Daily Mashriq


ڈومورکا پھرمطالبہ

ڈومورکا پھرمطالبہ

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائک پومپے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ ان کا اشارہ افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے طالبان گروہوں بشمول حقانی نیٹ ورک کی جانب ہے جنہیں امریکی دعوئوں کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ دی جاتی ہے۔ امریکہ نے الزام لگایا کہ پاکستان انتہا پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کر رہا ہے جبکہ پاکستان ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔امریکی عہدیداروں کے بیان میں سوائے اس کے کوئی نئی بات نہیں کہ امریکی وزیر خارجہ نے آرمی چیف سے براہ راست بات کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی لب ولہجہ میں خوشگوار اعتماد پر مبنی تعلقات کا حقیقت میں کوئی وجود نہ تھا اور اگر ایسا تھا بھی تو یہ وجود نامکمل اور ادھورا تھا کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت اس معیار تک کبھی پہنچی ہی نہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان پراعتماد تعلقات قائم ہوتے۔ جب بھی امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی امریکہ نے پاکستان کو قریب کرنے کے اقدامات کئے اور جب ضرورت باقی نہ رہی تو پھر امریکیوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد پاک امریکہ تعلقات اور سفید ریچھ کو الجھائے رکھنے کی حکمت عملی دونوں ملکوں کی ضرورت تھی، روس اگر پاکستان کی سرحد پر آچکا تھا تو امریکہ کیلئے بھی یہ خطرے کی گھنٹی تھی، بنا بریں دونوں ہی ممالک کو اپنے عالمی اتحادیوں کے اشتراک کیساتھ شیر وشکر ہونے کا معاملہ کرنا پڑا، جب روس پسپائی اختیار کرکے لوٹ گیا تو خود امریکہ ہی کے تربیت یافتگان امریکی اسلحہ وساز وسامان اور عسکری مہارت کیساتھ امریکہ اور سعودی عرب کو للکارنے لگے۔ امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا لہٰذا ایک مرتبہ پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت اور ضروریات کا احساس ہوا۔ القاعدہ کا شیرازہ بکھیرنے اور اسامہ بن لادن کی گرفتاری تک امریکہ اور پاکستان میں بدلتے حالات کے باعث دوریاں نظر آنے لگیں، اس کے بعد امریکہ کا ہرجائی پن پوری طرح سامنے آنے لگا اور ڈومور کے جواب میں نومور کہنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ میں امریکی قیادت کی غلطیوں اور پاکستان سے وابستہ توقعات کے پوری نہ ہونے کا معاملہ نامناسب الفاظ میں طشت ازبام کیاگیا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے15سال کے دوران پاکستان کو33 ارب ڈالر دیئے، پاکستان نے ستر ہزار شہریوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کی وہ جنگ لڑی جسے امریکیوں نے افغانستان سے پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیلا تھا۔دونوں ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی حریفانہ سرگرمیاں کوئی راز کی بات نہیں۔خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں پاکستان کیخلاف متحرک قوتوں کی سرپرستی سے سی آئی اے منکر نہیں ہو سکتی، جہاں تک اس کے علاوہ سیاسی وعسکری قیادت اوردونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا معاملہ رہا ہے، سفارتی نمائش کا لفظ اس کی بہتر تشریح کیلئے کافی ہے۔ ویسے بھی ممالک کے درمیان کبھی بھی اس طرح کے تعلقات ممکن ہی نہیں کہ کوئی ملک تشنگی محسوس نہ کرے۔ امریکہ نے جتنی بھی امداد دی ہوگی اور پاکستان نے اس کا جو بھی بدلہ چکایا ہوگا وہ وقت اور ضرورت اور اس ملک کا مفاد ہوگا۔ نہ امریکا نے پاکستان کی محبت میں ڈالروں کی برسات کی ہوگی اور نہ ہی پاکستانی قیادت نے امریکہ کیلئے وہ کچھ کیا ہوگا جو توقعات سے بڑھ کر ہو، جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد کے حالات کا تعلق ہے تو ٹرمپ کا شروع ہی سے پاکستان کیلئے لب ولہجہ موزوں نہ تھا مگر اس کے باوجود پاکستان کیساتھ مختلف سطحوں پر تعلقات میں بہتری کی مساعی کی گئی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی قیادت نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر کی جانب سے وضع کی جانے والی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بھی کہا گیا تھا کہ ہم پاکستان پر اس کی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جاری کوششوں میں تیزی لانے کیلئے دباؤ ڈالیں گے کیونکہ کسی بھی ملک کی شدت پسندوں اور دہشتگردوں کیلئے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی۔ بہر حال پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مدوجزر نئی بات نہیںدونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دونوں ہی ممالک کی مجبوری اور ضرورت ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ کو اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہہ جاری نہیں کیا کرتے اور نہ ہی اس طرح سے بار بار کی وضاحت کے باوجود بغیر کسی ٹھوس شہادت کے ایک ہی راگ الاپتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں اور نہ ہی امریکی لب ولہجہ پہلی مرتبہ دھمکی آمیز رہا ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ کا فون سنجیدہ معاملہ ضرور ہے ۔صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہماری سیاسی وعسکری قیادت پوری طرح یکجا ومتحد ہو کر صورتحال کا مقابلہ کیا جائے اور کوئی ایسی خلا باقی نہ رہے جس سے امریکہ کو شیر بننے کا موقع ملے۔ امریکہ کو اس حقیقت کو جان لینا چاہیئے کہ جب تک وہ افغانستان میں موجود ہے خواہ وہ رسد کی صورت میں یا کسی اور شکل میں پاکستان سے امریکہ کو خواہی ونخواہی روابط رکھنے ہی ہوں گے۔اگر امریکی حکام کا لب و لہجہ تبدیل نہیں ہوا بلکہ لگتا نہیں کہ تبدیل ہوگا اس کے پیش نظر پاکستان کو جہاں سفارتی سطح پر اس معاملے میں فعالیت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ پاکستان کو اپنی سر زمین پر ایسے اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کو ہماری اہمیت کا احساس ہو۔ امریکہ ایک جانب ہمارے ہی زمینی راستے کے استعمال اور تعاون کے ساتھ افغانستان میں موجود ہے تو دوسری جانب ہمیں ہی مطعون کیا جا رہا ہے جو درست پالیسی نہیں۔ جب تک امریکہ او ر افغانستان اس قسم کے لب و لہجے اور پالیسی پرگامزن رہیں گے خطے میں امن کی خواہش کبھی پوری نہ ہوگی اور اس کا فائدہ دہشت گرد ہی اٹھائیں گے۔