Daily Mashriq

بلاامتیاز احتساب قومی ایجنڈا ہونا چاہئے

بلاامتیاز احتساب قومی ایجنڈا ہونا چاہئے


قومی سلامتی کمیٹی کی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیلئے سرمائے کی فراہمی کی روک تھام کے حوالے سے ملکی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے پختہ عزم کا اعادہ ہی کافی نہیں بلکہ اس ضمن میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے عملی طور پراس کی روک تھام ہو اور یہ اقدامات بین الاقوامی برادری کیلئے قابل قبول ہی نہیں قابل اعتماد بھی ہوں۔ ان اقدامات کے اٹھانے کی ضرورت بہت پہلے تھی اگر ماضی کی حکومتیں اس پر توجہ دیتیں تو ملک کو نہ تو عالمی طور پر شکوک وشبہات کا سامنا کرنا پڑتا اور ملک سے سرمائے کی غیر قانونی منتقلی کی بھی روک تھام ہو جاتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں سٹیٹ بنک اور ایف آئی اے پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو غیر قانونی اور مشکوک قسم کے سرمائے کی منتقلی پر کڑی نظر رکھیں اور اس کی روک تھام باہمی رابطوں اور تعاون سے ممکن بنائیں۔ ایف آئی اے اور سٹیٹ بینک کے حکام کا اس ضمن میں ماضی کاریکارڈ اس بناء پر تکلیف دہ ہے کہ ان دونوں اداروں نے اس معاملے پر نہ صرف نظر نہ رکھنے کی کوتاہی کی بلکہ منی لانڈرنگ خواہ ملک سے پیسہ باہر لے جانے کی صورت میں ہو واضح طور پر تساہل برتا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محولہ دونوں ادارے منی لانڈرنگ کے جو مقدمات اب ٹٹول رہے ہیں اس کا بروقت نوٹس کیوں نہ لیا گیا اور اب تک تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں۔ بہرحال اس کی سیاسی اور دیگر کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اب جبکہ ملک میں بااثر افراد کے احتساب کی ممکنہ طور پر وقتی یا پھر سنجیدہ احتساب کی جو فضا پیدا ہوئی ہے محولہ دونوں ادارے اگر چاہیں تو نگران دور حکومت میں ماضی کی کوتاہیوں کا بڑے پیمانے پر ازالہ کرنے کا ان کے پاس موقع موجود ہے۔ ایک بات اب قومی طور پر طے ہونی چاہئے کہ ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کے چھوٹے بڑے اور بہت بڑے تمام واقعات کی درجہ بدرجہ تحقیقات ہونی چاہئے اور قطع نظر اس کے سیاسی ودیگر محرکات کے اس معاملے کو خالصتاً قومی خزانے کے نقصان کو دوبارہ قومی خزانے میں جمع کرا کے پوری کرنے کے سخت گیر اقدامات کئے جائیں۔ قومی اداروں کو اس تاثر کا باعث نہیں بننا چاہئے کہ ایک مخصوص طبقے اور سیاسی بنیادوں پر کسی کا احتساب ہو رہا ہے ان کیخلاف مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں اور انہی کو سزائیں بھی ہو رہی ہیں۔ اس قسم کی صورتحال سے عوام کی احتساب کے عمل پر اعتماد کی شکستگی فطری امر ہوگا۔ اگر عوام کو ہر سیاسی جماعت' ہر گزری ہوئی حکومت اور ہر اہم اور بڑے منصوبے میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے کسی کو فائدہ پہنچانے یا پھر نقصان دینے کا کوئی واقعہ سامنے آئے تو اس کی مکمل غیرجانبداری کیساتھ تحقیقات اور ذمہ داری کیساتھ شواہد اور ثبوتوں کیساتھ مقدمات کا اندراج وہ قومی فریضہ ہے جس کی ادائیگی میں اب تساہل کی گنجائش نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو کی سندھ میں موجودہ فعالیت کافی نہیں اور چند ایک مقدمات کا اندراج لیکن ساتھ ہی حال ہی کے کچھ بڑے مگرمچھوں کے معاملات کا پس منظر میں چلے جانا قابل قبول رویہ نہیں جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کا معروف اینکر اور سمٹ بینک کے سابق سربراہ حسین لوائی سے تقریباً 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں ایف آئی اے کے دفتر میں پوچھ گچھ اچھی پیش رفت ہے۔ کیس سے متعلقہ ذرائع کا کہنا تھا کہ حسین لوائی اور دیگر 3 بینکرز نے3 مختلف نجی بینکوں میں29 جعلی بینک اکاؤنٹس بنائے جن میں سندھ حکومت کے مراعات یافتہ افراد نے رقوم جمع کرائی تھیں، بعدازاں مبینہ طور پر اہم سیاستدان، ان کے کاروبار میں شراکت دار اور عرب شہری کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئیں۔ یہ معاملہ بھی اس وقت سنجیدگی سے لیا گیا سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کا ازخود نوٹس لیا گیا جس کے بعد ہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر لا اسلام آباد سے ہنگامی بنیادوں پر کراچی جاکر تحقیقات کی خود نگرانی کی حالانکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے ایف آئی اے کو ان مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی۔ اس کیس کی چھان بین سے بڑے بڑے عناصر کی طرف معاملات کا مڑ جانا تقریباً یقینی ہے۔ صرف اسی پر کیا موقوف بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی جن جن معاملات کا نیب نوٹس لے چکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں ان کا جلد کوئی نتیجہ اگر سامنے نہیں آتا تو کیس کا متعین رخ ضرور سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو انتخابات میں ہر قابل ذکر سیاسی جماعت کے چوٹی کے افراد اور قیادت بارے ایسی مستند معلومات ہوں جو ان کی رائے کی تبدیلی یا پھر رائے تبدیل نہ کرنے بارے ممد ومعاون ثابت ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کو رقوم کی فراہمی میں نوعیت الگ الگ ہو سکتی ہیں لیکن رقوم کی منتقلی کے چینلز میں اشتراک کی موجودگی بعیداز امکان نہیں۔ منی لانڈرنگ اور ملک میں غیرقانونی طور پر سرمایہ لانے کی ترجیحی بنیادوں پر تحقیقات کیساتھ ساتھ اگر ہر پراپرٹی کنگ زمین کی بڑے پیمانے پر لین دین میں ملوث افراد اور بڑے بڑے اداروں کے معاملات کی چھان بین کی جائے تو ایسی بہت سی کہانیاں سامنے آسکتی ہیں جو بدعنوانی کی ماں کہلائیں۔ قوم شفاف اور عمودی انداز میں تحقیقات اور بلاامتیاز احتساب چاہتی ہے تاکہ قومی خزانہ لوٹنے والے اور غیر قانونی طور پر دولت کے ڈھیر لگانے والے بے نقاب ہوں اور ملک وقوم کا پیسہ ہی قومی خزانے میں جمع نہ ہو بلکہ دنیا کیلئے یہ اقدامات قابل قبول ہوں اور ملک کا نام گرے لسٹ میں نہ رہے۔

اداریہ