Daily Mashriq


چیف جسٹس کے حکم کی کھلی خلاف ورزی

چیف جسٹس کے حکم کی کھلی خلاف ورزی

گوکہ بمشکل ماہ دو ماہ قبل چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پشاور کی تمام بند سڑکیں کھولنے کے احکامات جاری کئے تھے تاہم گلبہار پولیس سٹیشن کے سامنے سڑک کو تاحال عوام کیلئے نہ صرف نہیں کھولا گیا ہے بلکہ کھلی سڑک بھی بند کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو جی ٹی روڈ تک جانے کیلئے نشتر آباد کا راستہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق سڑک کا بیشتر حصہ گاڑیوں کے گزرنے کیلئے کھولا جا سکتا ہے جس سے شہریوں کو سہولت میسر ہوگی تاہم پولیس نے پھر بھی اس سڑک کو بند کیا ہوا ہے۔ ڈھٹائی کا یہ عالم کہ چیف جسٹس کے احکامات کی ذرا بھی پرواہ نہیں اور ایس ایچ او سڑک کی بندش کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہیں گوکہ دکھاوے کیلئے گورنر ہاؤس کیساتھ دیوار مسمار کر دی گئی ہے لیکن عملاً سڑک سے پھر بھی گزرنے کی اجازت نہیں۔ ڈبگری گارڈن میں خیبر میڈیکل سنٹر کے بالمقابل پولیس دفتر کے گرد رکاوٹوں کا حصار چیف جسٹس کے حکم کے باوجود بھی ہٹائے نہیں گئے۔ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے یا پولیس کی، چیف جسٹس کا حکم قابل عمل ہے یا پھر خیبر پختونخوا کی پولیس کی مرضی کہ جس حکم پر چاہے تو عملدرآمد کرے اور جس حکم کا چاہے تمسخر اُڑائے۔ محولہ خلاف ورزیاں کوئی پوشیدہ نہیں بلکہ عدالت کا کوئی بھی فرد اس خلاف ورزی کا معائنہ کر سکتا ہے اور یہ بھی ناممکن نہیں کہ اس سے وہ بے خبر ہوں۔ اس صورتحال سے عدالت عظمیٰ کے احکامات اور عدالت عالیہ پشاور کی حدود میں چیف جسٹس کے احکامات کی دھجیاں اُڑانے کے مظاہر تکلیف دہ معاملات ہیں۔ عوام کا پولیس سٹیٹ کے اس کردار وعمل پر حیرت کا اظہار بے موقع نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا کی طرف سے پوری صراحت سے پولیس کی ڈھٹائی کی نشاندہی کا کس حد تک نوٹس لیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں