Daily Mashriq

زبردستی کا ٹھینگا

زبردستی کا ٹھینگا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کو نکالا گیا تو اُسے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ کے مطابق ایسی پابندیاں عائد کی جائیں گی جن کا عراقی حکومت نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ امریکی صدر کا یہ بیان عراقی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی اُس قرارداد کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں تمام غیر ملکی بشمول امریکی فوجیوں کو ملک سے نکل جانے کا کہا گیا ہے۔ اس قرارداد پر بغداد حکومت کو عمل کرنا لازم نہیں ہے۔ عراق میں سترہ برس قبل کی فوج کشی کے بعد بظاہر ہزاروں فوجیوں کا انخلا مکمل ہو چکا ہے لیکن پھر بھی تقریبا پانچ ہزار سے زائد امریکی فوجی اب بھی موجود ہیں۔ ادھر جو اطلا عات ان دونو ں ملکو ں کے بارے میں آرہی ہیں اس کے مطا بق دونو ں میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور کسی بھی ملک کی جا نب سے نہ تو امریکی حملے کی مذمت میں کوئی ردعمل آیا ہے البتہ عراقی کی پارلیمنٹ کی متفقہ محولہ قرارداد آئی ہے اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو عالمی امن کے لیے خطرات یقینی ہیں، ایر ان کی جانب سے تو شدید ردعمل سامنے آرہا ہے حتیٰ کہ ایر ان نے نیوکلیئر معاہد و ں سے دست برداری کا اعلا ن کر دیا ہے ، ادھر میڈیا کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر کی قیمت مقرر کردی۔ایران کے سرکاری ٹی وی پر چلائی گئی رپورٹ میں کہا گیاکہ ایران کی آبادی اسی ملین ہے اسی طرح ہر شخص ایک ایک ڈالر دے گااورصدر ٹرمپ کا سر لانے والے کواسی ملین ڈالرز کی خطیر رقم بطور انعام پیش کی جائے گی۔یہ ایک شدید ردعمل ہے چنا نچہ اقوام متحد ہ کا فرض ہے کہ وہ عالمی امن کو بچانے کی غر ض سے اپنا کر دار ادا کر یہ مو قف بھی غلط نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی بچگانہ حرکت کی بناء پر نہ صرف امریکیو ں کی جا ن خطر ے میںڈال دی ہے بلکہ پوری دنیا کا امن بھی داؤ پر لگا یا ہے،سینیٹر ٹم کین کی جانب سے ایوان میں پیش کی جانے والی قرارداد کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے اختیار کو محدود کیا جائے گا۔خیال کیا جارہا ہے کہ اس قرارداد کو ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت پر مشتمل ایوان سے منظوری مل جائے گی تاہم سینیٹ میں اس کے پاس ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ سینیٹ ری پبلکن پارٹی کے زیر اثر ہے جو ٹرمپ کے ایران کے خلاف اقدامات کی حامی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ باور کرا چکے ہیں کہ ٹویٹر پر ان کی پوسٹیں ان کے عسکری اقدامات کے حوالے سے امریکی کانگرس کے لیے نوٹیفکیشن کی حیثیت رکھتی ہیں۔گویا گھر میں بھی ٹرمپ سے مخاصمت کا معاملہ عروج پرہے ،ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کو دھمکیاں نہ دیں، 52کاحوالہ دینے والے 290 یادر کھیں، نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹالٹن برگ نے کہاہے کہ خطے سے متعلق ایرانی اقدامات پر تمام اتحادیوں کوتحفظات ہیں، یورپی یونین کی سربراہ ارسیلا فان دیئر لین نے کہاہے کہ بغداد و تہران سفارتی چینل استعمال کریں، یعنی ہر طر ف سے تحمل اور سفارتی سطح پر مفاہمت کی بات کی جا رہی ہے لیکن کوئی یہ کہنے کو تیا ر نہیں ہے کہ امریکا نے عالمی دہشت گردی کا طریقہ اختیار کیا ہے اگر امریکا کو جنر ل سلیمانی سے کو ئی شکا یت تھی تو امر یکا کو چاہیے تھا کہ وہ بھی ایک مہذب ملک کی طر ح اس معاملے کو عالمی برادری کے پاس لے جا تا جیسا کہ اس نے ایر انی جنر ل پر حملہ کر نے کے بعد کہا کہ ایر ان نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی ہے البتہ بات چیت میں کا میا بی حاصل کی ہے ، بات چیت کا راستہ امریکا کے لیے بھی اس وقت کھلا ہو ا تھا ۔انہوں نے ایران کے حوالے سے کہاکہ وہ کبھی بھی ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دینگے،اپنے مواخذے کے حوالے سے ان کا کہناتھاکہ ڈیموکریٹس دغاباز ہیں انہیں چاہیے کہ وہ میرے مواخذے کی تحقیقات کو فوری طور پر بند کردیں کیوں کہ امریکامیں اور بھی دیگر مسائل ہیں جن پر بحث کئے جانے کی ضرورت ہے۔تاہم امریکی حملے کے بعد سے دنیا کی جانب سے بھی اس واقعہ کے بارے میں تشویشنا ک تبصرے آ رہے ہیں ، امریکی صدر نے حملے کے فوری بعد دنیا بھر کے ممالک کی سیا سی قیا دت سے رابطے کر کے اپنا موقف واضح کیا مگر پاکستان کی سیاسی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں کیا ، تاہم گزشتہ رو ز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسمبلی میںاپنی تقریر کے ذریعے پر پاکستان کو مو قف پیش کیا جو عوام کے جذبات سے ہم آہنگ ہے انھو ں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ''امریکا کی طرف سے ایرانی کمانڈر پر حملے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور یہ خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔''انہوں نے کہا کہ تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے منشور میں موجود اصولوں اور عالمی قانون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ''خارجہ پالیسی پر موجودہ حکومت کی واضح سمت ہے'' ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،ہمسایوں میں امن و امان کی بہتر صورتحال ہمارے مفاد میں ہے اور اقتصادی استحکام کا خواب ہمسایہ ممالک میں امن و استحکام قائم ہونے تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی جبکہ ہم طاقت کے استعمال اور یکطرفہ کارروائیوں کی حمایت نہیں کریں گے۔تنازع کا حصہ بنیں گے نہ کسی کے خلاف استعمال ہوں گے۔

متعلقہ خبریں