Daily Mashriq

اندیشہ زوال

اندیشہ زوال

جمعہ کے روز دو اہم فیصلے آئے جس میں سے ایک فیصلے کو بہت ہی اہمیت حاصل رہی، اہمیت ہونی بھی چاہئے تھی کیونکہ عالمی سطح پر اس فیصلے کیلئے نظریں منتظر تھیں۔ جس اہم فیصلے کو زیادہ پذیرائی نہ ملی وہ تھی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے انتہائی قریبی دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے خارج کرنے کا حکم جاری کر دیا، زلفی بخاری دیرینہ مسلم لیگی رہنماء سید ظفر علی شاہ کے داماد ہیں اور انہی کی ایماء پر ظفرعلی شاہ نے مسلم لیگ ن سے ناتا توڑکر تحریک انصاف میں شمولیت کی ہے، جہاں تک اہم ترین فیصلے کا تعلق ہے تو یہ خبر گھر گھر پہنچ چکی ہے کہ نوازشریف، ان کی بیٹی اور داماد کو ایون فیلڈ فلیٹس میںسزا سنا دی گئی ہے۔ یہ سزا کس انداز میں سنائی گئی ہے وہ بھی تاریخ کا حصہ قرار پا رہی ہے۔ جمعہ کے روز جب عدالت لگی تو عدالت نے فیصلہ سنانے کو مؤخر کرنے کے بارے میں پہلے درخواست کی سماعت کی اور اس درخواست کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ عدالتی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ سنانے کی تاریخ کو مؤخر کرنے کی درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا جاتا مگر عدالت کے جج صاحب نے فوری فیصلہ سنانے کی بجائے اعلان کیا کہ فیصلہ ساڑھے گیارہ بجے سنایا جائے گا، بعدازاں جب مقرر وقت ہوا تو فیصلہ کو دو بجے تک مؤخر کر دیا گیا۔ اس کے بعد اڑھائی بجے کا وقت دیا گیا، پھر چار بجے کا وقت مقرر کیا گیا، وقت کی بار بار تبدیلی کے بارے میں لوگ حیران بھی تھے اور پریشان بھی تھے کہ ماجرا کیا ہے کیونکہ جب بھی عدالت فیصلہ سنانے کے بارے میں تاریخ مقرر کرتی ہے تو وقت مقررہ پر فیصلہ سنایا جاتا ہے چنانچہ یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ تاخیر تھی تو کچھ باعث تاخیر بھی ہوگا، اس بارے میں بتایا گیا کہ فیصلہ سو صفحات پر مشتمل ہے اور ان کی چار چار نقول بنانی ہیں جس پر وقت لگتا ہے۔ گویا ان چار سو صفحات کی فوٹو اسٹیٹ بنانے میں سارا دن لگ گیا۔خیر یہ تو ضمنی بات تھی اب عوام اتنے بڑے فیصلے کے اثرات کے بارے میںجاننا چاہتے ہیں اور اس بارے میں تبصرے کر رہے ہیں۔ فوری صورتحال تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر حسین کو ایک تو ضمانت کرانی ہے، دوم اس فیصلے کیخلاف اپیل بھی کرنی ہے جس کیلئے ان کے پاس دس روز کی مدت ہے چنانچہ پاکستانی عدالتی نظام کے مطابق ہائی کورٹ میں یا کسی عدالت میں سزا کے فیصلے کیخلاف اپیل کرنے کیلئے خود عدالت میں پیش ہونا ہوتا ہے چنانچہ میاں نواز شریف کو پاکستان آنا ہوگا ورنہ وہ فیصلے کیخلاف اپیل کرنے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ اپیل دائر کرنے کی غرض سے پاکستان لوٹتے ہیں تو ان کو یقینی طور پر اس ہوائی مستقر پر گرفتارکر لیا جائے گا جہاں ان کا جہاز اُترے گا چنانچہ انہوں نے واپسی کا اعلان کر تو دیا ہے لیکن ان کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کو مشکلات نے ہرسو گھیر رکھا ہے۔ ایک طرف ان کی گرفتاری ہے تو دوسری جانب ان کی اہلیہ شدید علیل ہیں اور وہ اس معاملے میں ہمدرد ی کے مستحق بھی ہیں، تو دوسری جانب پاکستان میں عام انتخابات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے بارے میں ایک مقولا کہا جا رہا ہے کہ ان کی سیاسی زندگی جنرل ضیاء کے ذریعے شروع ہوئی اور واجد ضیاء کے ذریعے بجھ گئی، چنانچہ یہ سوچ بھی اُبھری ہے کہ کیا نواز شریف اور ان کے خاندان کا ایسا سیاسی زوال ہو گیا ہے کہ اب وہ سیاست سے ہمیشہ کیلئے خارج ہو کر رہ گئے ہیں مگر تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ جو شخصیت عوام کے دل میں بستی ہے اس کو کسی بھی حربے سے ختم نہیںکیا جا سکتا۔اس امر سے کوئی انکار نہیںکر سکتا کہ نواز شریف نے سول بالادستی کیلئے جو بیانیہ جاری کیا ہے اور اس کیلئے جس ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے وہ تاریخ کا روشن باب ہے، ستر سال سے پاکستان میں سول بالادستی کا جو حشرنشر ہوتا آرہا ہے وہ ایک المیہ ہی قرار پا تا ہے،1951ء میں سب سے پہلے سول برتری کا گلہ گھونٹنے کی سعی بد کی گئی تھی جو پاکستان کی تاریخ میں راولپنڈی سازش کیس سے موسوم کیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ جب راولپنڈی سازش کیس کا کھوج لگا تو اس میں کچھ سویلین اور کچھ فوجی شامل تھے جن کو گرفتارکر کے ان کا مقدمہ سول عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ضرورت تھی کہ فوجی عدالت میں یہ مقدمہ لے جایا جاتا۔ اس مقدمے میں قید کی سزائیں تو ہوئیں مگر کسی کا کورٹ مارشل نہیں ہوا، ان میںکئی نامور لوگ شامل تھے، ممتاز شاعر فیض احمد فیض، میجر جنرل اکبر خان، کرنل ارباب نیاز جو سابق وزیراعلیٰٰ ارباب جہانگیر کے برادر اکبر تھے، جب ان کیخلاف مقدمہ جاری تھا تو دوران سماعت ایک موقع پر عدالت کی سماعت کرنے والے جج نے استفسار کیا کہ وہ لیاقت علی خان کی حکومت کے کیوں مخالف ہوئے تو میجر جنرل اکبر نے جواب دیا کہ لیاقت خان کرپٹ، نااہل اور بھارت کی طرف رجحان رکھتا ہے، قائد ملت لیاقت علی خان جن کو تحریک پاکستان میں قائداعظم کے بعد دوسرے نمبر پر فوقیت حاصل تھی، جن کے انتقال پر ان کی جب شیروانی جسم سے جدا کی گئی تو انہوں نے پھٹی ہوئی قمیض پہن رکھی تھی۔ وہ وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز تھے، ان کا کوئی مکان ذاتی ملکیت میںنہیں تھا، وہ ریاست کرنال کے نواب تھے، اپنی تمام جائیداد چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی اور معاوضہ میںکچھ بھی تو حاصل نہیں کیا گیا اور ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ کرپٹ ہیں۔ (باقی صفحہ 7)

اداریہ