Daily Mashriq

ٹیلی فون کہانی، پائول سے پومپیو تک

ٹیلی فون کہانی، پائول سے پومپیو تک

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر روسی وزیر خارجہ اور افغان صدر سمیت خطے کے کئی سول حکمرانوں سے بات کرتے ہوئے جب پاکستان کا نمبر ملانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کی۔اس طرح انہوںنے پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ براہ راست بات کرنے کا مشکوک سافیصلہ کیا اور پھر ٹویٹر کے ذریعے اس فیصلے کا اعلان بھی کر دیا کہ انہوں نے پاکستان کی افواج کے سربراہ کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بات کی ۔مائیک پومپیو کی اس ٹیلی فون کال کو نائن الیون کے بعد واشنگٹن سے آنے والی اس ٹیلی فون کال کے مترادف سمجھا گیا جس میں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ'' آپ ثابت کریں ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ''نیم شب کو آنے والی اس کال پر پاکستان کے فوجی حکمران کا فوری ردعمل تھا کہ ''ہم آپ کے ساتھ ہیں''۔اس کے بعد پاکستان نے اپنی زمین اور ائر بیسز امریکہ کے لئے کھول دی تھیں اور امریکی جہازوں نے یہاں سے اُڑانیں بھر کر افغانستان پر بمباری کا آغاز کیا تھا اوراس بمباری کا ہدف افغانستان کی وہ حکومت جسے دنیا میں تین ہی ملکوں نے جائز اور قانونی تسلیم کر رکھا تھا جس میں ایک ہم خود تھے ۔اس کے بعد پاکستان امریکہ کا اتحادی قرار پایا مگر یہ فیصلہ پاکستان کے لئے بلائوں کا صندوق کھل جانے کے مترادف قرار پایا ۔دہشت گردی کا ایک سیلابی ریلا پاکستان کی حدود میں داخل ہوگیا۔پاکستان کے وہ سٹریٹجک اثاثے جن کی بندوقوں کا رخ بھارت ،امریکہ یا کسی اور جانب تھا راجہ پورس کے ہاتھی بن کر خود ہمی پر چڑھ دوڑے تھے اور اسی ہزار افراد اس ایک ٹیلی فون کال کی نذر ہو گئے تھے ۔بعد میں امریکی وزیر خارجہ کنڈو لیز ا رائس نے اپنی کتاب میں بہت حیرت انگیز انداز میں اس پر قلم کشائی کی تھی کہ امریکیوں کا خیال تھا کہ اس ٹیلی فون کے جواب میں جنرل مشرف بہت سی شرائط رکھیں گے مشاورت کے لئے وقت مانگیں گے اور یوں انہیں منانے میں مشکل پیش آئے گی مگر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ موقع پر ہی امریکہ کا غیر مشروط ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے ۔جنر ل مشرف کے فیصلے کے نتیجے میں ملک کے طول عرض میں پھیلنے والے دہشت گردی کے کانٹے ان کے جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی کو پلکوں سے چننا پڑے ۔انہیں امریکیوں کو پاکستان سے نکا ل باہر کرنے کے لئے انتھک محنت کرنا پڑی ۔ اب مشرق وسطیٰ میں حالات کا الائو دہکا دیا گیا ہے ۔اس الائو کو ایران کے ایک صف اول کے فوجی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا ایندھن فراہم کر دیا گیا ہے ۔امریکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے مشرق وسطیٰ میں آکر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے ۔وہ یہاں نئے مشرق وسطیٰ کا ناک نقشہ تراشنے کا خواہش مند ہے اور یہاں آکراپنی سہولت اور مفاد کے مطابق مہروں کی ترتیب بدلنے کی شدید خواہش رکھتا ہے ۔کشیدگی کا یہ الائو اس وقت دہکا دیا گیا جب پاکستان سمیت کئی ممالک سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لئے کوششوں میں مصروف تھے ۔اس بات کو مزید اہمیت عراقی وزیر اعظم کے اس انکشاف سے مل رہی ہے جو انہوںنے قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی سعودی قیادت کے لئے ایرانی قیادت کا اہم پیغام لے کر عراق آئے تھے اور حملے کے دن دوسرے دن ان سے ملاقات طے تھی ۔یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ قاسم سلیمانی کے امریکہ کے ہاتھوں عراقی سرزمین پر قتل کے بعد سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے عراقی وزیر اعظم سے ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔عراقی وزیر اعظم کے اس انکشاف نے خطے میں امریکہ کے مقاصد اور منصوبوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ امریکہ خطے کے دو اہم مسلمان ملکوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کسی قسم کے تال میل کا کھلا مخالف ہے اور دونوں کے درمیان مخاصمت کی خلیج کو بڑھانے کا خواہش مند ہے ۔سیال دولت سے مالامال یہ دونوں بااثر مسلمان ملکوں کے لڑ جھگڑ کر بدحال ہونے سے امریکہ کا کیا مفاد ہے ؟یہ کوئی راز نہیں ۔اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ تیل کے کھیل بھی بڑے رحم ہیں ۔اس صورت حال میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے یہ بات وضاحت کے ساتھ کی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا ۔میجر جنرل آصف غفور نے پومپیو باجوہ گفتگو کے حوالے سے یہ وضاحت بھی کی کہ مائیک پومپیو کو بتایا گیا کہ دونوں طرف سے کشیدگی بڑھانے کے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔ جس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ٹیلی فو ن پر بات کی ۔ظاہر ہے کہ دونوں طرف سے صورت حال پر مشاورت ہوئی ہوگی ۔اس وضاحت کے بعدان سب لوگوں کو یک گونہ اطمینان ہوا جن کے ذہنوں میں یہ خدشات کلبلا رہے تھے کہ مائیک پومیو کی یہ ٹیلی فون کال نائن الیون کے بعد کولن پاول کی نیم شب کی کال ثابت نہ ہو۔پاکستان نے کولن پاول کی کال کے بعد بہت سے تلخ تجربات کا سامنا کیا ہے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس کال کے بعد پاکستان آگ اور خون کے ایک سمندر میں پھنس کر رہ گیا ۔یہ تجربہ اب پاکستان کی اجتماعی عوامی اور ریاستی دانش کا حصہ بن کر رہ گیا کہ اب کسی کی آگ میں کودنا نہیں چاہئے ۔پرائی آگ کے شعلوں میں کودنے کا مطلب اپنے گھر کو شعلوں کی راہ دکھاناہے۔ افغانستان میں امریکہ کی دوبار معاونت نے پاکستانیوں کے اجتماعی شعور میں یہ سبق گوندھ کر رکھ دیا ہے کہ کسی اور کی جنگ کا ڈھول اپنے گلے میں لٹکانا گھاٹے کے سودے اور بدنامی کے سوا کچھ نہیں۔آصف غفور کے بیان میں اسی سبق اور عزم کا اعادہ ہونا بروقت اور اچھا ہے۔

متعلقہ خبریں