Daily Mashriq

انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز میں ترامیم منظور

انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز میں ترامیم منظور

اسلام آباد: متفقہ طور کچھ شقیں خارج کرنے کے بعد سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے انسداد منی لانڈرنگ اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز میں ترامیم منظور کرلیں۔

 رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی رواں ماہ کے آخر میں چین کے شہر بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کے جوائنٹ گروپ سے ہونے والی براہِ راست ملاقات سے 2 ہفتے قبل سامنے آئی اس کے بعد آئندہ ماہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوگا جس میں تعین کیا جائے گا کہ آیا پاکستان نے ایکشن پلان کے تحت اتنے اقدامات کرلیے ہیں کہ اس کا نام گرے لسٹ سے خارج کیا جائے یا نہیں۔

سینیٹ کمیٹی سے منظور شدہ بل انسداد منی لانڈرنگ (ترمیم) بل 2019، اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز (ترمیم) 2019 تھے، جن کا مقصد ایف اے ٹی ایف کی جانب سے نشاندہی کردہ قانونی خامیوں کو دور کرنا ہے۔

مذکورہ مسودے کو اب منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد دوبارہ غور کے لیے اسے قومی اسمبلی واپس ارسال کیا جائے گا۔

مذکورہ بل کی منظوری کوئی آسان معاملہ ثابت نہیں ہوئی بلکہ وزارت خزانہ کے سینئر حکام کمیٹی اراکین کی جانب سے کچھ شقوں کے متفقہ اخراج پر پریشان نظر آئے، ان شقوں میں منی لانڈرنگ کی سخت سزا اور غیر ملکی کرنسی کی ملک میں نقل و حمل کو محدود کرنا شامل ہیں۔

تاہم کچھ شقیں کمیٹی اراکین نے اپوزیشن اراکین اور کمیٹی چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی مخالفت کے باجود اکثریتی ووٹ سے منظور کیں۔

سیکیریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ کی بارہا اپیلوں کے باجود کمیٹی اراکین نے ملک کے اندر 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی غیر ملکی کرنسی کی نقل و حمل روکنے اور منی لانڈرنگ کی سزا سخت کرنے کی شق کو متفقہ طور پر مسترد کیا۔

دیگر خامیوں کے علاوہ حکمراں جماعت کے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین 40 فیصد تجارت نقد ہوتی ہے اور بقیہ 60 فیصد بینک ذرائع سے انجام پاتی ہے لہٰذا 10 ہزار ڈالر کی حد بہت کم ہے اس سے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

تاہم کمیٹی نے 4 کے مقابلے 5 ووٹس سے عدالتی وارنٹس کے بغیر منی لانڈرنگ کے شبے میں کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے شق منظور کرلی۔

دو اتحادی جماعتوں (ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی) کے سینیٹرز نے منی لانڈرنگ کو ’قابل دست اندازی‘ جرم قرار دینے کی ترمیم کے حق میں ووٹ دیے۔

علاوہ ازیں حکومت نے منی لانڈرنگ کے جرم کی 10 سال قید کی سزا تجویز کی تھی لیکن کمیٹی نے سزا کو ایک سے 10 سال ہی رکھنے جبکہ جرمانہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی۔

متعلقہ خبریں