Daily Mashriq


لازمی حلف نامہ

لازمی حلف نامہ

دستورِ پاکستان تقاضا کرتا ہے کہ عوام کی نمائندگی کے حقدار اور دعویدار صادق اور امین ہوں ۔ دنیا کے تمام مہذب ملکوں کے دساتیر میں عوامی نمائندوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ امین اور صادق ہوں کہ ووٹ کی عزت کا یہی طریقہ ہے۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں عوامی نمائندوں کے صادق اور امین ہونے کی شرط انہی الفاظ میں واضح کر دی گئی اور اس کی پارلیمنٹ نے منظوری بھی دے دی۔ کیوں کہ کون کہہ سکتا ہے کہ عوامی نمائندوں کا امین او رصادق ہونا ضروری نہیں ۔ دنیا میں کہیں کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ 2013ء کے انتخابات میں یہ شکایت سامنے آئی کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ دھاندلی تو ہوئی لیکن اس قدر نہیں کہ انتخابات کے نتائج کو متاثر کرتی۔ اس کے بعد یہ طے پایا کہ انتخابات کے طریق کار میں اصلاحات ہونی چاہئیں تاکہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی نہ ہو سکے۔ یہ مشق پارلیمانی کمیٹی میں دو اڑھائی سال تک جاری رہی۔ انتخابی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں آیا اور منظور ہو گیا ۔ سینیٹ میں اس بل کی منظوری کے لیے طریق کار یہ اختیار کیاگیا کہ سینیٹ کے اجلاس میں اس قدر غل غپاڑا ہوا کہ سینیٹ کے چیئرمین اور دیگر کئی ارکان اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے اور حکمران مسلم لیگ نے باقی ماندہ ارکان کے ووٹ سے بل منظور کر وا لیا۔ صدر مملکت نے دستخط کر دیے اور یہ بل ملک کا قانون بن گیا۔ پھر یہ ہوا کہ ختم نبوت کے معاملے پر احتجاج شروع ہو گئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ختم نبوت ایک ایسا عقیدہ ہے جس سے انحراف نہیں کیاجاسکتا۔ قصہ مختصر یہ کہ احتجاج کرنے والوں نے راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دے دیا۔ حکومت کی طرف سے عقیدۂ ختم نبوت کی پاسداری کے حوالے سے نہایت پارسا اعلان کیے گئے اور نہایت عجلت کے ساتھ یہ بل دوبارہ پیش ہوا اور پرانا گوشوارہ بحال کر دیا گیا ۔ اس طرح انتخابی اصلاحات کا بل دوبار منظور ہوا۔

رفتہ رفتہ اس دوبار منظور ہونے والے قانون کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔ انہی کالموں میں اور دیگر اخبارات میں بھی یہ گزارش کی گئی کہ دو اڑھائی سال کی مشق کے بعد عجلت میں منظور کروائے جانے والے قانون میں انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مندوں کے لیے وہ پندرہ گوشوارے حذف کیے جا چکے ہیں جن کے مطابق امیدواروں کے لیے اپنا اثاثے ظاہر کرنا ضروری تھے۔ دوہری شہریت کے بارے میں حلف نامہ ختم کر دیا گیا۔ تعلیمی قابلیت اور ڈگری کی شرط ختم کر دی گئی تھی۔ انکم ٹیکس اور زرعی آمدنی پر ٹیکس کے بارے میں معلومات کا گوشوارہ ختم کر دیا گیا۔ بچوں کے لیے ’’زیرِ کفالت‘‘ ہونے کے الفاظ حذف کر دیے گئے۔ بیوی اور بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ۔ بینکوں او ردیگر مالیاتی اداروں سے حاصل کیے گئے اور معاف کرائے گئے قرضوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ۔ فوجداری مقدمات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ۔ گزشتہ تین سال کے دوران غیر ملکی دوروں کی تفصیلات بتانے کی شرط ختم کر دی گئی۔ واجب الادا یوٹیلٹی بلز کی تفصیلات بتانے کی شرط ختم کر دی گئی او رغلط معلومات فراہم کرنے والے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے اسمبلی کی رکنیت ختم کیے جانے کے بارے میں حلف نامہ بھی حذف کر دیاگیاتھا۔ گزشتہ چند دن کے واقعات یہ ہیں کہ اس قانون کے آئین کے تقاضوں سے متصادم ہونے کے جواز پر ایک میڈیا چینل کے دو محترم ارکان نے اسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دے دیا ، اس کے بعد اس فیصلہ کو چیلنج کر دیاگیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی گئی ۔ لیکن الیکشن کمیشن نے وہ تمام معلومات جو پندرہ گوشواروں میں طلب کی گئی تھیں نئے انتخابی کاغذات نامزدگی کے ساتھ ایک بیان حلفی کی صورت میں لف کرنے کی شرط عائد کر دی اور سپریم کورٹ نے ایک عالی قدر فیصلہ دیا کہ اپیل کی سماعت ہوتی رہے گی تاہم بیان حلفی لازمی ہو گا ۔ اور اس بیان حلفی کی نقل سپریم کورٹ کی رجسٹری میں بھی جمع کرائی جائے گی۔ ارکان پارلیمنٹ نے جو چالاکی سے اثاثوں ‘ ٹیکسوں کی ادائیگی، قرضوں کی مفافی وغیرہ کی پندرہ گوشواروں پر مشتمل معلومات فراہم کرنے سے جان چھڑائی تھی وہ حربہ کام نہ آیا۔ اب چند سوال ذہن میں آتے ہیں ، ایک یہ کہ یہ ارکان پارلیمنٹ جنہوں نے نئی انتخابی اصلاحات پر مشتمل قانون منظور کرایا تھا کس منہ سے عوام کے پاس ووٹ مانگنے جائیں گے جو اپنے بارے میں کلیدی معلومات بھی عوام کو فراہم نہیں کرنا چاہتے۔ اب اپیل کی سماعت ہو گی ۔ایک طرف کہا جائے گا کہ پارلیمنٹ آئین کی ماں ہے ، دوسری طرف کہا جائے گا کہ آئین محترم دستاویز ہے ۔ پارلیمنٹ آئین بناتی ہے لیکن خود اس کے تابع ہو جاتی ہے۔ صرف سانپ کی مادہ کے بارے میں سنا ہے کہ اپنے ہی بچے کھا لیتی ہے۔ اس اپیل پر فیصلہ کیا آتا ہے یہ ابھی دیکھنا ہے تاہم فیصلہ اگر یہ آیا کہ پارلیمنٹ کو آئین کے تقاضوں سے متصادم قانون بنانے کا اختیار نہیں تھا تواِن ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کیا سلوک مناسب سمجھا جائے گاجنہوں نے نہایت خاموشی سے اپنے بارے میں اہم معلومات پر مشتمل گوشوارے ہی کاغذات نامزدگی میں سے ختم کرا دیے تھے۔ جو اس قانون کو آئین سے متصادم قرار دینے کی بنیاد ہو سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پارلیمنٹ سپریم نہیں بلکہ آئین سپریم ہے جس کے ابتدائیہ میں کہا گیا ہے ’’چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہو گا وہ ایک مقدس امانت ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں