Daily Mashriq

فلاحی جمہوری ریاست کی تشکیل کیسے ہوگی؟

فلاحی جمہوری ریاست کی تشکیل کیسے ہوگی؟

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکال کر جلد ہی ریاست مدینہ بنا دیںگے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں تعصبات سے بالا تر ہو کر ملک و قوم کی ترقی کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے 30جون کے بعد ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کاعندیہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف تنخواہ دار طبقہ ہی ٹیکس کیوں دے' ایک فلاحی جمہوری ریاست کی تشکیل بابائے قوم محمد علی جناح کے پیش نظر تھی تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد تواتر کے ساتھ انہوں نے فلاحی جمہوری ریاست کے حوالے سے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ بد قسمتی سے جناح صاحب کی وفات کے بعد اشرافیہ کے مختلف الخیال طبقات کا گٹھ جوڑ طبقاتی نظام کا محافظ بن کر سامنے آیا جس کی وجہ سے 71 سال بعد بھی ان لاکھوں مرد و زن کے خوابوں کو تعبیر نہ مل سکی جنہوں نے تقسیم کے وقت اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ فلاحی جمہوری ریاست یا جناب عمران خان کی ریاست مدینہ کا قیام بلا امتیاز انصاف کی فراہمی' بالا دست طبقات کی سامراجی ذہنیت کے خاتمہ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ آج ملک کے قیام کے 71 سال بعد تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ 10فیصد لوگ سارے وسائل پر قابض ہیں۔ امیر امیر تر اور غریب بد ترین حالات سے دوچار ہے۔ سفید پوش طبقات کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ محصولات کی وصولی کے نظام سمیت دیگر امور میں بھی خامیاں ہیں۔ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیاگیا ہے۔ یہ منطق بھی درست نہیں کہ ٹیکس صرف تنخواہ دار دیتے ہیں' کسی نہ کسی طور ہر شخص حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہی ہے وہ بجلی' پٹرولیم اور گیس کی قیمتوں میں شامل ہو یا پھر مختلف اشیاء پر عائد سیل ٹیکس کی صورت میں اس طور تو سوال حکومت سے بنتا ہے کہ جواباً عوام کو کیا سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس امر پر دو آراء ہر گز نہیں کہ درپیش مسائل کا حل ایک حقیقی جمہوری و عادلانہ نظام میں ہی ہے مگر کیا نظام ہائے حکومت اور منتخب اداروں پر اشرافیہ کے مختلف الخیال طبقات جس طرح قابض ہیں اس صورت میں کوئی بڑی تبدیلی آسکتی ہے؟ سادہ سا جواب نفی میں ہوگا۔ حکومت ٹیکس وصولی کے نظام کو وسیع اور موثر بنانا چاہتی ہے۔ سو بار بسم اللہ' کیا اس نیک کام کی ابتدا قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے ارکان کے ساتھ وفاقی و صوبائی وزراء اور مشیروں سے کی جاسکتی ہے؟ کون نہیں جانتا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی عمل میں اخراجات کی قانونی حد کیا ہے اور اخراجات فی نشست ہوتے کیا ہیں۔ قانون سازی کے لئے اسمبلیوں میں پہنچنے والے ہی اگر پہلے قدم پر قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کے بنائے ہوئے قوانین کاموثر اطلاق کیسے ہوگا۔ حکومت بسم اللہ کرے اولین مرحلہ پر ارکان پارلیمنٹ وزیروں اور مشیروں کے ظاہر کردہ اثاثوں اور کی چھان بین کرلے یہ بھل صفائی اگر اس بالائی طبقہ سے شروع ہو تو دیگر طبقات کو یہ پیغام جائے گا کہ اگر حکمران طبقہ قاعدے قانون سے بالاتر نہیں تو کسی اور سے بھی رعایت نہیں ہوگی۔ مثال کے طورپر حکومت اسمبلیوں میں موجود اپنی جماعت اور دیگر جماعتوں کے ان رہنمائوں سے صرف ایک سوال پوچھے جو مختلف صنعتوں کے مالک ہیں کہ انہیں رعایتی نرخوں پر بجلی اور گیس مہیا کی جاتی ہے وہ اس کے بدلے میں صارفین کو کیا رعایت دیتے ہیں۔ معاشی مشکلات ہیں اور یہ محض آج کی بات نہیں اصل مسئلہ ان سے نجات اور آگے بڑھنے کا ہے' آگے بڑھنے کے لئے سیاسی تلخیوں میں کمی بہت ضروری ہے۔ جو کام قانون اور عدالتوں نے کرنے ہیں ان کے لئے ٹی وی چینلوں پر عدالتیں نہیں لگائی جانی چاہئیں۔ بجلی' گیس اور پٹرولیم کے نرخوں میں اضافہ کرکے حکومت اپنی آمدنی کو بڑھا دیتی ہے لیکن یہ کوئی بھی نہیں سوچتا کہ جن صارفین پر اضافی قیمتوں کا بوجھ پڑے گا وہ کیا کریں گے؟ فلاحی جمہوری یا پھر ریاست مدینہ جیسی ریاست ہر دو کی تشکیل اسی صورت ممکن ہے کہ سماج کے باوسائل طبقات بھی اپنے حصہ کا حق ادا کریں حکومت اور با وسائل طبقات مل کر غربت و افلاس کے خاتمے کے لئے حکمت عملی وضع کریں۔ کوئی بدخوا ہی ہوگا جو فلاحی جمہوری ریاست اور نظام کا مخالف ہو۔ بنیادی بات یہ ہے کہ کیا بالا دست طبقات کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ان کے وہ ساجھے دار جو منتخب اداروں اور پالیسی سازی کے عمل میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں وہ بھی اصلاح احوال چاہتے ہیں؟۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اگر کمزوریوں کے باوجود موجودہ حکومت معاشی اصلاحات' غربت کے خاتمے ' وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنالیتی ہے تو ایک نئے دور کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لوگ تعصبات سے بالا تر ہو کر ملک و قوم کی ترقی کے لئے کردار ادا کریں تو اس سے کسی کو اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ تعصبات جنم کیوں لیتے ہیں۔ معاشرے کے نچلے طبقات جب یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی کسی شعبہ میں داد رسی ہوتی ہے نا نظام اور پالیسی سازی میں ان کاکوئی حصہ تو اس اس سے جنم لینے والی محرومیاں تعصبات کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ ان محرومیوں کی وجہ سے ہی تعصبات و انحراف کا کاروبار کرنے والوں کی دکانوں پر رونق لگتی ہے۔ حکومت کسی کی بھی ہو اس کا اولین فرض یہی ہوتا ہے کہ وہ عدم مساوات کے خاتمے کو ترجیح دے۔ مساوات وہ واحد صورت ہے جس سے تعصبات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کرے لیکن اگر محصولات کی وصولی کے عمل کو شفاف اور بلا امتیاز وضع کرکے آگے بڑھانا ہے تو پھر اشرافیہ کے مختلف الخیال طبقات سے شروعات ہونی چاہئے۔ کسے نہیں معلوم کہ کروڑوں روپے سالانہ کمانے والے چند ہزار روپے کا ٹیکس بھی نہیں دیتے۔ نظام میں بہتری تبھی آسکتی ہے کہ جب نظام کی حفاظت اور اسے چلانے پر مامور حضرات بھی خود کو جوابدہ سمجھیں۔ 22کروڑ انسانوں کے اس ملک میں نصف سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے کی بد ترین زندگی بسرکرنے پر مجبور ہے۔ حکومتوں کی پالیسی ہمیشہ بڑے طبقات کی ناز برداریوں کے لئے بنتی ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہو تو عوام بھی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں