Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

نصیب کی بات ہوتی ہے اگر کسی کو کوئی اچھا سنگی ساتھی، یا جنم جنم کا ساتھ نبھانے والا مل جائے، لوگ ان کی دوستی کو ’جوڑی‘ کا نام دے دیتے ہیں۔ دنیائے علم وادب میں نجانے کتنے جوڑیاں ایک دوسرے کا سنگ ساتھ اور قول وقرار نبھاتے گزری ہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم خانہ فرہنگ ایران پشاور میں فارسی پڑھنے جایا کرتے تھے۔ اسے حسن اتفاق کہہ لیجئے کہ جب ہمارا امتحان لیا گیا تو ہمارے فارسی سیکھنے کے اس شوق نے ہمیں کلاس بھر میں اول قرار دے دیا اور ہمارے حصہ میں آگیا وہ انعام جو کلاس میں اول آنے والے کو بڑے اہتمام کیساتھ تقریب منعقد کرکے دیا جاتا تھا۔ فارسی زبان کی کتابوں کا ایک بنڈل بڑی نستعلیق پیکنگ میں راقم السطور کو مرحمت فرمایا گیا تھا۔ جب گھر پہنچ کر کتابوں کے اس بنڈل کی پینگ کھولی تو فارسی کی ان نادر ونایاب کتب میں ایک خوبصورت کتاب ’’دیوان شمس التبریز‘‘ نام کی ملی۔ جس کی ہر ہر نظم یا غزل کے نفس مضمون کو بڑے دل پذیر انداز میں رنگین مرقع جات میں ڈھال کر شائع کیا گیا تھا۔ شنید ہے کہ ’’دیوان شمس التبریز‘‘ نامی اس کتاب میں جتنی بھی منظومات شائع ہوکر منصہ شہود پر آئی تھیں ان کے اصل خالق مولانا رومؒ تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی ان منظومات کو دیوان شمس التبریزؒ کے نام سے شائع کرکے حضرت شمس التبریز علیہ رحمت کیساتھ جس دوستی، پیار اور محبت کا اظہار کیا اس کی روشن درخشاں مثال وہ رہتی دنیا تک دیوان شمس التبریز کے نام سے چھوڑ گئے۔ عرض کر چکا ہوں کہ اس کتاب میں شائع ہونے والے تقریباً ہر شعر پارے کا رنگین اور جاذب نظر مرقع بنا کر مہنگے ترین آفسٹ کاغذ پر شائع کیا گیا تھا۔ مولانا رومؒ اور شمس التبریزؒ دنیائے علم وعرفان کے الگ الگ شعبوں سے منسلک تھے۔ لیکن آپس میں ان کی گاڑھی چھنتی تھی۔ روایت ہے کہ ایک بار مولانا کچھ لکھ رہے تھے ایسے میں ادھر سے شمس التبریز کا گزر ہوا۔ مولانا رومؒ اپنے تخلیقی عمل میں مگن رہے اور انہوں نے حضرت شمس التبریزؒ کو ’نو لفٹ‘ کروا دی۔ مولانا کا یہ رویہ دیکھ کر شمس التبریزؒ بولے ’’کیا کر رہے ہو مولانا‘‘ جس کے جواب میں مولانا بولے ’’جو میں کر رہا ہوں، تمہاری سمجھ سے بالا تر ہے‘‘ یہ بات سن کر شمس التبریز ؒ کو جلال آگیا اور مولانا جن کاغذوں پر کچھ لکھ رہے تھے وہ دیکھتے ہی دیکھتے جلنے لگے۔ ارے ارے ارے یہ تونے کیا کر دیا مولانا گھبرا کر شمس التبریز ؒسے مخاطب ہوئے جس کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے شمس التبریز کہنے لگے ’’جو میں نے کر دیا وہ تیری سمجھ سے بالاتر ہے‘‘۔ کتنی باکمال جوڑی تھی ان دو عالی مرتبت بزرگوں کی۔ کاش میں اس کتاب کو اپنے پاس سنبھال کر رکھ پاتا۔ میں نے اسے اپنے جوڑی وال ظفر اقبال اطہر کو تحفہ کردی۔ اطہر اور راقم السطور کی جوڑی میں اس وقت مروڑی پڑی جب ہم دونوں کے درمیان صابر حسین امداد شہید جیسے ہم نفس وہمنوا در آئے۔ خوف طوالت کا خدشہ ہے اسلئے میں اپنی ذات کے حوالہ سے بات کرنے کی بجائے ادبستان پشاور کی نامور جوڑیوں میں سید فارغ اور رضا ہمدانی کی جوڑی، لالہ مضمر تاتاری اور اُستاد آغہ محمد جوش کی جوڑی، یونس قیاسی اور قاسم حسرت کی جوڑی، اسلم طارق اور عالم بے تاب کی جوڑی، خواجہ یعقوب اختر اور حیرت جعفری کی جوڑی، جلیل حشمی اور تاج سعید کی جوڑی جیسی بہت سی جوڑیوں کے نام گنوا سکتا ہوں، لیکن آج میں اپنی ڈبڈباتی آنکھوں کیساتھ جن نابغہ روزگار جوڑیوں کے نام گنوانا چاہتا ہوں ان میں سردار خان فنا اور اشراف حسین احمد کے علاوہ سردار خان فنا اور پروفیسر داور خان داؤد کی جوڑی ہے۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

جس طرح کسی جوہر کے الیکٹرونز اپنے نیوکلس کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ چاند زمین کے گرد، زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد اور سورج کسی اور ستارے کے گرد گھوم رہے ہیں اسی طرح اشراف حسین احمد اپنے جوڑی وال سردار خان فنا کے گرد اپنے محور پر گھومتا داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ پھر ہم نے فقیر حسین مسرور کو سردار خان فنا کا ہاتھ پکڑ کر پاکستان رائٹرز گلڈ کے گرد گھومتے دیکھا۔ گلڈ کے ان دونوں ہمسفر دوستوں کے جلو میں چلنے والے معدودے چند دوستوں میں راقم السطور بھی شامل تھا لیکن جب سردار خان فنا صاحب فراش ہو کر ساتھ چھوڑ گئے تو راقم السطور مسرور کیساتھ مل کر گلڈ کی شمع روشن رکھنے کی رسم ادا کرتا رہا۔ پروفیسر داور خان داؤد بھی تھا ہمارے سنگ، مگر ہائے وہ بھی بے وفا نکلا اور ثابت کرگیا اپنے آپ کو فنا کا سچا جوڑی وال، ارے وہ تو صاحب فراش تھا کتنے چپکے سے تم دونوں نے دوستی نبھا ڈالی۔ واللہ ہاتھ کرگئے تم دونوں ہمارے ساتھ، آگے پیچھے چل دئیے رمضان المبارک کے عشرہ مغفرت میں اور ہم آپ کی مغفرت اور آپ کے لواحقین کے صبر جمیلہ کیلئے دست دعا بلند کرکے ستم ایجاد گگن کے اس پار ڈھونڈتے رہ گئے اپنی نگوڑی قسمت کے ستارے کو، پھر یوں ہوا کہ ہماری ڈبڈبائی آنکھوں نے زبان حال سے پکار پکار کر کہنا شروع کر دیا

بقا کی جانب چلے فناؔ یوں، کہ مر مٹے ہم ادا پہ اس کی

تھی مرضی اپنے یہی خدا کی، ہیں راضی ہم سب، رضا پہ اس کی

نبھایا وعدہ ہے داؤد داور ؔنے ساتھ دینے کا اس سے ایسا

محبتیں سب نثار ہونے کو چل کے آئیں وفا پہ اس کی

متعلقہ خبریں