Daily Mashriq

چین امریکہ تجارتی جنگ سے آگے کی باتیں

چین اور امریکہ کے درمیان ہماری ماضی کی فلمی اداکاراؤں کی طرح اس وقت ''نمبرون'' کی دوڑ جاری ہے۔ نمبر ون کی یہ دوڑ تجارت کے میدان میں تو جاری ہی تھی اب اس کے اثرات عسکری محاذ پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ جنوبی چین کے جزائر اور پانیوں میں امریکہ اپنی بالادستی کو کئی علاقائی ملکوں کیساتھ ملکر نہ صرف جاری رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس میں ایک نئے شراکت دار بھارت کا گہرا عمل دخل اور اثر ورسوخ بھی چاہتا ہے۔ چین نے نہایت خاموشی مگر سُبک رفتاری کیساتھ اپنی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کا عمل جاری رکھا۔ یہاں تک کہ دنیا کو اس کی معاشی ترقی اس وقت آشکار ہوئی جب وہ دنیا کی اقتصادی گاڑی کی فرنٹ سیٹ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ امریکہ ایک مقام پر آکر چین کی اقتصادی ترقی کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنے کو تیار تھا مگر ٹرمپ کے آنے کے بعد امریکہ نے اس حقیقت سے لڑنے اور ایک تاریخی اور تدریجی عمل کو ریورس گیئر لگانے کی ٹھان لی۔ امریکہ نے چینی مصنوعات پر محصولات کی شرح بڑھانے اور اسے تجارتی رعایتیں دینے کا سلسلہ ختم کر دیا۔ امریکہ نے یہ پالیسی پہلی بار اور صرف چین کیلئے ہی نہیں اپنائی بلکہ اس سے کینیڈا اور میکسیکو بھی اس پالیسی کی زد میں آتے رہے اور جواباً بھی امریکہ کو اسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ چین کا معاملہ ماضی کے ان واقعات سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت تھا اور اس کیلئے اقتصادی مشکلات صرف چین تک محدود نہیں رہ سکتیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ چین نے جوابی حکمت عملی کے طور پر امریکی مصنوعات پر محصولات کی شرح بڑھا دی اور یوں دونوں کے درمیان اقتصادی میدان میں ادلے کا بدلہ کا اصول مروج ہوگیا۔ دونوں کے درمیان اس تنازعے کو حل کرنے کیلئے مذاکرات اور بیک ڈور ڈپلومیسی بھی جاری ہے مگر دونوں اپنی اپنی روش پر قائم بھی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس کشمکش میں چین کا نقصان امریکہ کی نسبت زیادہ ہے۔ اس کے اثرات چین کی سٹاک مارکیٹ پر بھی اپنا اثر منفی انداز میں چھوڑ رہے ہیں۔ چین کی قیادت اب بھی پراعتماد لہجے میں ایسے کسی منفی اثر کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔ یہ اقتصادی جنگ اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ یہ دنیا کی پہلی اور دوسری بڑی معیشت کے درمیان جاری ہے۔ اسی لحاظ سے اس کا حجم اور شدت بھی زیادہ ہے۔ اس اقتصادی جنگ کا ایک محاذ پاک چین اقتصادی راہداری بھی ہے جسے روکنے کیلئے امریکہ بھارت کیساتھ ملکر پورا زور بازو صرف کئے ہوئے ہے۔ حسب ضرورت کئی دوسرے علاقائی ملکوں کو بھی سی پیک مخالف کیمپ میں جگہ دی گئی ہے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے وسائل کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ امریکہ اس منصوبے کو چین کے اقتصادی اور عسکری مستقبل کے حوالے سے اہم اور فیصلہ کن سمجھ کر اپنے ترکش کے سارے تیر ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہی جنگ اب عسکری محاذ پر بھی تیز ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ حد تو یہ کہ چین نے اپنے روایتی دھیمے پن کے برعکس تلخ انداز اپنانا شروع کیا ہے جس کا ایک ثبوت دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان سنگاپور میں ہونے والی لفظی جنگ ہے۔ سنگاپور میں مباحثہ برائے عالمی سیکورٹی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیردفاع پیٹرک شناہن نے اپنے خطاب میں چین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں چین کے روئیے کو خاموشی سے برداشت نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر دفاع کا لہجہ سخت مگر انداز مفاہمانہ تھا۔ دوسرے ہی روز اسی ڈائس اور اسی فورم پر فوجی وردی میں ملبوس چینی وزیر دفاع جنرل وئی فنگے نے امریکہ کو بے نقط سنا ڈالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تائیوان چین کیلئے مقدس سرزمین ہے امریکی بحریہ جنوبی چین کے سمندروں اور تائیوان میں مداخلت سے باز رہے اگر اس معاملے میں مداخلت کی گئی تو چین آخری حد تک لڑے گا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ تائیوان کو حاصل کرنے کیلئے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ چین کو تقسیم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی، امریکہ ناقابل تقسیم ہے تو چین بھی ناقابل تقسیم ہے۔ چینی وزیر دفاع کا یہ لب ولہجہ قطعی نیا اور حیران کن ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان معاملات میں شدید بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔ دونوں کے درمیان غلط فہمی کا معیار بہت بلند ہے۔ اس غلط فہمی کا خمیازہ پاکستان برسوں سے یوں بھگت رہا ہے کہ امریکہ پاک چین اقتصادی راہداری کو کسی طور ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کو تیار نہیں اور اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کی بھرپور سرپرستی ہورہی ہے۔ امریکہ تائیوان کو چین کا نرم پیٹ بنا کر اس کی چٹکیاں لے رہا ہے اور چینی تجزیہ نگار اس معاملے کی سنگینی کا اس انداز سے برملا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ اگلے برس دونوں ملکوں کے درمیان کھینچا تانی باقاعدہ تصادم کی شکل میں بھی بدل سکتی ہے۔ ٹرمپ نے تین برس قبل برسر اقتدار آنے کے بعد تائیوان کے سربراہ کو براہ راست ٹیلی فون کیا تھا جس پر چین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے سفارتی آداب وروایات کی خلاف ورزی اور چین کی خودمختاری کی توہین کہا تھا۔ اس کے بعد سے تائیوان امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کا محور بن کر رہ گیا ہے۔ تائیوان کے نام پر امریکہ کا بحری بیڑہ علاقے میں موجود ہے اور چین اسے اپنے لئے مستقل خطرہ قرار دے رہا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں