Daily Mashriq

حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں

حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں

وطن عزیز کو درپیش مسائل پر نظر ڈالیںتو شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے ہمارے روپے کی قدر کم سے کم تر ہوتی چلی جارہی ہے توانائی کا بحران ہے کہ ہر روز بڑھتا ہی چلا جارہا ہے بجلی نا یا ب سے نایاب تر ہوتی چلی جارہی ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی ٹھوس حل تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی ۔ معاشرہ بہت سی اکائیوں میں بٹا ہوا ہے جب بیسیوں قسم کے نظام تعلیم رائج ہوں تو ایک سوچ ایک قوم کہاں سے ابھرے گی لوگ تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اس سے عوام میں روز بروز بے چینی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ بد امنی کا عفریت چنگھاڑ رہا ہے کسی کی جان ومال محفوظ نہیں ہے ادارے توڑ پھوڑ کا شکار ہیں رشوت کا بازار گرم ہے۔سب اپنے اپنے مفادات کی بھول بھلیوں میں الجھے ہوئے ہیںسب یہی سوچ رہے ہیں کہ کیا پتہ کل کیا ہو اس لیے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا تو ایک طرف رہا اب تو اس میں بڑے خشوع و خضوع سے اشنان پر اشنان کیے جارہے ہیں بات کروڑوں کو بہت پیچھے چھوڑ کربڑی آ گے بڑھ چکی ہے اب تو اربوں کھربوں کی کرپشن ہے اب تو بر خوردار بھی کرپشن کی اس دلدل میں گھٹنوں گھٹنوں اتر چکے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ! یہ وہ حالات ہیں جنھیں دیکھ کر لبوں پر غالب کا یہ شعر بے اختیار مچلنے لگتا ہے۔

حیراںہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں۔ مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔کچھ حکیم صاحبان صرف اور صرف حکمرانوں اور سیاستدانوں کی خرابیاں نکالتے نہیں تھکتے ان کا یہ خیال ہے کہ سارے فساد کی جڑ ہمارے سیاستدان اور حکمران ٹولہ ہے ۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ ہمارے عوام بھی کسی سے کم نہیں ہیںانھیں بھی کسی کے دکھ درد کا خیال نہیں ہے یہ بھی زیادہ سے زیادہ مال بنانے کے چکر میںمبتلا ہیںیہ دودھ میں ملاوٹ کرتے ہیں جعلی دوائیاں بیچتے ہیں دکانداروں نے تجاوزات کی حد تمام کردی ہے مینا بازار سے خواتین کا گزرنا محال ہے قصہ خوانی کے فٹ پاتھ پر تجاوزات کی بھر مار ہے ۔ پشاور پر ایک مہر بانی یہ ہوئی ہے کہ اب جگہ جگہ کباڑیوں نے دکانیں کھول رکھی ہیں ان کی برکات کی وجہ سے اب کسی گلی کی نالی پر پڑے ہوئے لوہے کے ڈھکن محفوظ نہیں رہے نالیوں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے چیزیں اٹھانے والے بوری بردار بچے یہ ڈھکن پہلی فرصت میں اٹھا کر ان کباڑیوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں جو ان سے کوڑیوں کے مول خرید لیے جاتے ہیں ۔ اسی طرح ہیرئوین کے عادی نوجوان بھی چھوٹی چھوٹی چوریاں کر کے مال غنیمت ان کباڑیوں کے ہاتھوں بہت تھوڑے داموں بیچ ڈالتے ہیںلیکن یہ سب کیا دھرا بھی تو مقامی آبادی کا ہے پشاور کے تمام رہائشی علاقے اب کمرشل علاقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ جس کا گھر بھی سڑک کے کنارے تھا اس نے گھر مسمار کر کے پلازہ تعمیر کردیا تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو۔ یہی حال گل بہار جیسے پوش علاقے کا بھی ہے سڑک پر کوئی ایسا گھر نہیں بچا جس کے نیچے مالک مکان نے دو چار دکانیں تعمیر نہ کر ڈالی ہوں اب جگہ جگہ چٹخارہ ہائوس کھلے ہوئے ہیں چکن بوٹی اور چکن ملائی بھی مل رہی ہے ساتھ ہی گردے بھی بھنے جارہے ہیں ان کی ٹکا ٹک بھی ہے اور ان دکانوں کے سامنے پارک کی گئی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں بھی ہیں اب یقینا ٹریفک بھی جام ہو گی اور گزرنے والوں کی مشکلات میں اضافہ بھی ہو گا۔

ایک صاحب نے ہم سے شکایت کی کہ جناب ہر مہینے کسٹم والے گاڑیاں اور دوسری اشیاء نیلام کرتے ہیں پہلے یہ نیلامی بڑے صاف شفاف طریقے سے کی جاتی تھی اب بھی کسٹم اہل کار اور ٹھیکیدار صاحب بڑی دیانت داری سے نیلام کا اہتمام کرتے ہیں لیکن آج کل اس نیلامی میں بہت زیادہ بدمزگی کا باعث ٹائوٹس ہیں جو اپنی گھٹیا حرکات کی وجہ سے نیلامی کے صاف شفاف نظام کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیںان کا تدارک ضرور ہونا چاہیے لو کرلو گل ! چائے میں ملاوٹ مصالحہ جات میں ملاوٹ صفائی کا انتہائی ناقص انتظام گلی کا خاکروب غائب اگر اسے ڈرایا دھمکایا جائے کہ ہم آپ کی شکایت کریں گے آپ اتنی زیادہ چھٹیاں نہ کیا کریں تو وہ بڑی ادائے بے نیازی سے مسکرا کر آپ کی طرف دیکھتا ہے اس کا اطمینان یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کچھ بھی کر لیں حکام بالا اس سے راضی ہیں اس کے خلاف کسی نے کوئی ایکشن نہیں لینا۔یہ اور اس طرح کے بیسیوں ایسے کام ہیں جن کا تعلق عوام کے ساتھ ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جیسا منہ ویسا تھپڑ جیسی روح ویسے فرشتے۔ جب آپ بہت تھوڑے اختیار میں بھی اپنے حصے کا کام نہیں کرتے اور جہاں موقع ملے ڈنڈی مارنے سے نہیں چوکتے تو پھر حکمرانوں سے کیسا گلہ؟ سیاستدانوں سے کیسی شکایت ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ اگر ہم نے اپنا قبلہ درست کر لیا تو پھر سب کچھ درست ہو جائے گا یہ بڑی آسانی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے نانبائی کم تول رہا ہے ناقص آٹا استعمال کر رہا ہے سینکڑوں قسم کی ٹافیاں ٹاپ پاپ جنگل پاپ چپس اور نجانے کیا کیا بک رہا ہے گھروں میں فیکٹریاں کھلی ہوئی ہیںبچے ان ناقص اشیاء کے کھانے سے بیمار پڑجاتے ہیں طرح طرح کی آئس کریم مارکیٹ میں موجود ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ ان ناقص اشیاء کو روکنا ان کے بنانے اور بیچنے پر پاپندی لگانا ہمارے فرائض میں شامل ہے یہ ہماری ہی تصویریں ہیں اگریہ بد صورت ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم بد صورت ہیں جب تک ہم اپنی خامیوں کو تسلیم نہیں کرتے ان کی اصلاح بھی نہیں کی جاسکتی ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے !۔

متعلقہ خبریں