Daily Mashriq

حد ادب گستاخ یوںنہ ہم سے بات کر

حد ادب گستاخ یوںنہ ہم سے بات کر

تھپڑ کی گونج بالآخر پارلیمنٹ تک پہنچ گئی،اس پر ہمیں ایک بھارتی فلم کرمایاد آرہی ہے اس فلم میں دلیپ کمار نے فلم کے ولن ڈاکٹر ڈین(انوپم کھیر) کو ایک تھپڑ رسید کرتا ہے تو اس تھپڑ کی گونج دور دور تک سنائی دیتی ہے یعنی ایکو کے ذریعے بار بار سنائی جاتی ہے،ڈاکٹر ڈین شدید غصے میں دلیپ کمار(پولیس کمشنر) کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے،تم نے مجھے تھپڑ مارکر جو غلطی کی ہے اس کی گونج بہت جلدی دور دور تک سنائی دے گی اور اس کے بعد ڈاکٹر ڈین کے لوگ نہ صرف اسے جیل سے چھڑا کر لے جاتے ہیں بلکہ پولیس کمشنر کے گھر پر شارپ سوٹر بھیج کر اس کے خاندان کے افراد کو گولیو کی بوجھاڑ سے بھون کر رکھ دیتے ہیں اور پولیس کمشنر کی بیوی کو پوتے سمیت اغوا کرلیتے ہیں۔تاہم وہ تو فلم ہے جس میں کچھ بھی دکھانا ممکن ہوتا ہے کیونکہ فلم بنانے والوں کو پیسے کمانے ہوتے ہیں۔البتہ یہاں جس تھپڑ کی گونج قومی اسمبلی کے فلور پر سنائی دی ہے اس میں نہ کوئی پولیس کمشنر ملوث ہے نہ ڈاکٹر ڈین جیسا کوئی کردار،البتہ یہ اس واقعے کا ردعمل تھا جو چند روز پہلے ایک وفاقی وزیر فواد چودہدری اور ایک ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے مابین ہوئے افسوسناک صورتحال نے جنم لیا تھا، اب اس میں زیادتی کس کی تھی یہ تو کہنا مشکل ہے کیونکہ دونوں جانب کے بیانئے اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور اخبارات میں جس طرح یہ واقعہ رپورٹ ہوا ہے اس کے مطابق ٹی وی اینکر نے کچھ سیاستدانوں کے حوالے سے اپنے پروگرام میںبعض نازیبا قسم کی وڈیوز کا تذکرہ کر کے بقول وفاقی وزیر سیاسی رہنمائوں کی پگڑیاں اچھالنے کی کوشش میں وزیر موصوف کو بھی نہیں بخشا،تو گزشتہ روز ایک صوبائی وزیر کے بیٹے کے دعوت ولیمہ کے دوران جب متعلقہ وزیر نے اینکر سے پوچھا کہ ان کے بارے میں وڈیو کہاں ہے تو جواب ملا،میرے پاس نہیں ہے۔ وزیر موصوف نے اینکر پر واضح کردیا کہ

حد ادب گستاخ یوں نہ ہم سے بات کر

دیوار میں چنوادیئے کتنے ہی سر پھرے

متعلقہ اینکر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے میں ماہرہیں،پشتو زبان میں ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ دھرے اونے مہ خورہ،دیو بہ دے گانڈیرشی،یعنی ہر درخت کا پھل نہ چھکو کسی ایک کا پھل زہریلا بھی ہوسکتا ہے۔سو گزشتہ روز کے واقعے سے یہی بات سامنے آئی ہے،تاہم قومی اسمبلی میں اس واقعے کی گونج یوں سنائی دی کہ لیگ(ن) کے خواجہ آصف اور فواد چوہدری کے مابین بھی لفظی تکرار نے دلچسپ صورتحال اس وقت اختیار کی جب خواجہ صاحب نے وزیر موصوف کے بارے میں کہا کہ وہ خود بھی اینکر رہ چکے ہیں اور اس دوران میں وہ جو کچھ کرتے رہے،یعنی لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے رہے تو انہیں وہ دن بھی نہیں بھولنے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ ہم نے خود اپنی عزت نیلامی کیلئے رکھی ہوئی ہے،ہم خود پارلیمنٹ میں جو کچھ کر رہے ہیں اس میں میڈیا کا کیا قصور ہے،اگر حکومت کے خلاف میڈیا بات کرے تو پیمرا سرگرم ہو جاتا ہے،فواد چوہدری نے لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں ہیں،اس کا کیا ہوگا،اب اپنی پگڑی اچھلنے کامزہ لو،ہم بھی سیریس ڈیبیٹ کی طرف آنا چاہیتے ہیں۔فواد چوہدری نے خواجہ آصف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے بی بی شہید کی کردار کشی کی ہو وہ ہمیں اخلاقیات نہ سکھائیں۔میں جب اینکر تھا تو کسی کی پگڑی نہیں اچھالی تھی،خاتون وفاقی وزیر زرتاج گل نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کھڑے ہو کر یہاں گالیاں دیتے ہیں تو سب بھول جاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ویڈیو لائی جائے ورنہ ایف آئی اے الزام لگانے والوں کو پکڑے،عزت سب کی برابر ہے،زرتاج گل صاحبہ کی بات سے تو واضح ہوگیا ہے کہ پارلیمنٹ میں یہ لوگ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال کر بھی ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے دشمن داری کے دوران فریقین کا ایک دوسرے کے حوالے سے رویہ ہوتا ہے یعنی بقول خالد خواجہ

مجھے ہی سوچتا رہتا ہے میرااک دشمن

میں دور رہ کے بھی دشمن کے گھر میںرہتا ہوں

وزیر صاحبہ کی بات بالکل درست ہے یعنی اگر وڈیو ہے توسامنے لائی جائے ورنہ فضول میں پگڑیاں اچھالنے کا کام بند کیا جائے،ویسے اس پر کیا ان لوگوں سے یہ مطالبہ جو لیگ(ن) کے رانا ثناء اللہ تواتر کے ساتھ کر رہے ہیں کیسے غلط ہو سکتا ہے کہ ان سے مبینہ طور پر بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد کئے جانے کی وہ وڈیو سامنے لائی جائے جس کے بارے میں ایک وفاقی وزیر مملکت''اللہ کو جان دینے''کے بیانئے کے ساتھ پارلیمنٹ اور پریس کانفرنسوں تک میں دعوے کرتے رہے ہیں،مگر عدالت میں اس وڈیو کی موجودگی سے متعلقہ ایجنسی نے انکار کردیا ہے، دراصل ہماری سیاست ان دنوں جن حالات سے دوچار ہے اور سیاسی اختلافات کو ذاتی بغض وعناد ، نفرت وحقارت اور کردار کشی کے دلدل میں ڈبو دیا گیاہے،اس کے ایسے ہی نتائج نکل سکتے ہیں،کل اپنے مخالفین کے خلاف اقدامات پر جس طرح خوشیوں کا اظہار کیا جا تا تھا،آج موقع ملتے ہی دیگر فریقوں کا بھی وہی حشر کیا جارہا ہے یعنی جیسا کروگے ویسا بھروگے،لیکن آج جو لوگ میڈیا کے بعض افراد کو''ناپسندیدہ''کی صف میں شامل کر رہے ہیں ،یہ وہی لوگ ہیں جو گزشتہ کل ان کے بیانئے کا ساتھ دے رہے تھے،اسی لئے تو فرمایا گیا ہے(مفہوم)ہم انسانوں میں دن پھیرتے رہتے ہیں۔اسی وجہ سے تو کہا گیا ہے کہ فاعتبرویا اولی الابصار۔

متعلقہ خبریں