Daily Mashriq


ن لیگ کی انتخابی حکمت عملی

ن لیگ کی انتخابی حکمت عملی

بڑا فیصلہ آگیا۔ نواز شریف کو دس سال ' مریم نواز کو سات سات اور کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ۔ مسلم لیگ کے کارکنوں نے بعض شہروں میں احتجاج کیے ' تحریک انصاف کے کارکنوں نے جشن منائے ۔عام انتخابات نزدیک آ رہے ہیں، پارٹیاں اور کارکن ان کی تیاری میں مصروف ہیں۔ قرائن سے لگتا ہے کہ ن لیگ نے کسی ملک گیر احتجاج کا پروگرام نہیں بنایا تھا ورنہ میاں شہباز شریف کو پریس کانفرنس میں پرامن رہنے کی تلقین نہ کرنی پڑتی۔حالانکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ق لیگ سے نودرآمدشدہ مشاہد حسین سید نے بیک وقت مزاحمت اور پرامن انتخابی مہم کی سٹریٹیجی اختیار کرنے پر ن لیگ کو قائل کر لیا تھا۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے ایک بڑے جلسے میں عوام کو نواز شریف کے خلاف فیصلے پر دو نفل شکرانے کے ادا کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ پہلی بار کسی طاقتور کو سزا ہوئی۔ حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی طاقتور تو تھے ہی۔اس فیصلے کی توقع تو تھی لیکن عمران خان فیصلے کی اس صورت پر کوئی سوچا سمجھا بیان دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق کے بیان پر سرخی ہے کہ اکیلے نواز شریف کو سزا دینا ناانصافی ہے ۔ اس طرح ان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ سزا کے مستوجب اور بہت سے لوگوں کے خلاف مقدمہ لے کر عدالتوں میں جائیں۔ خورشید شاہ ' آصف زرداری اور اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ فیصلہ غلط وقت پر آیا ہے ، ان کا غالباً یہ خیال ہے کہ اس فیصلے سے مسلم لیگ ن کو ہمدردی کا ووٹ مل جائے گا۔ لیکن یہاں تک مقدمے کو طویل کرنے کی کوشش خود میاں نواز شریف اور ان کے وکلاء نے کی ہے ورنہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ منی ٹریل پیش کر دی جاتی تو مقدمہ شروع ہی میں ختم ہوجاتا۔ مقدمے کا فیصلہ میاں نواز شریف اور اہل خانہ نے ایون فیلڈ میں بیٹھ کر سنا جن کے بارے میںفیصلہ میں ضبطی کا حکم ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلہ کے باوجود پاکستان جائیں گے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ انہوں نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ کمرۂ عدالت میں کھڑے ہو کر فیصلہ سننا چاہتے ہیں لیکن اہلیہ کی مسلسل بے ہوشی کی وجہ سے پاکستان نہیں جا سکتے۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ بیگم صاحبہ ہوش میں آجائیں تو وہ پاکستان روانہ ہو جائیں گے۔ لیکن بیگم صاحبہ کے ہوش میں آنے کی امید کب کی جاسکتی ہے یہ خدا ہی جانے یا ان کے ڈاکٹر کچھ اندازہ بتا سکتے ہیں۔ اس لیے نواز شریف کے پاکستان آنے کی خبریں شائع ہوتی رہیں گی لیکن وہ آئیں گے تب جب بیگم صاحبہ کو ہوش مند دیکھ سکیں گے یا انتخابی مہم کے لیے اپنی ملک میں موجودگی ضروری سمجھیں گے۔ اللہ کرے کہ وہ بیگم صاحبہ کو ساتھ ہی پاکستان لے کر آئیں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے پاکستان آئیں گے۔ جو مریض وینٹی لیٹر پر ہوتے ہیں ان میں سے بعض ایسے بھی دیکھے گئے ہیں جو ہفتوں مہینوں تک وینٹی لیٹر پر رہتے ہیں ' بعض ہوش میں آبھی جاتے ہیں اور بعض نہیں بھی آتے۔ اس کا مطلب یہ لیا جانا چاہیے کہ اگر بیگم صاحبہ کی بے ہوشی برقرار رہتی ہے تو بھی وہ الیکشن سے پہلے پاکستان میںہوں گے ۔ اور ''جیل سے بھی جدوجہد جاری رکھیں گے۔'' اس بارے میں قانون دانوں کی آراء مختلف ہیں کہ آیا ان کی اپیل ان کی غیر موجودگی میں ان کے وکلاء دائر کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ان کی ضمانت ہو سکتی ہے یا نہیں اور یہ کہ اپیل کی سماعت کے دوران سزا معطل ہو سکتی ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہیں ستر سال کی تاریخ کا رُخ موڑنے کی کوشش کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند جرنیل اور جج قوم پر غلامی مسلط کر دیتے ہیں ۔ لیکن اس مقدمے میں انہیں ایک تاریخی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے جب عدالت نے تمام ملزمان کو کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں بنانے کے الزام سے بری کر دیا۔کرپشن بڑی وسیع اصطلاح ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے ریفرنس میں شریف خاندان پر کرپشن کا الزام تھا جس کی تحقیقات کے نتیجے میں ثابت ہوا کہ کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں نہیں بنائی گئیں؟ اگر اثاثے جائز آمدنی سے بنائے گئے تو انہیں چھپانے کی کیا ضرورت تھی اور اثاثے چھپانے کے الزام میں سزا اس بنیاد پر سنائی گئی۔ اس سے مقدمے کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے اور آخرکار سوال وہی رہ جاتا ہے کہ منی ٹریل دی جائے جو شریف خاندان دینے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن ابھی دو ریفرنس اور بھی زیرِ سماعت ہیں ان کا فیصلہ ابھی آنا ہے۔ بہرحال میاں نواز شریف اعلان کر رہے ہیں کہ وہ جلد ستر سال کی تاریخ کا رخ موڑنے کی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پاکستان آئیں گے ' ان کا آنا ایک طرف بیگم کلثوم نواز کے ہوش میں آنے سے مشروط ہے دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن سے پہلے پاکستان آئیں گے یعنی مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم میں جان ڈالنے اور انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے خواہ انہیں جیل سے کرنی پڑے۔ مسلم لیگ ن کا فوری ردِعمل مزاحمت کا نہیں ہوا۔ خودرو احتجاجی ریلیاں ضرور نکالی گئیں لیکن صدر مسلم لیگ میاں شہباز شریف نے فیصلہ آنے سے کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں جو تقریر کی اس کے آخر میں انہوں نے ورکروں سے کہا کہ وہ پرامن رہیں۔ یوں بھی لگتا ہے کہ ن لیگ نے بطور جماعت پہلے سے ملک گیر احتجاج کا کوئی پروگرام نہیں بنایا تھا۔ عدالت کے باہر جو ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے وہ بھی نہیں لگے اور نہ ہی کارکنوں نے عدالت تک جانے کے لیے زور مارا۔ میاں شہباز شریف نے اگرچہ احتساب عدالت کا فیصلہ مسترد کر نے کا اعلان کیا تاہم انہوں نے کہا ہے کہ فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ فیصلہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور آصف زرداری بھی یہی بات کہہ رہے ہیں ۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں