Daily Mashriq


سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

عدالت عظمیٰ نے پارلیمان کے منظور کردہ نئے کاغذات نامزدگی برقرار رکھتے ہوئے امیدواروں کو تفصیلی معلومات اور کوائف الگ سے بیان حلفی پر درج کرکے جمع کرانے کا حکم دے کر سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی نہ ٹوٹے کا مصداق عمل کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے لئے نیا حلف نامہ جاری کر دیا ہے جسے پر کرکے گیارہ جون تک جمع کرانے کی مہلت دے دی گئی ہے۔ قبل ازیں کاغذات نامزدگی پر اعتراض کے باعث عدالت عالیہ لاہور نے کاغذات نامزدگی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں لیکن چونکہ اس فیصلے میں انتخابی عمل بھی روک دینے کا حکم تھا اس لئے اس سے انتخابات میں التواء کی تشویش پیدا ہوئی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے دور کردیا اور کاغذات نامزدگی میں آئینی تقاضوں کو بحسن و خوبی سمو دینے کا راستہ نکالا۔ جہاں تک کاغذات نامزدگی میں پارلیمان کے رد وبدل کا سوال ہے اس سے یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ پارلیمنٹرینز کی اس ضمن میں نیت ٹھیک نہیں تھی اور وہ متفقہ طور پر آنے والے انتخابات میں آرٹیکل62‘63 کے علاوہ بہت سے دیگر ایسے معاملات جس کا تعلق مالی اور اخلاقی شفافیت سے تھاتفصیلات دینے کیلئے تیار نہیں تھے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ اقدام مناسب نہ تھا جس طرح سے سیاستدان چاہتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے کاغذات نامزدگی پر کرکے انتخابات لڑیں اس کی بھی کسی طور حمایت نہیں کی جاسکتی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب بااثر عناصر کو قانون سے گزرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس مرحلے پر جس قدر باریک بینی کیساتھ ان کے جملہ معاملات بشمول ٹیکس وغیرہ کا جائزہ لیا جائے اور باریک سے باریک چھلنی سے گزارا جائے اتنا ہی ملک وقوم کے حق میں بہتر ہوگا۔ ایسا کرنا اسلئے بھی ضروری ہے کہ بعد میں معاملات کی کجی سامنے آنے پر اولاً تو کارروائی میں کافی سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے جبکہ دوسری جانب ضمنی انتخابات پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔عدالت کی جانب سے کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی لگانے کی شرط لگا کر جہاں پارلیمان کے بنائے گئے قانون کا احترام برقرار رکھا وہاں بیان حلفی میں جملہ تفصیلات شامل کرنے کی شرط سے وہ ضرورت بھی پوری ہوگی جس میں امیدوار کے پاس مخفی رکھنے کے لئے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اس چھاننی سے چھن کر موزوں افراد ہی انتخاب لڑ سکیں گے اور شفافیت کے تقاضے پورے ہوںگے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس‘ عوام کے دل کی آواز

چیف جسٹس آف پاکستان کا خیبر پختونخوا میں نہروں اور ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ صورتحال پر برہمی اور ایم ٹی آئیز کے بورڈ آف گورنرز کی تحلیل کے احکامات کے ساتھ ہی چیف جسٹس کا پی ٹی آئی حکومت پانچ سال کیا کرتی رہی کے ریمارکس صورتحال کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ یہ کسی سیاسی مخالف کے ریمارکس ہوتے توکچھ گنجائش تھی لیکن عدالت عظمیٰ کے سربراہ کے یہ ریمارکس ان عناصر کے لئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں جو تبدیلی اور بہتری کا راگ الاپتے الاپتے رخصت ہوگئے۔ اگر حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لیا جائے تو یہ ریمارکس صرف رخصت شدہ حکومت ہی پر صادق نہیں آتے بلکہ اس سے پہلے گزرے ہوئے ادوار کے حکمرانوں کی ناکامی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اسے خیبر پختونخوا کے عوام کی شومئی قسمت ہی گردانا جائے گا کہ یہاں کے عوام نے تو ہر ایک کو آزمایا اور ہر سیاسی جماعت کو حکومت سازی کا موقع دیا لیکن کم و بیش ساری صوبائی حکومتیں ہی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں ایسے میں دور دور تک امید کی کوئی کرن بھی نظر نہیں آتی۔ سوائے اس توقع کے اظہار کے کہ اس مرتبہ صوبے کے عوام ایسے نمائندوں کا چنائو کریں گے جو عوامی مسائل کے حل کے اہل ہوں مگر سیاسی منظر نامے میں فی الوقت ایسا کوئی نظر نہیں آتا جو عوام کے لئے امید کا حامل ثابت ہوسکے یکے بعد دیگرے آزمائے ہوئے پارٹی بدل بدل سامنے آنے والوں سے خیر کی کوئی توقع نہیں ایسے میں دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں