Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات


امام مالک کے پاس جب لوگ علم حاصل کرنے کے لئے آتے تو ایک خادمہ ان لوگوں سے پہلے دریافت کرتی کہ حدیث مبارکہ کے لیے آئے ہیں یا فقہی مسائل معلوم کرنے کے لیے ؟ اگر حدیث کی سماعت کے لیے ان کا آنا ہوتا تو امام مالک غسل کر کے خوشبو لگاتے اور نیا لباس زیب تن کر کے باہر تشریف لاتے ۔ آپ کے لیے ایک تخت بچھایا جاتا ، جس پر بیٹھ کر آپ حدیث بیان فرماتے ۔ اثنائے روایت ، مجلس میں عود (خوشبو) کی دھونی دی جاتی ۔ کسی طالب علم نے اس اہتمام کی وجہ پوچھی تو فرمایا : میں چاہتا ہوںکہ اس طرح سیدنا رسول اکرم واطہر ۖ کی حدیث کی تعظیم کروں ۔ حضرت عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ میں امام مالک کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ ہم سے احادیث نبویۖ بیان فرما رہے تھے ۔ قرأت حدیث کے دوران آپ کا رنگ زرد ہو رہا تھا ۔ مگر آپ نے حدیث مبارک کو قطع نہ کیا ۔ جب آپ روایت حدیث سے فارغ ہو ئے تو مجھے فرمایا کہ : ذرا میری کمر دیکھو ؟ میں نے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ ایک بچھو نے سولہ جگہ ڈسا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ : آپ نے بتا کیوں نہ دیا ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ ۖ کے کلام کی عظمت کی وجہ سے صبر کیا ۔امام مالک اپنے عقل وفہم میں بچپن ہی سے مشہور تھے ۔ ان کے ابتدائی استاد امام ربیعة الرائے جب ان کو اپنی مجلس میں آتا دیکھتے تو فرماتے : عاقل (دانا آدمی) آگیا ۔
امام نے ایک جوان کو دیکھا جو اکڑ کر چل رہا تھا ۔ آپ نے اس کی اصلاح کی تدبیر سوچی اور جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے ساتھ ساتھ جاکر اسی انداز میں چلنے لگے اور ساتھ ہی اس سے یوںمخاطب ہوئے : میرا یوں چلنے کا انداز آپ کو کیسا لگا ؟اس نے کہا : اچھا نہیں لگا ۔ امام نے فرمایا : پھر تم بھی اپنے چلنے کا انداز بدل لو ۔ یہ بات اس نوجوان کے دل میں اتر گئی اور اس نے اپنے چلنے کا انداز اسی وقت بدل لیا ۔ امام مالک کو پھلوں میں سے کیلا بہت پسند تھا ۔ فرماتے تھے : اس پھل پر مکھی نہیں بیٹھتی اور نہ گندا ہاتھ لگتا ہے ۔ جنت کے پھلوں کے مشابہہ ہے ۔ سردی گرمی ہر موسم میں ملتا ہے ۔ یہ جنت کے پھل کی خصوصیت ہے ۔ آپ اپنے اہل وعیال سے بہت خوش خلقی سے پیش آتے ۔
فرماتے تھے : تم بھی ایسا کیا کرو ! اس میں تمہارے رب کی رضا اور خوشنودی ہے ۔
مدینہ طیبہ میںایک روز شور ہوا کہ ہاتھی آیا ہے ۔ امام مالک کے شاگرد آپ سے اجازت لے کر ہاتھی دیکھنے چلے گئے ۔ آپ کے شاگردوں میں سے ایک وہیں بیٹھے رہے ۔ امام نے انہیں فرمایا : یحییٰ بن یحییٰ ! آپ ہاتھی دیکھنے نہیں گئے ؟ لائق شاگرد نے کہا : میں اندلس سے تحصیل علم و عمل کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں ، ہاتھی دیکھنے نہیں آیا ۔ امام مالک اپنے ہونہار شاگرد کا یہ جواب سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : تم اندلس کے سب سے بڑے مرد دانا ہو ۔ استاد کی بات شاگرد کے حق میں اکسیر ثابت ہوئی وہ بڑے ہو کر واقعی علم وفضل میں اہل اندلس کے نامور لوگوں میں شمار ہوئے ۔

اداریہ