Daily Mashriq

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے پاکستانی معیشت پر اثرات

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے پاکستانی معیشت پر اثرات

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ہونے والی سمگلنگ کا دھندہ برسوں سے جاری ہے‘ ماضی میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے یہ حکمت عملی اپنائی گئی کہ طورخم اور چمن بارڈر پر لینڈپورٹ اتھارٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سمگلنگ کو روکا جائے۔ اس مقصد کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے چھ ارب روپے سے زائد کی لاگت سے طورخم اور چمن بارڈر پر لینڈپورٹ اتھارٹی قائم کی گئی، اس تجارت کی آڑ میں سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے پاکستان سے گزرنے والے افغان ٹرکوں کے قافلوں کی نگرانی بھی کی گئی لیکن اس کے باوجود متعدد ایسے واقعات سامنے آئے کہ پاکستان کے راستے افغانستان بھجوائے جانے والے سامان کے کنٹینروںکو سرحد پار کرنے سے پہلے ہی ٹول ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی دئیے بغیر یہ سامان پاکستان ہی میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ یہ سامان چونکہ امپورٹڈ ہوتا ہے اس لئے اس کا معیار لوکل سامان کی نسبت بہت اعلیٰ ہوتا ہے‘ دوسرا یہ کہ چونکہ اس سامان پر ٹیکس نہیں دیا گیا ہوتا اس لئے یہ سامان سستے داموں فروخت کر دیا جاتا ہے جس کا ملکی معیشت کو نقصان ہونے کیساتھ ساتھ لوکل صنعت اور تاجروں کو بھی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا اور آئے روز ٹرک ڈرائیوروں کے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت32ممالک لینڈلاک ہیں یعنی ان کے پاس بندرگاہ نہیں، وہ تجارتی سامان ٹرانزٹ معاہدے کے تحت منگواتے ہیں۔ بھارت نیپال کو ٹرانزٹ کی سہولت دیتا ہے لیکن اس کیلئے نیپال سے ہر سال ڈیمانڈ لے لی جاتی ہے اور ڈیمانڈ کے مطابق اسے مال دیا جاتا ہے جبکہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو افغانستان نے ہمیشہ منفی مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے۔ افغانستان کی تعمیر وترقی کیلئے پاکستان نے راہداری دی جس کی وجہ سے افغانستان کی ساری تجارت پاکستان کے ذریعے سے ہونے لگی۔ یہ امر بھی مشاہدے میں آیا کہ افغانستان اپنی ضروریات سے کئی گنا زیادہ مال منگواتا ہے جس کا اکثر حصہ سمگل ہو کر پاکستان میں ہی فروخت ہوجاتا ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کا تمام مال چونکہ ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہوتا ہے اس لئے پاکستان کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے بالخصوص بھارت کو سہولیات کی فراہمی سے پاکستان کی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کیسی عجیب منطق ہے کہ معاہدہ تو پاکستان اور افغانستان کے مابین ہوا جبکہ تجارت افغانستان اور بھارت کر رہے ہیں۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا جو مال اس وقت سمگل ہوکر پاکستان آتا ہے یا ملی بھگت سے مال افغانستان لے جایا ہی نہیں جاتا‘ یہ صورتحال ملکی صنعتوں اورکاروبار کیلئے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی خود کہتے ہیں کہ سمگلنگ نے صنعت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ 50-55سال پہلے جب صرف لنڈی کوتل میں سمگل شدہ مال فروخت ہوتا تھا تو لوگ بمشکل ایک سوٹ کا کپڑا بندوبستی علاقے میں لاسکتے تھے لیکن اب سمگل شدہ مال لنڈی کوتل سے ہوتا ہوا باڑہ‘ کارخانو مارکیٹ‘ نوشہرہ‘ رشکئی اور اسلام آباد سے کراچی تک پہنچ گیا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمگلنگ سامان کے بڑے مرکز پشاور کے نواح باڑہ کارخانو مارکیٹ ہیں اسلئے پشاور کے مقامی تاجر اور صنعتکار اس کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔ حکومت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمگلنگ کیخلاف آپریشن کا آغاز کرنے جا رہی ہے تو مقامی تاجروں اورصنعتکاروں کو تحفظ ملنے سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ افغانستان کو راہداری کی سہولت دینے کے علاوہ پاکستان افغانستان کی مصنوعات کیلئے بھی دیگر ممالک تک رسائی کی سہولت دیتا ہے خصوصاً افغانستان کے فریش اور ڈرائی فروٹ کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ کوئٹہ کے قریب چونکہ قندھار نزدیک پڑتا ہے اسلئے وہاں کی پیداوار انار اور انگور کوئٹہ کے راستے بھارت اور دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے قریب مزار شریف ہے جہاں کی پیداوار فریش اور ڈرائی فروٹ کے علاوہ اعلیٰ قسم کا انگور بھی ہے جو پاکستان کے راستے بھارت پہنچایا جاتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی 2400کلومیٹر طویل باہمی سرحد کی نگرانی آسان کام نہیں‘ افغانستان کیلئے دیگر ممالک سے آیا مال دو راستوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ ایک صوبہ خیبر پختونخوا میں طورخم اور دوسرا کوئٹہ میں چمن کے راستے ٹرانزٹ کی جاتی ہے۔ ان دو راستوں کے علاوہ بھی کئی ایک خفیہ راستے ہیں جن کے ذریعے اکثر اوقات رات کے اندھیرے میں مال سمگل کیا جاتا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کی طرف سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ روکنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کو اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان کو افغان ٹریڈ اور انڈر انوائسنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کی چونکہ 2400کلومیٹر پر سرحد پھیلی ہوئی ہے اس لئے سمگلنگ کا سدباب پاک آرمی کے تعاون کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کے خاتمے کیلئے جس آپریشن کا ذکر کیا ہے وہ بھی پاک آرمی کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لئے امید کی جانی چاہئے کہ پی ٹی آئی کی حکومت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ کیخلاف کارروائی کے اعلان تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ ملکی صنعت کو بچانے کیلئے پاک آرمی کے تعاون سے کوئی ایسا ٹھوس میکنزم بنائے گی کہ جس سے ہماری معیشت بھی مضبوط ہوگی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں