Daily Mashriq


پاکستان کو تبدیل ہونا ہی ہوگا

پاکستان کو تبدیل ہونا ہی ہوگا

ستر برس کی مدت اگرچہ قوموں اور ملکوں کی زندگی میں کوئی بڑی مدت نہیں لیکن بہرحال اتنی کم بھی نہیں ہوتی کہ کوئی قابل ذکر پیش رفت ہی نہ ہو سکے۔ دنیا میں چین، اسرائیل، ملائیشیا، کوریا اور کئی ایک دیگر ممالک ہیں جنہوں نے ہمارے بعد آزادی حاصل کر کے قومی سفر شروع کیا اور آج ان کے عوام کو تعلیم، صحت اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات ازقسم بجلی، گیس، پانی کی سہولیات دستیاب ہیں جبکہ ہمارے ہاں عوام کو جو کچھ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں میسر تھا، آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا گیا اور آج حال یہ ہے کہ ستر فیصد عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ پاکستانی عوام کے مسائل اور مشکلات کے ایک ہزار ایک اسباب ہوسکتے ہیں لیکن سب سے بڑا سبب کرپشن ہے۔ کرپشن کے ذریعے وہ قومی دولت جس کو عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونا چاہئے تھا، بڑوں کی تجوریوں میں چلی جاتی ہے اور عوام روٹی، کپڑا، مکان جیسے بنیادی ضروریات کیلئے ترستے رہ جاتے ہیں۔ غضب خدا کا، یہ پاکستان اور عوام کیساتھ کتنا بڑا ظلم ہے کہ عوام ہزاروں لاکھوں ووٹ دیکر ان لوگوں کو اپنے نمائندے کے طور پر صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں میں پہنچاتے ہیں تاکہ وہاں قانون سازی کر کے ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ سینکڑوں کے ایوان میں چند ایک کے استثنیٰ کے علاوہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے غریب اور ان پڑھ عوام کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے ووٹ بٹور کر اسلئے اسمبلی میں پہنچتے ہیں کہ وہاں اپنے صوابدیدی فنڈز حاصل کر کے اس میں سے کچھ فنڈ تو برائے نام لیپا پوتی کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اپنے ہی من پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے خرچ کروا دیتے ہیں۔ قارئین کرام ایسی بات کی تائید کریں گے (انشاء اللہ) کہ گزشتہ جمہوری وغیر جمہوری لیکن جمہوری ادوار میں بالخصوص عوامی فلاح کے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچنے میں وہ سال ڈیڑھ کے اندر ہی غیرمعیاری مواد کے استعمال کے سبب محکمہ آثارقدیمہ کے نوادرات میں شمار ہونے کے قابل لگتے ہیں۔ پختونخوا کے تقریباً سارے اضلاع میں بڑے شہر کی سڑکیں ملاحظہ کیجئے۔ ان پر کروڑوں خرچ کیا جاتا ہے لیکن صرف کاغذوں میں اور اسی سبب بہت جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پرائمری اور مڈل وہائی سکولوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کیلئے اربوں کا فنڈ جاری کیا لیکن آپ یقین جانئے کہ سکولوں کی مینجمنٹ بالخصوص زنانہ پرائمری سکولوں کی ہیڈ مسٹریس کیساتھ سازباز کر کے فنڈز کا کم ازکم نصف ڈکار لئے بغیر ہڑپ کر جاتے ہیں اور سکولوں کی بہتری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں تین محکمے واپڈا، پولیس اور سی این ڈبلیو عرف عام کی حد تک کرپشن میں ڈوبے چلے آرہے ہیں لیکن اب زنانہ پرائمری سکولوں میں کرپٹ اے ڈی اور بالخصوص ڈی ای اوز نیغدر مچایا ہے لیکن گزشتہ حکومت نے کئی ایک ڈی ای اوز کو دو بار ٹرانسفر اور انکوائریز وغیرہ کے ذریعے تھوڑا سا لگام ضرور ڈالاگیا لیکن پرائمری سکولوں کی کرپٹ مافیا کے پیچھے زنانہ سکولوں کیلئے مردانہ مینجمنٹ سٹاف بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور اس قسم کی ساری چیزوں کے پیچھے کرپٹ ایم پی ایز اور وزراء ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک زمانے سے یہ چیز تیقن کیساتھ چلی آرہی ہے کہ انتخاب پیسے کے بغیر لڑنا ناممکنات میں سے ہے لہٰذا پیسے والے انتخابات میں جیتنے کیلئے جتنا زیادہ پیسہ پھینکتے ہیں اُتنا ہی اُن کے جیتنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہاں تک بھی شنید ہے کہ الیکشن کے قریبی ایام میں بعض اُمیدوار اپنے تعارفی کارڈ کیساتھ ہزار روپے کا جعلی نوٹ بھی رات کو گھروں میں پھنکوا دیتے ہیں جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ووٹ مجھے دو اور ہزار کا اصلی نوٹ لو۔ (دروغ برگردن رادی) لیکن اس بات میں کچھ حقیقت اسلئے نظرآتی ہے کہ ہمارے انتخابی امیدواروں میں دو تہائی نہ سہی کم ازکم آدھے اُمیدوار تو ایسے ہوتے ہیں جن کا جاگیردار اور دولتمند ہونے کے علاوہ اور کوئی کوالیفکیشن اور صلاحیت نہیں ہوتی۔ میں اس بات کی تائید کیلئے ایوب خان دور کی کابینہ میں موجود اراکین اسمبلی کے عوام سے ہمارے ایک محترم جج کی بات کا حوالہ دینا چاہوں گا جو انہوں نے ایوبی اراکین اسمبلی کو دیکھ کر کہی تھی کہ جو لوگ ہماری عدالتوں میں ملزم ومجرم کی حیثیت سے پیش ہوتے رہے ہیں آج وطن عزیز کے معاملات سدھارنے (برباد وتباہ کرنے)کیلئے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ اس وقت یہ حال تھا تو آج کا اندازہ صاحبان عقل وفکر کیلئے لگانا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہمارے یہ حکمران اور وزراء واراکین اسمبلی اور دیگر بڑے افسران کتنے بدقسمت ہیں کہ پاکستان کے عوام ان کو حکمرانی کا حق دے کر عزت وفضیلت کی مسند پر فائز کراتے ہیں اور یہ ظالم اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم اور عوام کی محبت، اعتماد اور حق خدمت کو پس پشت ڈالتے ہوئے عوام کے ٹیکسوں اور ملکی آمدن کو حیلوں بہانوں سے ہتھیاکر لندن، دبئی، سنگاپور، ملائیشیا اور ساؤتھ افریقہ میں کروڑں اربوں کے محلات اور جائیدادیں خریدتے ہیں اور ملک کو یہودیوں کے سودی ادارے آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھوا کر ملکی خودمختاری، سا لمیت اور خودی کو داؤ پر لگا دیتے ہیں لیکن اب شاید پاکستان تبدیل ہونے کو ہے (انشاء اللہ)۔

متعلقہ خبریں