Daily Mashriq

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی آج سینیٹ سے منظوری لی جائے گی

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی آج سینیٹ سے منظوری لی جائے گی

اسلام اباد : آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی آج سینیٹ سے منظوری لی جائے گی ، سینیٹ سےمنظوری کےبعدصدرمملکت کےدستخط سےبل قانون بن جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس آج سہہ پہر 3بجے ہوگا، جس میں آرمی چیف جبرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کرایا جائے گا، سینیٹ میں آرمی، ائیر فورس اور نیوی ایکٹ سال 2020 کی مرحلہ وار منظوری لی جائے گی۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بلز صدر مملکت کو ارسال کئے جائیں گے ، اور صدر کے دستخط سے بل قانون بن جائے گا۔

گذشتہ روز قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کثرت رائے سے منظورکرلیا تھا جبکہ پیپلزپارٹی نےترمیمی بل پرتجاویز واپس لیں اور مسلم لیگ ن نے بھی بل کی حمایت کی۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے مطابق آرمی چیف کو زیادہ سے زیادہ تین سال کی توسیع دی جاسکے گی، وزیراعظم اس سے کم مدت کی سفارش بھی کرسکتے ہیں جبکہ تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا توسیع کسی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکے گی۔

بعد ازاں قومی اسمبلی میں منظور کردہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ، جس کے بعد بل قائمہ کمیٹی کوبھجوا دیا گیا تھا، جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل متفقہ طور پر منظورکرلیا گیا تھا۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ سینیٹ کمیٹی برائےدفاع نےبل متفقہ طور پرمنظورکرلیا، کسی جماعت کی طرف سے کوئی ترامیم پیش نہیں کی گئی، سینیٹ سےبل کی منظوری کل لی جائے گی۔

یاد رہے کہ یکم جنوری کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، ترمیمی مسودے میں آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا۔

واضح رہے سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی توسیع کرتے ہوئے حکومت کا نوٹیفکیشن مشروط طور پر منظور کرلیا اور کہا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق قانون سازی کے لئے حکومت کو پارلیمنٹ کا پابند کر تے ہوئے کہا تھا ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے 6 ماہ میں آرٹیکل 243 کی وسعت کا تعین کیا جائے۔

متعلقہ خبریں