Daily Mashriq


آزمودہ راآزمودن جہل است

آزمودہ راآزمودن جہل است

و کلا اس سے نہ کسی کی حوصلہ شکنی مقصود ہے نہ ہی خدانخواستہ تضحیک کا کوئی ارادہ ،بس یونہی ایک خبر پڑھ کر ایوبی دور کے بنیادی جمہوریت کے تحت ہونے والے پہلے انتخابات یاد آگئے۔ یہ وہ دور تھا جب ہمارا کالج میں حصول تعلیم کا دور تھا اور مرحوم ایوب خان نے ملک میں جمہوریت بحال کرنے کی ٹھانی تو سب سے پہلے بنیادی جمہوریت کے نام سے ایک بلدیاتی نظام متعارف کروایا اور خدا لگتی کہئے تو اس کے در پردہ مقاصد سے قطع نظر بلدیاتی نظام کی اس سے بہتر شکل دوبارہ سامنے نہیں آئی یعنی موصوف نے اگرچہ اس نظام کے تحت منتخب ہونے والے کونسلروں کو بعد میں صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے بھی الیکٹورل کالج میں تبدیل کرکے جمہوریت کی بیخ کنی کی تاہم جہاں تک اس نظام کے تحت بلدیاتی اداروں کو چلایاگیا اس حد تک وہ ایک قابل تعریف نظام ثابت ہوا کہ نہ صرف عوام کے مسائل اسی نظام کے تحت مقامی سطح پر حل ہونا شروع ہوگئے تھے اور بلدیاتی حد تک اس سے صاف ستھرااور انتہائی سادہ نظام اس کے بعد نہیں آیا بلکہ چھوٹے چھوٹے گھریلو جھگڑے اور عوام کے مابین درپیش تنازعات کا حل بھی ہر یونین کونسل کی سطح پر طے کرنے میں محولہ نظام اپنی افادیت ثابت کر رہا تھا تاہم ایوبی اقتدار کے خاتمے کے بعد وہ نظام بھی دفن ہوگیا اور مشرف دور سے اب تک جو بھی بلدیاتی نظام سامنے آئے ہیں ان میں پیچیدگیاں اس قدر نمایاں ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ کاش ایوبی دور کے اس سادہ بلدیاتی نظام ہی کو دوبارہ نافذ کر دیا جائے۔ اس نظام کی جانب توجہ مبذول ہونے کی وجہ ایک خبر بنی ہے۔ پہلے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور خبر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سکھ امیدوار جنرل نشست کے لئے میدان میں آگیا ہے۔ رادیش سنگھ ٹونی نام کے اس سکھسردار نے پی کے75پشاور سے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ سردار رادیش سنگھ نے عوامی خدمت کے حوالے سے جس عزم کا ظہار کیا ہے اس پر انور مسعود کا ایک قطعہ یاد آگیا ہے کہ 

مجھے گر منتخب کر لوگے بھائی

پنپنے کی نہیں کوئی برائی

مجھے کہنا کہ ناقص ہے صفائی

گٹر سے بھی اگر خوشبو نہ آئی

اب ذرا اس بات کی وضاحت بھی ہو جائے کہ سردار رادیش سنگھ ٹونی کے اس عزم سے ایوبی دور کا بلدیاتی الیکشن کیوں یاد آیا تو گزارش ہے کہ ان انتخابات میں کریم پورہ‘ ہشتنگری اور ملحقہ علاقوں کے لئے (غالباً) کل 16نشستیں تھیں جن کے لئے مسلسل تین روز تک عوام ووٹ پول کرتے رہے۔ امیدواروں میں ایک سینئر صحافی چغتائی صاحب( پورا نام یاد نہیں رہا) جو سہ روزہ اخبار آزادی کے مدیر تھے شامل تھے۔ موصوف ایک شریف النفس اور سیدھے سادے انسان تھے تاہم ان کی پشت پر کوئی لابی نہیں تھی جبکہ علاقے میں جس سے ملتے وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں یقین دلاتا کہ اس کا ووٹ چغتائی صاحب ہی کو پڑے گا۔ اس پر وہ دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے۔ الیکشن کے پہلے دن ان کے انتخابی کیمپ میں لوگ آکر ان سے اپنے ووٹ نمبر کی پرچیاں بنوا کر پولنگ سٹیشن (گورنمنٹ ہائی سکول نمبر2 کی عمارت) کے اندر جا کر اپنی مرضی سے ووٹ ڈال کر واپسی پر بھی چغتائی صاحب کو بار دیگر یقین دلا دیتے کہ ووٹ انہیں ہی ڈال کر آرہے ہیں۔ اس زمانے میں ہر امیدوار کا اپنا بیلٹ بکس تھا جس پر اس کا نام بھی لکھا ہوتا اور انتخابی نشان بھی۔ سارا دن لوگوں کا ان کے کیمپ میں تانتا بندھا رہا مگر پہلے ہی روز جب مقررہ وقت کے اختتام پر بکسے کھولے گئے تو ان کا بیلٹ بکس بالکل خالی تھا۔ اس پر انہوں نے شور مچا دیا کہ باقی لوگوں کو تو جانے دیں خود ان کا‘ ان کی اہلیہ‘ تین بیٹوں‘تین بیٹیوں اور دو بہوئوں کے ووٹ کہاں غائب ہوگئے ۔ یعنی ان کے ساتھ ’’جھرلو‘ذ والا ہاتھ ہوگیا تھا۔ گویا بقول شاعر

دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا

جتنا میں جس کے ہاتھ لگا لے اڑا مجھے

اس واقعے کی یاد آتے ہی سردار رادیش سنگھ ٹونی کو یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ اگر وہ کسی تگڑی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ کے لئے کوشش کریں تو شاید صورتحال پر مثبت اثرات پڑنے کے امکانات روشن ہو جائیں۔ بصورت دیگر ایوبی بلدیاتی نظام کے پہلے انتخابات میں حصہ لینے والے مرحوم چغتائی صاحب والی تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نظر نہ آئے کیونکہ ہمارے ہاں انتخابات کے موقعوں پر منافقت کے سائے بڑے گہر ے ہو جاتے ہیں اورامیدواران ہر گھر کا طواف کرتے ہوئے دل ہی دل میں منافقت کے جذبات کو دبا کر مگر منہ پر مسکینی‘ خدمت کے جھوٹے دعوئوںکے ساتھ لوگوں سے ملتے ہیں تو آگے لوگ بھی جیسے کو تیسا بن کر جواب میں مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ’’ ووٹ تو آپ ہی کا ہے‘‘ کے الفاظ منہ سے نکالتے ہیں‘ اسی لئے تو لوگ کسی پر اعتبار نہیں کرتے یہ سوچتے ہوئے کہ

ڈر ہے مجھے آپ بھی گمراہ کریں گے

آتے ہیں نظر آپ بھی کچھ راہنما سے

ایک بات ویسے دل سے کہہ رہا ہوں کہ اگر سردار صاحب کا حلقہ انتخاب ان علاقوں پر مشتمل ہو جن میں میرا بھی گھر شامل ہے تو میں سردار جی کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا ووٹ ان کے لئے پکا ہے کہ کسی مبینہ چور اچکے اور آزمائے ہوئے کو ووٹ دے کر ضائع کیوں کروں۔ تو سردار صاحب میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں کہ آزمودہ را آزمودن جہل است!

متعلقہ خبریں