Daily Mashriq


اسلام اور پاکستان میں عورت کا کردار و مقام

اسلام اور پاکستان میں عورت کا کردار و مقام

انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں عورت کا کردارمختلف اور متنازع رہا ہے ۔ زندگی کی ابتداء اور کائنات میں انسان کے ارتقاء کے نتیجے میں کسی شعوری زندگی میں قدم رکھنے کے بارے میں آج بھی ایک بنیادی اختلاف موجو دہے ۔ پتھر کے زمانے سے نظریئے کے مطابق مرد غالب اور عورت مغلوب چلی آرہی ہے ۔ اور اس کا بڑاسبب اس کا جسمانی ساخت اور تشکیل ہے کہ وہ صنف نازک ہونے کی وجہ سے قوت اورسٹیمنا کے لحاظ سے فطری طور پر کمزور واقع ہوئی ہے ۔ اسلامی اور قرآنی نقطہ نگاہ سے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ دونوں جنت سے کائنات ارضی میں آئے اور یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات کے مطابق زندگی گزارنی شروع کی اور یہ ایک بہترین خوشگوار اور فطرت کے مطابق زندگی تھی ۔ اس میں مرد اور عورت کا کردار ایک دوسرے کے لئے کمپلیمنٹری تھا ۔ عورت کی اس حیثیت نے اسے ماں کا بے مثال اور اعلیٰ مقام دے کر مرد پر تفوق عطا کیا ۔ عورت کا یہ مقام کم وبیش ہر زمانے میں رہا ہے ۔ لیکن خاتم النبیین ؐ کی بعثت سے قبل چار پانچ صدیوں کے دوران انسانیت انبیاء ؑ کی تعلیمات میں تحریفات اور نسیان کے سبب بد ترین بگاڑ کا شکار ہو چکی تھی اور اسی زمانے میں جب بحروبر میں فساد برپا ہو چکا تھا ، عورت ذات ناقابل بیان تکالیف ،مصائب اور انسانیت سوز حالات کا شکار ہو چکی تھی ۔ اس کا اندازہ رحمۃ اللعالمینؐ پرنازل ہونے والی اس آیت کریمہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’جب نومولود سے پوچھا جائیگا کہ کس گناہ کی پاداش میںقتل کی گئی تھی ‘‘۔ یعنی بچیوں کو عورت ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا تھا ۔ رحمۃ اللعالمین کی آمد مبارک کے ساتھ ہی ہر شعبہ زندگی میں حالات بدلنا شروع ہوئے یہاں تک کہ تئیس سال کے اندر اندر مکمل انقلاب النبویؐ برپا ہوا ۔ اس انقلاب نے عورت کے کردار کو ایک نئے مکمل و جامع اور فطرت اور عورت کی دنیا و آخرت کی بھلائی کے مطابق متعین کردیا ۔ قرآن وسنت میں عورت کے چار بنیادی روپ اور حیثیتیں ہیں ۔ ماں ، بیوی ، بیٹی اور بہن ۔ یہ گھر اور چاردیواری کے رشتے ہیں اور ہر رشتے کا مقام ، فرائض اور حقوق ہمیشہ کے لئے دوٹوک اورواضح انداز میں بیان ہوئے ہیں ۔ انقلاب نبویؐ کے بعد چالیس برس تک جب اسلامی معاشرہ قرآن آئین ودستور کے مطابق تھا ، عورت کا یہی کردار چلاآرہا تھا ۔ اس قانون و ضابطہ کے مطابق تعلیم ، صحت اور زندگی کے دیگر سارے حقوق عورت کو مرد ہی کی طرح برابر سرابر حاصل رہے ہیں ۔ ہنگامی حالات میں ضرورت کے تحت خواتین نے گھر اور چاردیواری سے باہر بھی مختلف شعبوں یہاں تک کہ غزوات اور جنگوں میں مختلف خدمات سر انجام دی ہیں ۔ لیکن بعد کے زمانوں میںمسلمان معاشروں میں خواتین کے حقوق و کردار کے حوالے سے سخت افراط و تفریط رہی ہے اور یہ آج تک جاری ہے ۔ اس کی اصل وجہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی من مانی اور اپنی ضرورت ومفادات کے مطابق تشریح و تاویل ہے ۔ ورنہ خواتین کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ وہ ایک انسان کی حیثیت سے اُن سارے حقوق و کردار کی حق دار ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کو دیئے ہیں ۔ اسلام مرد اور عورت کے لئے بعض مقامات پر ایک شعبوں اور ماحول کا تعین ضرور کرتا ہے اور وہ بھی عورت کی فلاح وبہبود اور اپنے کردار کو بطریقہ احسن ادا کرنے کی غرض سے کرتا ہے ۔ کس کمی و تنقیص کی بناء پر امتیازی سلوک کے طور پر قطعاً نہیں کرتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت ذات کے بارے میں سارے معاشروں میں تب بھی اورآج بھی بہت سے نشیب وفراز آتے رہے ہیںاور عورت کو سوائے دور نبیؐ و خلفائے راشدین ، کبھی بھی نہ صحیح حقوق ملے ہیں اور نہ اپنا متعین کردار ادا کرنے کے مواقع میسر رہے ہیں ۔ آج پوری دنیا میں مغربی تہذیب کا چرچا اور غلبہ ہے ۔ اگر کوئی ملک اور معاشرہ خواتین کے حقوق و کردار کے حوالے سے اسلامی تہذیب کی بات اور اس پر اصرار کرتا ہے تو اُسے کئی قسم کے الزامات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مثلاً حجاب و نقاب گزشتہ عشرہ ڈیڑھ سے زیر عتاب ہے اور اچھے بھلے مسلمان معاشرے اور ممالک اس سلسلے میںمغربی دبائو کے تحت اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روگردانی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور مغرب کی بھونڈی نقالی میں عورت کے اسلامی کردار کو ایسا مبہم بنادیا ہے کہ اب کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اصل اور صحیح چیز کون سی ہے ۔ مثلاً مغرب نے عورت کو ٹیکسی ڈرائیور سے لیکر ایوان صدر وزیراعظم تک پہنچادیا ہے ۔ مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان جیسے ملکوں میں تو اس پر اب اتنا زور دیا جارہا ہے کہ شاید ہی کسی اور اسلامی ملک میں ایسا ہو ۔ حالانکہ عورت کو کھینچ تان کر ہرشعبہ زندگی میں لاکھڑا کرنا بعض اوقات عورت کے ساتھ ظلم وزیادتی کا سبب بنتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستانی پارلیمنٹ میں خواتین کے حوالے سے ہونے والی باتوںاور جلسے جلوسوں میں استعمال ہونے والی زبان سے لگایا جا سکتا ہے ، یہ سب عورت کی عزت ، عصمت اور وقار کے خلاف ہے ۔ اس لئے پاکستانی معاشرے اور پارلیمنٹ میں خواتین کے کردار ومقام بارے ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے کہ کوئی وہ سرخ لائن عبور نہ کر سکے جوماں ، بہن ، بیٹی کی عظمت اور عصمت کو مجروح کر سکے اور خواتین پاکستا ن کو بھی اپنے مقام و کردار کا خیال رکھنا چاہیے ۔

متعلقہ خبریں