Daily Mashriq

وکلاء اور ضلعی انتظامیہ کا تنازعہ

وکلاء اور ضلعی انتظامیہ کا تنازعہ

جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں حدود اور جگہ کے تنازعے میں وکلاء کا موقف درست ہے یا راتوں رات دیوار بنا کر قبضہ حاصل کرنے والی ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ صحیح ہے اس حوالے سے تنازعہ تو کوئی انوکھی بات ہے اور نہ ہی اس کا فیصلہ زیادہ مشکل نظر آتا ہے اس لئے کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس مسئلے پر ایک مرتبہ پہلے بھی وکلاء اور محکمہ صحت کے درمیان تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور وکلاء نے زبردستی قبضے کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی کے بعد مسئلہ دب گیا تھا جواب محکمہ صحت کے دفاتر کی منتقلی کے بعد پھر سے سامنے آیا ہے۔فریقین کے دعوئوں کی حقیقت جو بھی ہو اس کا فیصلہ قانون اورریکارڈ کے مطابق ہونا چاہیئے۔بد قسمتی سے وکلاء برادری میں قانون کی پابندی کی بجائے بزور بازو اور دبائو ڈال کر جائز وناجائز منوانے کی روایت پڑ گئی ہے ۔اس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں جس میں سب سے خوفناک مثال لاہور میں ہسپتال پر حملہ اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ وکلاء کے جذباتی ساتھیوں کو سمجھانا اور ان کو حالات خراب کرنے سے باز رکھنا جہاں بار کے سینئر وکلاء کی ذمہ داری ہے وہاں تشدد کے واقعات میں ملوث وکلاء کے خلاف سخت قانونی اور تاددیبی کارروائی نہ ہونا اس قسم کے واقعات کی حوصلہ افزائی اور ہوادینے کا باعث بن رہا ہے وکلاء سے بجا طور پر توقع ہے کہ وہ اپنے کرداروعمل پر نظر ثانی کریں گے اورقانون کے تقاضوں کی رعایت رکھنے میں حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔اگر وکلاء اور کالے کوٹ والے ہی قانون شکن کہلائے جانے لگیں تو پھر معاشرے میں قانون کی پاسداری کی توقع کس سے رکھی جائے ؟یہ سوال وکلاء سے بھی اور سب متعلقہ کرداروں سے بھی ہے۔ محکمہ صحت کی زمین کے تنازعے کو جہاں ریکارڈ کے مطابق طے کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس امر کا بھی خیال رکھا جانا چاہیئے کہ اس قطعہ اراضی کی ضرورت کس کو زیادہ ہے اور اس کا ایسا کیا حل نکل سکتا ہے جو دونوں کیلئے قابل قبول ہو اور سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ بھی نہ ہو۔ضلعی انتظامیہ ہو یا پھر وکلاء قانون سب پر لاگو ہوتا ہے جو فریق بھی قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے اس کا ہاتھ روک دینا چاہیئے۔

بچوں سے زیادتی اور منشیات کی روک تھام کے تقاضے

وزیراعظم عمران خان کا معاشرے سے منشیات اور چائلڈپورونوگرافی کے خاتمے کا عزم قابل قدر ہے۔امر واقع یہ ہے کہ ان دونوں کی جڑیں معاشرے میں اس قدر گہری ہیں اور اتنے طاقتور عناصر اس سے منسلک ہیں کہ جب تک ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی نہیںہوتی جس میں معاشرے کا ہر طبقہ اور ہر ادارہ پوری قوت اور عزم کے ساتھ دلچسپی نہیں لیتا اور اپنے حصے کا عملی اقدام نہیں کرتا اس وقت تک ان دونوں برائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں اگردیکھا جائے تو یہ جڑواں برائیاں ہیں منشیات کے عادی افراد اور بچوں سے زیادتی کے مرتکب عناصر میں صرف لت اورلعنت ہی مماثل خاصیتیں نہیں بلکہ یہ دونوں لعنیںاور لت بیک وقت بھی ہو نا عین ممکن اور تجربے کی بات ہے۔وزیراعظم عمران خان کے صرف چائلڈ پورنو گرافی کا عزم کافی نہیں بلکہ وزیراعظم کو چاہیئے کہ وہ پورنوگرافی اور پورن ویڈیوز کے پاکستان میں اس قدرمئوثر ممانعت کا انتظام کروائیں کہ کسی بھی آلے کے ذریعے نیٹ تک رسائی کر کے عریان فلمیں دیکھنے کا امکان باقی نہ رہے چائلڈ پورنو گرافی کی روک تھام اور بچوں سے زیادتی کے واقعات کی مئوثر روک تھام کیلئے اسے سائبر کرائمز کے زمرے میں لانے کیلئے قانون سازی کی جائے کسی بھی قسم کی عریان فلم کسی بھی ذریعے سے دیکھنے کو قابل تعزیرجرم گردانا جائے جہاں انٹر نیٹ کو فلٹر کرنے کی ضرورت ہے وہاں جگہ جگہ اس قسم کے مواد ڈائون لوڈ کرنے کے مراکز بھی سختی سے بند کئے جائیں پورے ملک میںپولیس فحاشی پھیلانے کے ان مراکز پر چھاپے مارے اسی طرح معاشرے میں فاحشائوں اور پیشہ ورمخنثوں اور ان کے مراکز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔منشیات کی روک تھام کا اولین تقاضا معاشرے میں جا بجا نظر آنے والے نشے کے عادی افرادکو منظر عام سے ہٹا کر ان کا بحالی مراکز میں علاج کرانا ہے۔جگہ جگہ نیٹ کے ذرائع کا استعمال کر کے گاہگوں سے آرڈر لیکر منشیات سپلائی کرنے والوں کی روک تھام کی جائے سکولوں اور کالجوں میں بالخصوص اور جامعات میں بالعموم اساتذہ کو طالب علم کے نشے کے استعمال کرنے کا شک ہونے پر ان کے راز دارانہ معائینے اور ان کے والدین کو اس سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری نبھائی جائے۔جب تک گلی محلوں کی سطح پر اقدامات نہیں ہوں گے قانون کا خوف ذہنوں پر طاری نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ان دونوں لعنتون کی روک تھام ممکن نہیں۔

تبادلوں پر حزب اختلاف کے درست تحفظات

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن نے محکمہ توانائی و برقیات میں گزشتہ6 ماہ کے دوران 11سیکرٹریز تبدیل کرنے 17ماہ میں تین انسپکٹر جنرل آف پولیس کے تبادلوں اور 6ماہ بعد محکموں کے سیکرٹریز کے تبادلوں پر تشویش کا اظہا بلاوجہ نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں حکومت کے پاس اختیارات ہونے کی بحث نہیں بلکہ قابل توجہ امر یہ ہے کہ جب کسی محکمے اورادارے کے سربراہ کو کام کرنے کا مناسب ماحول،تحفظ،اعتماد اور وقت ہی نہیں دیا جائے گا تو اس سے کارکردگی اور بہتری کی توقع کیسے وابستہ کی جاسکے گی۔ہمارے تئیں حزب اختلاف نے جس امر پر احتجاج کیا ہے یہ ان سے زیادہ خود حکومت کے سوچنے کا کام ہے کہ حکومت کو جہاں ایک جانب اپنی پالیسیوں اور نیب کے اقدامات کے باعث سہمی ہوئی اور عدم تعاون کی ٹھان لینے والی بیوروکریسی کے تحفظات دور کرنے کیلئے کوشاں ہے وہاں دوسری جانب وقت بے وقت اور بلاوجہ تبادلوں کے باعث ان کو متنفرکرنے کی مرتکب ہورہی ہے جو خود حکومت کے لئے بہتر نہیں۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ کسی بھی افسر کی تقرری کے وقت اس کی صلاحیت اور رجحان دونوں کا تفصیلی جائزہ لے اور پوری طرح مطمین ہونے کے بعد ہی اس کا تقرر کرے جس کے بعد اسے کام کا آزادانہ موقع دے اور اعتماد کی ایسی فضا پیدا کرے کہ بیوروکریسی مناسب فیصلہ کرنے سے نہ ہچکچائے اور سرکاری امور میں تعطل نہ آئے۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف حزب اختلاف کی اس جائز تنقید پر سنجیدگی سے غور کرے بلکہ اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائے۔یہ اصول طے ہونا چاہیئے کہ ٹینور کی تکمیل سے قبل بلا ضرورت تبادلے نہیں کئے جائیں گے اور سرکاری ملازمین کی سوائے نظم وضبط کی خلاف ورزی یا ناقص کارکردگی کی تنبیہہ کے باوجود اپنی اصلاح نہ کرنے پر ہی بے وقت تبادلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں