمہ کی قیادت اور ترجمانی کی۔بسا اوقات وہ مجھے جذب وسلوک کے راہی نظر آتے۔ قرآن کریم سے تعلق کیساتھ ساتھ اقبال اور رومی کیساتھ ایک مستقل شب وروز کا تعلق ان کی شخصیت کے اس پہلو کا عکاس تھا۔ جذب وسلوک کیساتھ اس آشنائی نے ان میں مشکلات کو انگیز کرنے کی ایک منفرد صلاحیت پیدا کر دی تھی۔ میں قید وبند کے ایام، حکومتی جبر، حکومتوں کیخلاف مزاحمت اور احتجاج کے دوران ایک مختلف قاضی صاحب کا مشاہدہ کرتا۔ ان کے اندر بلا کی قوت مدافعت آجاتی، اپنی ذاتی ضروریات کا دائرہ سمیٹ لیتے، جیسے کوئی راہب اپنی خانقاہ میں چلہ کشی کے مراحل سے گزرتا ہے۔ وہ اس آیت کی تصویر بن جاتے :'' اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْف عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔''(یونس١٠:٦٢)

حس مزاح ان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو تھا جو ان کیساتھ ملاقات کو خوشگوار اور یادگار بنا دیتا۔ لاہور کے ڈاکٹرز ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔ رات کو ساتھ والے کمرے کے مکین ٹی وی پر ایک نغمے سے لطف اندوز ہو رہے تھے، جس کے بول تھے ''چاندنی راتیں، سارا جگ سوئے، ہم جاگیں، تاروں سے کریں باتیں'' ان کو پیغام بھجوایا کہ ذرا آواز آہستہ کر دیں لیکن وہ آمادہ نہ ہوئے۔ صبح ڈاکٹر شہریار اور ڈاکٹر سرور راؤنڈ پر آئے، دونوں سے دوستی کا تعلق تھا۔ ان سے ہنستے ہوئے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب آپ کا یہ کیسا ہسپتال ہے؟ میں کل ساری رات یہ نغمہ سنتا رہا اور انہیں سارا نغمہ سنا دیا۔ سارا جگ سوئے، ہم جاگیں۔ قاضی صاحب سے یہ نغمہ سن کر محفل کشت زعفران بن گئی۔قرآن کی تلاوت کو اپنے معمولات میں باقاعدگی سے وقت دینا، قرآن کو خود سمجھنا اور اپنے اہل وعیال اور قریبی افراد، ملازمین کو قرآن کا ترجمہ اور مختصر تفسیر سمجھانے کا اہتمام کرنا یہ قاضی صاحب کی شخصیت کا وہ پہلو تھا جو انہیں خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ کے زمرے میں لاتا ہے۔ بچوں کی تربیت میں قرآن پاک کی درست تلاوت، تجوید اور تلفظ کو خاص اہمیت دیتے اور اگر کوئی غلطی کرتا تو اسے درست کرتے۔ آخری چند سالوں میں جب صحت ٹھیک نہیں رہتی تھی اور مختلف مواقع میں ہم ساتھ ہوتے تو مجھے نماز کی امامت کیلئے آگے بڑھا دیتے اور بالخصوص فجر کی نماز میں لمبی سورتوں کی تلاوت کی تلقین کرتے۔ فجر کی نماز کے بعد گھر میں قاضی صاحب قرآن کا درس دیتے۔قاضی صاحب جیسی شخصیات کی کمی زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ جب اپنے اردگرد کے ماحول اور معاشرے میں دین بیزار مغرب زدہ رجحانات کو پھیلتے ہوئے دیکھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اپنے روایتی معاشرتی اداروں کی زبوں حالی کو دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ قاضی صاحب کی حسنات کو قبول فرمائے، ان کی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور ان سمیت ہم سب کو آخر میں انبیائ، صالحین اور شہداء کی معیت عطا فرمائے، آمین۔

متعلقہ خبریں