Daily Mashriq


مسلح افواج کا قابل تحسین فیصلہ

مسلح افواج کا قابل تحسین فیصلہ

مسلح افواج کی طرف سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کے لئے اضافی فنڈز نہ لینے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ مشکل ترین معاشی صورتحال میں اس حقیقت پسندانہ فیصلے کی تعریف کی جانی چاہئے خصوصاً اس صورت میں جب بھارت میں جنگی جنون کو بڑھاوا دینے والی مودی سرکار دوسری بار اقتدار میں آچکی ہو۔ مناسب ہوتا اگر اس مرحلہ پر دفاعی شعبہ کی پنشنوں کی سالانہ رقم سول بجٹ سے دفاعی بجٹ پر واپس منتقل کردی جاتی اور جنرل مشرف کے دور کے فیصلے کو واپس لے لیا جاتا۔ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت' دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مسلح افواج کی خدمات اور قربانیاں قابل تحسین و فخر ہیں۔ اب بھی دفاعی ضرورتوں کے ہوتے ہوئے دفاعی اخراجات میں سالانہ اضافے کی رقم سے دستبردار ہونے سے معیشت کو بہتر بنانے میں نہ صرف مدد ملے گی بلکہ اس سے بھاری بھر کم دفاعی اخراجات کارونا روتے رہنے والوں کی بھی تشفی ہوگی۔ وزیر اعظم اور سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کے حوالے سے مسلح افواج کے اعلان کاخیر مقدم اور تحسین بجا طور پر درست ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ جو طبقات چند دن قبل تک دفاعی اخراجات کے حوالے سے تنقید کر رہے تھے وہ اب اضافی اخراجات نہ لینے کے اعلان میں سے کچھ در پردہ تلاش کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ بہر طور مسلح افواج کا اضافی دفاعی بجٹ نہ لینے کااعلان اس کی ضرورتوں کے باوجود قابل قدر ہے اس میں پس پردہ تلاش کرنے کی بجائے تنقید سے پیٹ بھرنے والوں کو بھی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

ہلال عید کاتنازعہ اور قضا روزہ رکھنے کا اعلان

عید الفطر پر امن ماحول میں گزر گئی۔ وفاقی رویت ہلال کمیٹی اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے الگ الگ فیصلوں سے بدمزگی بہر طور پر پیدا ہوئی اور اب کے پی کی حکومت کے وزیر اطلاعات کا یہ کہنا کہ عید سے تین دن بعد ایک قضا روزہ رکھا جائے گا پھر سے اس سوال کی اہمیت کو دو چند کرتا ہے کہ صوبائی حکومت نے اعلان چاند کے معاملے میں وفاقی رویت حلال کمیٹی کو اعتماد میں کیوں نہ لیا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سنجیدہ اور حساس مسئلہ پر وفاقی حکومت چاروں صوبائی حکومتوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی حکومتوں سے موثر مشاورت کے ذریعے کوئی قابل عمل حکمت عملی وضع کرے۔ یہ امر بھی باعث اطمینان ہے کہ مٹھی بھر شر پسندوں کی جانب سے ہلال عید کے مسئلہ کو مسلکی رنگ دینے کے مذموم عمل کو علمائے کرام اور عوام نے سختی کے ساتھ مسترد کردیا اور متفقہ طور پر یہ موقف اپنایا کہ حکومت کسی شخص' ادارے یا طبقے کو خاطر میں لائے بغیر اس مسئلہ کا حل تلاش کرے۔ یہاں یہ عرض کردینا از بس ضروری ہے کہ ہلال عید کے اعلان کے حوالے سے حکومت نے بہر طور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی سوال یہ ہے کہ اگر صوبہ کے بعض علاقوں میں منگل کو منائی گئی عیدالفطر درست تھی تو اب قضا روزہ رکھنے کا اعلان چہ معنی؟ ہمیں امید ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گی۔

بھارت اور اسرائیل کا انسانیت دشمن کردار

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عیدالفطر کے روز بھی قابض افواج کے ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ اور وحشیانہ تشدد سے 4افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ عیدالفطر کے روز ہی اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے سے متعدد فلسطینی باشندوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ 2فلسطینیوں کی زندگی کاخاتمہ کردیا۔ بھارت اور اسرائیل کی بربریت پرعالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور دونوں ملکوں کی سرپرست عالمی طاقتوں کی منافقت و امن دشمنی کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ پاکستان سمیت اسلامی ممالک کو مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی صورتحال پر عالمی اداروں کو موثر عالمی طاقتوں سے سفارتکاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں