Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت حبیب ایک مرتبہ وضو کررہے تھے اور انہوں نے اپنی پوستین نکال کر ایک طرف رکھ دی تھی، حضرت حسن بصری وہاں سے گزرے اور انہوں نے آپ کی پوستین کو ایک طرف پڑے ہوئے دیکھا تو اس کی حفاظت کے لیے رک گئے ۔ حضرت حبیب وضو سے فارغ ہوئے تو حضرت حسن بصری نے پوچھا کہ آپ نے اپنی پوستین کس کے بھروسے ایک طرف چھوڑدی تھی،اگر کوئی اسے لے جاتا تو؟۔حضرت حبیب نے فرمایا اس کے بھروسے پر جس نے آپ کو اس کی نگہبانی پر مقرر کردیا۔

(مخزن صفحہ240)

حضرت مطرف کے گھر کی دیوار ایک طرف کو جھک گئی،لوگوںنے کہا اسے مرمت کیوںنہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا گھروالا(مالک)ہمیں اس گھر میں رہنے نہیں دے گا کہ ہم اس کو مرمت کریں۔

پھر فرمایاحضرت نوح نے باوجود اس قدر طویل عمر کے کھجور کی چھال کی ایک جھونپڑی بنارکھی تھی، لوگوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے لیے گھر بنالیں تو اچھا ہو۔ آپ نے فرمایا: جو چند روز تک مرجائے گا، اس کے واسطے اتنا ہی بہت ہے، پھر فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ دین کو پست کریں گے اور عمارتوں کو بلند بنائیں گے۔

(مخزن ص244)

ایک آدمی مسجد میں جھاڑو لگا کر اس کی مٹی جمع کرتا اور پھر اس مٹی سے اینٹیں بناتا،لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی توکہنے لگا یہ مبارک مٹی ہے ، اس لیے میری خواہش ہے کہ میری قبر اس مٹی کی بنی ہوئی اینٹوں سے بنائی جائے۔

چنانچہ جب وہ مرا تو اس کی قبر اسی کی بنائی ہوئی اینٹوں سے تیار کی گئی ،لیکن کچھ اینٹیں بچ گئیں ،لوگوں نے انہیں ایک گھر کی تعمیر میں استعمال کیا،اتفاقاً بارش ہوئی تو اینٹیں بکھر کر ٹوٹ گئیںاور ان میں سے دینار نکل آئے، لوگوں نے جاکر اس کی قبر کی تمام اینٹوں کو توڑا تو وہ سب دیناروں سے بھری ہوئی تھیں۔

ایک مرتبہ حجاج بن یوسف نے خطبہ دیا اور بہت لمبا کر دیاتو کافی دیر بعد لوگوں کے مجمع میں سے ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا کہ اے حجاج! نماز پڑھائو، کیوں کہ وقت کسی کا انتظار نہیںکرے گا اور خدا تجھے معزز نہیں رکھے گا، اس پر حجاج نے اسے قید کرنے کاحکم دے دیا۔ اس قیدی کی قوم کے لوگ حجاج کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ دیوانہ ہے اور درخواست کی کہ وہ اس قیدی کو چھوڑدے، حجاج نے کہا کہ اگر وہ دیوانگی کا اقرار کرے گا تو میں اسے چھوڑ دوں گا۔

پس اس قیدی سے اس بارے میں کہا گیا کہ کہہ دو کہ میں دیوانہ ہوں ، اس نے کہا: خدا کی پناہ! میں تو ہر گز یہ الفاظ نہ کہوںگا، کیوں کہ رب تعالیٰ نے مجھے کسی مرض میں مبتلا نہیں کیا ہے ،اس نے تو مجھے تندرستی عطا فرمائی ہے۔ آخر یہ بات حجاج تک پہنچی، اس کی حق گوئی اور راست گوئی کے باعث اسے معاف کردیا، معلوم یہ ہوا کہ انسان کو ہرحال میں سچ بولنا چاہیئے، اسی میںنجات بھی ہے اور گناہوں سے چھٹکارا بھی ۔

(مخزن)

متعلقہ خبریں