Daily Mashriq


ایک اور’’ لال مسجد‘‘بحران کی دستک؟

ایک اور’’ لال مسجد‘‘بحران کی دستک؟

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو عالمی میڈیا اور قوتیں استعمال کر رہی ہیںاور اس کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔فوجی ترجمان نے پہلی بار پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے کچھ کھل کر بولنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی ضرورت بھی وانا وزیرستان میں پیش آنے والے اس حادثے کی وجہ سے پیش آئی جس میں پشتون تحفظ موومنٹ اور ریاست کی حامی مقامی امن کمیٹی کے درمیان تصادم میں چار افراد مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے ۔جس کے بعد پی ٹی ایم اور محمود اچکزئی کی جماعت نے ملک بھر میں اور بیرونی دنیا میں پاکستانی سفارت خانوں کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔وانا میں امن کمیٹی کا دفتر نذر آتش کیا گیا اور اس کی تصاویر بہت فخریہ انداز سے پی ٹی ایم کے سوشل میڈیا پر چلنے والے پیجز پر اپ لوڈ کی گئیں۔پی ٹی ایم کے وابستگان اپنی سرگرمیوں اور مہم کے حوالے سے دلائل اور جوازکی ایک اپنی فہرست رکھتے ہیں۔وہ قبائلی علاقوں میں آپریشنوں کے دوران مظالم اور دکھوں کی ایک فرد جرم ریاست کے خلاف تیار کئے بیٹھے ہیں اور اس کا برملاا ظہار کرنے میں کوئی لچک نہیں دکھاتے ۔گم کردہ افراد ،شناخت پریڈ اور چوکیوں کے معاملات سے وہ اپنی طاقت کشیدکرتے ہیں تو دوسری جانب ان کی ضربات کا نشانہ بننے والی ریاست اور فوج کا ایک اپنا موقف ہے اور جسے ان علاقوں کی پشتون آبادی کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے ۔آپریشنوں کے متاثرین کا بھی جہاں ایک حلقہ ہے وہیں قبائلی علاقوں میں ان آپریشنوں کے باعث ہونے والے امن اور استحکام سے مستفید ہونے والا حلقہ اس سے کہیں زیادہ اور موثر ہے ۔یہ طبقہ امن کو برقرار رکھنے کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کر سکتا ہے ۔پی ٹی ایم کے مخالف نکتہ نظر والوں کاکہنا ہے ایک چوبیس سالہ نوجوان منظور احمد محسود جسے کسی فوری ضرورت کے تحت تبدیلی ٔ نام کے عمل سے گزار کر منظور پشتین بنایا گیا اور ایک لوک کہانی کی طرح کسی راہ چلتے مزدور کی پرانی سرخ ٹوپی پہنا کر ایک علامتی شناخت بھی دی گئی کی قیادت میں چند ماہ قبل اُبھر کر سامنے آنے والی پی ٹی ایم اب ان قبائلی علاقوں میں ریاست اور ریاستی اداروں کے لئے نیا در د سر بن رہی ہے جہاں بے پناہ قربانیوں سے امن حاصل کیا جا چکا ہے ۔جہاں امن کو تباہ اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر یا تو ریاستی اداروں کے ساتھ مسلح تصادم میں مارے گئے یا گرفتار ہوگئے اور ایک بڑی اکثریت ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں جاچھپی اور اب یہی علاقے ان کی کارروائیوں کے لئے بیس کیمپ کا کام دے رہے ہیں جہاں سے وہ نہ صرف عسکری انداز سے ریاست پاکستان کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ جدید ذرائع ابلاغ جن میں سوشل میڈیا فیس بک اور ٹویٹر اہم ہیں کا مہارت اور کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر جس طاقت کے ذریعے عرب سپرنگ برپا کی گئی اور لڑکھڑاتی بادشا ہتو ں اور تاحیات حکمرانی کو گراکر دم لیا اور ایران میں اس لہر کو کامیابی سے روکا گیا اب اسی ہتھیار کو پاکستان میں آزمانے کا عمل زوروں پر ہے ۔پاکستان میں چونکہ شیرازے کا کام فوج جیسے منظم ادارے کے پاس ہے اس لئے ساری مہم کا ہدف فوج کا ادارہ اور ریاست پاکستان ہے ۔حکمت عملی یہ دکھائی دے رہی ہے کہ ملک کی دو بڑی نسلی اور لسانی آبادیوں پنجاب اور پشتون کو باہم دست گریبان کیا جائے ۔شکایتوں کو نفرتوں میں بدل دیا جائے ۔لہجوں میں اس قدر تلخی بھر دی جائے کہ ہاتھ بے ساختہ ہتھیاروں کی طرف لپکنے لگیں اور یوں عراق اور شام کے مناظر دہرائے جا سکیں اور اس آگ کو بجھانے کے لئے افغانستان میں سولہ برس سے براجمان عالمی فوجوں کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔قبائلی علاقوں پر کچھ قوتوں کی نظریں پہلے ہی گڑھ چکی تھیں مگر مشال خان کے قتل کے بعدکھیل واضح ہونے لگا ۔ملک میں لبرل ازم کے دعوے دار این جی او مافیا نے پہلی بار اس علاقے کی طرف ہمدردانہ نظر ڈالنا شروع کی جس کے بار ے میں پہلے اس کا انداز فکر ماردو ،جلادو ،آپریشن کرو ہوا کرتا تھا ۔اب انہیں اس علاقے میں جہاں آپریشن کروانے میں ان کا مرکزی کردار تھا انسانی حقوق او ر گم کردہ افراد کی یاد ستانے لگی ۔پاکستانی فوج کو آپریشن کا مشورہ دینے والوں کو امن سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی وہ تاریخ کی اس دلدل میں فوج کو دھکیل کر برطانوی ،روسی اور امریکی فوج جیسے انجام کا لطف لینا چاہتے تھے مگر قبائلی عوام کے غیر معمولی تعاون نے پاک فوج کو اس مشکل ترین جنگ میں سرخرو کیا اور قبائلی علاقوں میں گوریلا جنگ کا فلسفہ جڑ نہ پکڑ سکا۔ قبائلی عوام کا یہ کردار ان کا جرم بن گیا ۔قبائلی عوام کو اس کردار کے لئے مجرم ٹھہرانا شروع کیا گیا اور محب وطن پشتونوں کے لئے ’’گل خان ‘‘جیسے احمق کردار کی تشکیل کر کے مطعون کرنے کا سلسلہ سوشل میڈیا پر دراز کیا گیا ۔ناقدین کے مطابق اس تنظیم کی تمام آئی ڈیز یا تو افغانستان سے آپریٹ ہو رہی ہیںجو پاکستان کے خلاف ایک اور خوفناک سازش کا پتا دے رہا ہے ۔ پی ٹی ایم کے بیرونی حامی اسے پاکستان میںسول ملٹری کشمکش میں ملٹری کی شکست اور سویلین بالادستی کے امکان کے طور بھی دیکھ رہے ہیں اور بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ یہ تحریک سول ملٹری تعلقات میں ایک نئے توازن کی بنیاد بن سکتی ہے ۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں