Daily Mashriq

عوامی مسائل وانٹرویو، جیل خانے اور کالونی

عوامی مسائل وانٹرویو، جیل خانے اور کالونی

اگرچہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان نے حال ہی میں کرک کا دورہ کیا اور وہاں کے عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔مشرق اخبار کے صفحہ اول پر ایک بڑے رنگین اشتہار میں کرک کے مسائل کو نمبروار وزیراعلیٰ کے علم میں لایا گیا۔علاقے کے عوامی نمائندوں نے اور کرک میں سپاسنامہ میں بھی وزیراعلیٰ کو وہاں کے مسائل گوش گزار کئے گئے ہوں گے ویسے بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود بھی بے خبر نہیں ہوں گے گزشتہ وموجودہ اسمبلی میں بھی کرک کے مسائل ان کے علم میں ہوں گے۔مجھے تو دور لاہور میں بیٹھ کر قارئین کے برقی پیغامات اور ان کو مسلسل کالم لکھتے ہوئے اب یہ ازبرہوگیا ہے کہ کرک کے عوامی مسائل میں سر فہرست پینے کا پانی اور مواصلات کی دشواریاں ہیں ایک قاری نے اصرار کے ساتھ برقی پیغام میں کرک کی تحصیل تخت نصرتی میں سڑکوں کی بد ترین حالت کی طرف توجہ دلانے کی استدعا کی ہے لغاری بانڈہ کی سڑک خاص طور پر شکستگی کا شکار ہے جس سے علاقے کے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔بنوں کے ہمارے ایک قاری سلیم نے بلند فاطمہ خیل میں دوسال سے گیس پائپ لائن بچھانے کے باوجود گیس کی بڑی پائپ لائن سے جوڑ کر گیس نہ دینے کی شکایت کی ہے۔انہوں نے گیس پائپ لائن کے جگہ جگہ سے ٹوٹنے کا بھی تذکرہ کیا ہے بہرحال اصل مسئلہ بلند فاطمہ خیل بنوں کو انتظامات کے باوجود گیس کی عدم فراہمی کا ہے جس پر جتنا جلد ہو سکے عملی کام کی تکمیل کی ضرورت ہے تاکہ علاقے کے عوام کو مہنگی ایل پی جی خریدنے سے نجات ملے۔بنوں سے ایک اور شکایت کی ابتدائی تاریخوں میں اے ٹی ایمز کی بندش اور خرابی کی بھی ملی ہے جس پر کمرشل بینکوں کے علاقائی وصوبائی سربراہ اور خاص طور پر چیف مینجر سٹیٹ بنک پشاور کو نوٹس لینا چاہیئے۔اتفاق سے ایک اور برقی پیغام بھی بنوں ہی سے ملا ہے جس کے مطابق کمشنر آفس بنوں میں کمپیوٹر آپریٹر کی ایک آسامی اوپن میرٹ اور ایک اسامی معذوروں کے کوٹہ کا تھا۔متعدد امید واروں نے ٹیسٹ وانٹر ویو دیئے لیکن ابھی تک تقرری نہیں کی گئی ۔سرکاری کاموں میں دیر سویر ہوتی ہے تاخیر کی جو بھی وجوہات ہوں میرٹ پر اور حقدار کی تقرری ہونی چاہیئے خاص طور پر معذوروں کے کوٹے کے امیدواروں کی جلد ی تقرری کی جائے۔ محمد راویل خان نے ٹوپی صوابی سے اپنے قریبی عزیز بچے کے گردے کے علاج کیلئے امداد کی اپیل کی ہے ان کا نمبر مشرق آفس میں محفوظ ہے کوئی نیک دل بندہ یا ادارہ مدد کرنا چاہے تو وہ فون نمبر لیکر ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔پشاور سے عمران عادل نے شدید مہنگائی کا رونا رویا ہے۔مہنگائی اور عوام کی حالت زار کا مزید ذکر کرنے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ تبدیلی کی مہنگائی عوام کو کھا گئی ہے عوام کو مہنگائی سے بچائیں اور جس قسم کی ریاست بناناچاہیں وہ بعد میں بنائیں۔ ایک مختصر سا برقی پیغام ہے کہ اڈیالہ جیل کے حالات دیکھو ہر جگہ رشوت چلتی ہے ۔میرے خیال اور معلومات کے مطابق صرف اڈیالہ جیل ہی نہیں جہاں رشوت چلتی ہے خیبرپختونخوا کی چھوٹی بڑی جیلوں میں بھی صورتحال یہی ہے۔کوئٹہ جیل میں25ٹی وی سیٹ ،موبائل فون،منشیات اور دیگر سامان تعیش کی برآمدگی کیا بغیر بھاری رشوت دیئے بغیر رکھنا اور پہنچانا آسان تھا کم وبیش دوسرے جیلوں کی حالت بھی ایسی ہی ہوگی حکومت اگر کوئٹہ جیل کی طرح دیگر جیلوں میں بھی اپنے نمائندے بھیجے تو صورتحال مختلف نہیں ہوگی۔جیلوں میں پیسہ خرچ کرنے پر سب کچھ ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ جیل جاکر بھی قیدی اور سزایافتہ نہیں لگتے جس کی وجہ سے قیدوبند کا خوف ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔قانون کا نفاذ اگر تھانوں اور جیلوں میں نہیں تو پھر سڑکوں پر اس کا نفاذ کون کرے گا۔محمد حاصل چترال کالونی ناصر باغ روڈ سے لکھتے ہیں کہ ان کے علاقے میں بے تحاشا لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے حالانکہ علاقے کے تمام لوگ بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔پانی کا کوئی انتظام نہیں۔نکاسی آب سوئی گیس اور سڑک وغیرہ کے مسائل بھی ہیں۔علاقے سے منتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی آکر سبز باغ دکھا کر چلے جاتے ہیں وعدے کے باوجود عوام کے مسائل کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ ڈھائی تین سو گھروں پر مشتمل زرعی اراضی پر قائم کالونی اگر باقاعدہ منظور شدہ اورسرکاری اجازت کے ساتھ بنائی گئی ہے تو اوربات ہے اتنی کم آبادی والی کالونی قانونی طور پر کالونی نہیں کہلائی جا سکتی اولاً اس طرح کی کالونیاں بنتی ہی نہیں چاہئیں لوگوں نے اگر اپنی ضرورت کے تحت بنا ہی لی ہے تو ان کو مطلوبہ سہولیات کی فراہمی ہونی چاہیئے۔عوام خود اپنے مفاد میں کسی بھی جگہ پلاٹ لینے سے قبل اگر معلومات حاصل کر یں تو اس قسم کے مسائل کی شکایت نہیں ہوگی۔

قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں