Daily Mashriq

موت آنے تک سانس لینے کی''عیاشی''

موت آنے تک سانس لینے کی''عیاشی''

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہیں بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا!

آج کا کالم تو اس موضوع پر باندھنا چاہتا تھاجسے آج کا ٹاپ ٹرینڈقرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے یعنی رویت ہلال کا قضیہ، لفظ قضیہ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے کیونکہ اب یہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ تین تین''مفتیوں'' کے بیچ مناقشہ بن کر رہ گیا ہے، دو مفتیان کرام کو تو آپ جانتے ہی ہیں جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے فواد چوہدری کو بھی ان کے اس بیان پر کہ خیبر پختونخوا میں جن لوگوں نے چاند کی شہادتیں دی ہیں ان کے خلاف مقد مات درج کرائے جائیں، انہیں''مفتی فواد چوہدری'' قرار دیدیا ہے، اس موضوع پر اب اس قدر مواد جمع ہو چکا ہے کہ ایسے کم از کم تین چار کالموں کی ایک سیریز لکھی جا سکتی ہے،تاہم مقطع میں سخن گسترانہ بات در آنے سے ٹاپ ٹرینڈ سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک اور موضوع پر طبع آزمائی کرنی پڑ رہی ہے جس کا اوپر درج شعر سے گہرا تعلق بنتا ہے۔بلکہ اب تو حالات کو دیکھ کر احساس ہورہا ہے کہ

ہم بھی ہیں کیا عجیب کڑی دھوپ کے تلے

صحرا خرید لائے ہیں برسات بیچ کر

سٹیٹ بنک آف پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو5لاکھ روپے سے زائد کے اکائونٹس ہولڈرز کی معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔سٹیٹ بینک نے ایف بی آر کو اپنے جواب میں لکھا ہے کہ موجودہ لیگل فریم ورک بنک کے کھاتہ داروں کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کی اجازت نہیں دیتا ،جبکہ سٹیٹ بنک کے پاس اکائونٹ ہولڈرز کا ڈیٹا بھی موجود نہیں ہے نہ اس کے پاس کوئی متعلقہ معلومات یاریکارڈ ہے اور قانونی رکاوٹیں بھی حائل ہیں،تاہم ایف بی آر یہ معلومات کمرشل بنکوں سے حاصل کرنے کا اختیار رکھتا ہے لہٰذا ایف بی آر براہ راست کمرشل بنکوں سے رابطہ کرے۔ سٹیٹ بنک نے ایف بی آر کو دوٹوک جواب دے کر ایک لحاظ سے بال اب کمرشل بنکوں کے کورٹ میں ضرور پھینک دیا ہے تاہم کیا کمرشل بنک اپنے ہراس کھاتہ دار کا ڈیٹا ایف بی آر کے حوالے کر کے خود بھی اسی رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوگا گے جو ان بنکوں اور ان کے کھاتہ داروں کے مابین اعتماد سازی کی بنیادہیں؟ اس میں شک نہیں کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے ملک کے مختلف شہروں سے ایسے بے نامی اکائونٹس کا پتہ چلا ہے جو کسی قلفی والے ،دہی بھلے والے، یا اسی قبیل کے دوسرے غریب لوگوں کے ناموں پر جعلی طریقے سے کھولے گئے ہیں اور جن سے منی لانڈرنگ کی وارداتوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں جبکہ جن کے نام پر یہ اکائونٹس موجود ہیں ان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں کہ وہ''کروڑوں'' کے مالک تھے مگر ان کے نام پر کھولے گئے یہ اکائونٹس ان کیلئے فلم سات لاکھ کے ان اکائونٹس سے بھی زیادہ حساس ہیں کہ فلم کی ہیروئن اپنے باپ کے ترکے والی رقم کم از کم گن تو سکتی تھی اگر خرچ نہیں کر سکتی تھی جبکہ ان بے نامی اکائونٹس کی تو'' مالکان'' کو ہوا بھی لگنے نہیں دی جارہی تھی، خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے۔ اصل مسئلہ تو سٹیٹ بنک کی وہ سٹیٹمنٹ ہے جس کے تحت ایف بی آر کمرشل بنکوں پر سارا بوجھ لاد دیا گیاہے یعنی اب وہ اکائونٹ ہولڈروں کی معلومات ایف بی آر کو فراہم کریں،تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرتے وقت کمرشل بنک بھی رازداری کے قوانین کے پرخچے نہیں اڑائیں گے؟ ہاں اگر کسی اکائونٹ پر یہ شک پڑ جائے کہ اس کے ذریعے منی لانڈرنگ ہو رہی ہے تو بے شک ملکی سالمیت اور بقاء کے تقاضوں کے پیش نظر ایسا کیا جانا رازداری کے قوانین کی اصولی اور اخلاقی طور پر خلاف ورزی نہیں ہوگی، جبکہ بقیہ اکائونٹس جن پر اس قسم کے الزامات ہوں نہ شکوک کا اندیشہ ہو تو ان کو لیک کرنے کے حوالے سے سوال بھی اٹھیں گے اور اکائونٹس ہولڈروں کے اعتماد کو ٹھیس بھی پہنچے گی۔ویسے بھی پانچ یادس لاکھ روپے کی موجودہ حالات میں ویلیو ہی کیا ہے، اور اتنی رقوم تو عام طور پر بے چارے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اپنی گریجویٹی وغیرہ کی وصولی کے بعد عموماً بنکوں میں رکھ کر اپنے لیئے ماہانہ اخراجات میں سہولیات کے حصول کا اہتمام کرتے ہیں، یا بیوائوں کے نام پر ایسے اکائونٹ موجود ہیں ،جن میں چند لاکھ کی پڑی ہوئی یہ رقم تو حالیہ چندہفتوں کے دوران ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدروقیمت کھو چکی ہے یعنی یہ رقم تو پڑے پڑے ہی اس بلی کی مانند لاغر ہوچکی ہے جسے ایف بی آر''سخت سردی اور بارش'' میں نہالانے کی کوشش کر رہا ہے، اورڈر ہے کہ اگر اسے''نچوڑا'' گیا تو نہ بلی رہے گی نہ اس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی وزیراعظم کی خواہش پوری ہوسکے گی، ویسے بھی5یا10لاکھ روپے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر کیا تیر مار سکے گی حکومت؟ اور مجھے تو اب یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر حالت یہی رہی تو انشاء اللہ جلد ہی سانس لینے پر بھی ٹیکس عائد کردیا جائے گا ،یعنی وہ جو افغانستان کے بادشاہ کے حوالے سے مشہور ہے کہ اس کے پاس گاجریں بطور تحفہ لانے والے کو یہ گاجریں''منہ'' میں ٹھونسنے کے دوران ہر باروہ''آخیربہ خیر''کا ورد کرتے دیکھا گیا کیونکہ بوری یا تھیلے کے نچلے حصے میں موٹی موٹی گاجریں تھیں، تواس صورتحال پر ہم بھی آخر بہ خیر ہی کہہ سکتے ہیں۔ بقول جون ایلیائ

سوچتا ہوں کہ موت آنے تک

زندہ رہنے میں کیا قباحت ہے

متعلقہ خبریں