Daily Mashriq

عوام سرکاری کالجوں کی تعداد بڑھانے کا عہد لیں

عوام سرکاری کالجوں کی تعداد بڑھانے کا عہد لیں


پشاورکے عوامی وسماجی حلقوں کی طرف سے تمام سرکاری کالجز میں طلبہ کیلئے نشستوں کی تعداد میں اضافے کا بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود صوبائی دارالحکومت میں سرکاری کالجوں کی تعداد بڑھانے پر کوئی توجہ نہ دینا حیرت انگیز امر ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے کالجوں میں صوبہ بھر کے طالب علم داخلوں کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ پشاور کے ہزاروں طلبہ کیلئے ہی کالجوں میں داخلے کیلئے نشستیں نہیں اور نہ ہی دوسری شفٹ شروع کرکے اس مسئلے کی شدت کوکم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔ عوامی حلقے ہر بار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گرلز وبوائز کالجز میں نشستوں کی کمی کے باعث ہر سال طلبہ کی بہت بڑی تعداد داخلوں سے محروم رہ جاتی ہے اس لئے تمام سرکاری کالجز میں طلبہ کی تعداد کے پیش نظر نشستوں میں اضافہ کیا جائے اور نئے سرکاری کالج قائم کئے جائیں جبکہ نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کے طلبہ کا استحصال کوئی کہانی نہیں لیکن اس کے باوجود اگر دیکھا جائے تو نجی کالجز اور یونیورسٹیاں طلبہ کو معیاری تعلیم دینے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ٹیکس دہندگان ہیں ان کو حکومت کی طرف سے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولت نہیں ملتی، ان کے بچے پلے گروپ سے لیکر یونیورسٹی تک نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اور علاج نجی طبی مراکز سے کرانے پر مجبور ہیں۔ اس قسم کے معاشرے میں کسی سے ٹیکس نہ دینے کی شکایت بھی مناسب نہیں لگتا۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی اولاً تعداد بہت کم ہے اور جو ہیں وہاں تعلیم کا معیار اس قدر پست ہے کہ طلبہ وہاں جانا ہی نہیں چاہتے۔ سرکاری کالجوں کے اساتذہ کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں میں کلاس لیتے نہیں یا پھر ان کی حاضری اور لیکچر خانہ پری ہوتی ہے جبکہ یہی اساتذہ ٹیوشن سنٹرز میں پسینہ بہا بہا کر لیکچر دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ آوے کا آوا بگڑے اس صورتحال میں عوام کی شکایات قہردرویش برجان دوریش ہی کے مصداق بن کر رہ گئی ہے۔ نگران حکومت سرکاری کالجوں کی تعداد میں اضافہ تو نہیں کر سکتی لیکن ٹیوشن مراکز سے وابستہ سرکاری اساتذہ پر پابندی تو لگا سکتی ہے اور ان کو سرکاری تعلیمی اداروں میں محنت سے پڑھانے کا تو پابند کیا جا سکتا ہے۔ جو امیدوار صوبائی دارالحکومت سے صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں اہالیان پشاور کو چاہئے کہ وہ ہر امیدوار سے کامیابی کے بعد صوبائی دارالحکومت میں اپنے اپنے حلقوں میں مزید سرکاری کالجوں کے قیام اور کالجوں میں دوسری شفٹ شروع کروانے کا وعدہ لیں۔

اداریہ