Daily Mashriq

یہ احتساب مضبوط ہے

یہ احتساب مضبوط ہے

یہ کمال لوگ ہیں۔ ان کی باتیں بھی کیا حیران کن ہیں۔ عدالت نے انہیں مجرم ثابت کر دیا ہے۔ سزا سنا دی ہے۔ جرمانے کر دیئے ہیں۔ جیل میں قید بامشقت کا حکمنامہ جاری کر دیا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ان کیخلاف کوئی بات ثابت نہیں کی جاسکی۔ کیا وہ اس ملک کے لوگوں کو واقعی اتنا احمق سمجھتے ہیں یا انہیں ان باتوں کا یقین ہے جو وہ کیا کرتے ہیں۔ میں نے اس بات کو بہت دھیان سے، احتیاط سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ٹھیک ہے یہ قوم کے مجرم ہیں لیکن میں انہیں قطعی اتنا ذہین نہیں سمجھ سکتی کہ وہ عیاری سے جھوٹ بولیں اور پھر اس پر مسلسل قائم رہیں اس میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ وہ مسلسل یہ کہتے رہیں کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور عدالت ان پر کچھ ثابت نہیں کر سکی حالانکہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ خود ہی میڈیا کے سامنے وقتاً فوقتاً اپنی جائیدادوں خصوصاً ایون فیلڈ کی جائیداد کے حوالے سے ایسے بیانات جاری کرتے رہے ہیں جنہوں نے فیصلہ ان کیخلاف جاری ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور فیصلے میں ان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور یہ پھر بھی اپنی رٹ پر قائم ہیں۔ فیصلہ آتے ہی میاں شہباز شریف نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ میاں نواز شریف بھی مسلسل مسترد کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کونسی بات ہے جو انہیں اپنے بیان پر قائم رکھے ہوئے ہے۔ میں نے کئی لوگوں سے یہ سوال کیا ہے اور ان کی توجیہات بھی سنی ہیں۔ ان کی منطق میں بھی وزن ہے کہ کوئی مجرم، کبھی اپنا جرم قبول نہیں کرتا سو ان سے یہ کیسے اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ مان لیں گے۔ ان کی جانب سے اعتراف تو دیوانے کا خواب ہے۔ درست کہتے ہیں، میں مانتی ہوں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس میں کچھ کردار، فہم ادراک کا بھی ہے۔ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اپنی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے، ذاتی مفاد کیلئے اقدام کرنا اور مفاد عامہ کو نظر میں نہ رکھنا جرم ہوتا ہے۔ وہ تو انتہائی معصومیت سے سوچتے ہونگے کہ آخر جو کچھ ہم نے کیا اس میں کیا غلط ہے۔ مثلاً سی پیک کے تحت بجلی بنانے کے کارخانے تو لگائے ہی جانے تھے۔ اگر ڈیم بنانے اور پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی طرف جاتے تو فوری ضرویات سے کیسے عہدہ براء ہوتے۔ اسی لئے کوئلے سے بجلی بنانے کے کارخانے لگانے پڑے۔ اب یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت چین میں چین کے فارغ کئے ہوئے ان کارخانوں کی مشینری موجود تھی۔ اس مشینری کو جائز طریقے سے خریدا، پاکستان میں کارخانے لگانے کے معاہدے کئے۔ لوگوں کو بجلی چاہئے تھی، انہیں فراہم تو کرنی ہی تھی۔ وہی قیمت جو پاکستانی عوام کسی اور کو ادا کرتے، وہ اگر اسحٰق ڈار یا کسی دوسرے سیاستدان کے بجلی بنانے کے کارخانے کو ادا کرینگے تو اس میں کیا بے ایمانی ہے۔ سننے والے بھی چونکہ کم علم لوگ ہیں اس لئے اثبات میں سر ہلائینگے کہ عالی جناب درست فرماتے ہیں، انہیں بے وجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کرنے والے بھی ملی جلی رائے دینگے اور کوئی اتنا نہیں سوچے گا کہ اپنی حیثیت اور مرتبے کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا آئینی طور پر جرم ہے جبکہ مفاد عامہ اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہو۔ ساہیوال میں لگائے گئے کوئلے سے بجلی بنانے کے کارخانے سے کتنے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، کوئی نہیں جانتا کیونکہ پاکستان میں تحقیق کا رواج بہت کم ہے۔ اعداد وشمار صرف منصوبہ شروع ہونے کے بعد اکٹھے کئے جاتے ہیں جیسے لاہور کے ایک منصوبے میں ہوا جس کا PC-1 منصوبے کی تعمیر کیساتھ ساتھ بنایا جاتا رہا۔ کون یہ حساب لگائے گا کہ ان منصوبوں سے لوگوں کی صحت پر کیا اثر پڑا۔ کینسر کے مریضوں کی تعداد کتنی بڑھ گئی پھر یہی سیاستدان اپنی نجی محفلوں میں بیٹھ کر ٹھٹھے لگاتے ہیں۔ بھلا اور کسی علاقے میں دنیا کے کسی اور ملک میں لوگوں کو کینسر نہیں ہوتا یا وہاں بھی ہمارے کارخانے کے اثرات پہنچتے ہیں۔ ادراک کی کمی جرم کو ٹھٹھا بنا دیتی ہے اور انسان نہیں سمجھتا کہ وہ دراصل کس کم فہمی اور کم علمی کا شکار ہے۔ میاں صاحب کیخلاف ایون فیلڈ مقدمے کا فیصلہ، کمزور ہے یا طاقتور میں نہیں سمجھتی لیکن اتنا جانتی ہوں یہ تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ لوگ ایک گزشتہ فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں جس میں میاں نواز شریف کو 21سال کیلئے نااہل کیا گیا تھا لیکن اب حالات ویسے نہیں۔ پہلے کبھی کسی ووٹر نے نمائندوں کے گریباں نہیں تھامے کہ انہوں نے اپنی گزشتہ حکومت میں کام نہیں کئے۔ اب کی بار ایسا ہو رہا ہے۔ پہلے کبھی بیوروکریسی میں سیاستدانوں کے خاص لوگ نہیں پکڑے گئے اور یوں مکمل احتساب نہیں کیا گیا۔ اب کی بار فضا ہی مختلف ہے اور لوگوں کے ارادے بھی الگ ہیں۔ میاں نواز شریف کی آنکھیں کھول دینے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس فیصلے کے بعد بھی لوگ جذباتی ہو کر سڑکوں پر نہیں نکلے۔ کہیں کوئی توڑپھوڑ نہیں ہوئی۔ لوگ اب لٹنے سے تنگ آئے ہوئے ہیں، کب تک کوئی سونے کی مسند پر بیٹھے خدا کی پرستش کرے۔ لوگ دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں، آسانی چاہتے ہیں۔ تبھی یہ احتساب اتنا مضبوط ہے کیونکہ اس میں عام آدمی کا اثبات میں ہلتا سر دکھائی دیتا ہے۔

اداریہ